یہ ممکن ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی مذہب کا پیرو کار نہ ہو ٗ یا پھر کسی مذہب یا کسی مذہبی مسلک سے اپنا سلسلہ نہ جوڑ تا ہو ۔ ہم نے رٹا رٹایا ایک جملہ یاد کر رکھا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن یہ آدھا سچ ہے کیونکہ اگر دہشتگردکا کوئی مذہب ہی نہیں ہوتا تو پھر وہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں یا دوسری مسالک کے ماننے والوں پر حملہ آور کیوں ہوتا ہے ؟ پھر جرم میں مجرم کے جرم کرنے کی نیت دکھائی نہیں دیتی ۔ کیا ایسے بیانات سے ہم ملزم کو جرم سے بری الذمہ قرار نہیں دے دیتے کیونکہ کوئی بھی جرم وجہ کے بغیر تو ممکن ہی نہیں ۔ پاکستان میں حالیہ خود کش بم دھماکوں نے ایک بار پھر ہمیں وہیں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے یہ سفر شروع ہو ا تھا ۔ اسلام آباد سے لے کر بنوں اور باجوڑ تک پہ در پہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران سانحات کا ظہور پذیر ہونا اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ افغانستان میں مقیم خوارج کے ہنڈلرز نے اپنے آقائوں کی ایما پر یہ بدترین اور گھنائونے جرائم سرانجام دیئے ہیں ۔ افغان سرزمین ہمیشہ کرائے کے قاتلوں کی آماجگاہ رہی ہے اور موجودہ خود کش حملوں کی ذمہ داری بھی وہیں سے قبول کی گئی ہے جس میں افغانستان میں پناہ لئے پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان شامل ہیں۔افغان طالبان کی حکومت پر زور دینے کی ہر کوشش کے بعد خود کش حملوں کے نئے سلسلے کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ نائن الیون کے بعد جب ملا ں عمر سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا اور بصورت دیگر امریکہ نے جنگ کی دھمکی دی تو ملاں عمر نے صاف الفاط میں کہا تھا کہ ’’ جنگ سے وہ ڈریں جو حالت امن میں ہیں۔‘‘ یعنی جنگ افغانوں کی انڈسٹری ہے اور صدیوں سے نہیں ہزاریوں سے ہے ۔ اگر بیرونی حملہ آور نہ بھی ہوں تو یہ آپس میں برسرِ پیکار رہتے ہیں ۔ سو اِن حالات میں ایک طرف تو افغان طالبان ہیں تو دوسری طرف پاکستانی طالبان اور اس تثلیث کا تیسرا کونا بھارت ہے جواب اعلانیہ اپنی پراکسی وار کی نہ صرف حمایت کر رہا ہے بلکہ بھارتی دانشور تو مودی سرکار کو بجٹ میں بلوچستان کے حوالے سے ایک بڑا بجٹ رکھنے اور اُس کے فوائد بتاتے بھی نظر آ رہے ہیں ۔میں اس بات سے ہر گز متفق نہیں کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں یا غیر ملکی پراکسیز کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ میں اس حوالے سے مکمل کلیئر ہوں کہ یہ سب کچھ افغان طالبان حکومت کے ایما پر ہو رہا ہے اور پاکستان کے ادارے بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ افغانستان کی طالبان حکومت کی پشت پر بھارت کا مکمل ہاتھ ہے ۔ پاکستان کا عبوری افغان حکومت سے کسی قسم کی بھی توقع رکھنا بے سود ہو گا کہ وہ اپنی کوئی ریاستی ذمہ داری پوری کریں گے کیونکہ وہ پاکستان کے چھپے نہیں کھلے دشمن ہیں اورمجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی منافقت نہیں کر رہے۔ افغان طالبان خوارج اور دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے ہرگز انکار نہیں کریں گے ۔ پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست ِ پاکستان کی ہے اور اس کیلئے ہمیں افغانستان ہی نہیں بھارت کیلئے بھی بہترین حکمت ِ عملی بنا نا ہو گی ۔ عالمی برادری کو جب خود طالبان سے خطرہ تھا تو انہوں نے لاجسٹک سپورٹ کے نام پر سب کچھ پاکستان لے لیا تھا لیکن اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد وہ اپنا اسلحہ ٗ ٹیکنالوجی ٗ تربیت اور پاکستان مخالف اذہان سب کچھ چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئے اورہم نے جو چائے کا ایک کپ پیا تھا اُس کے تھوڑی دیر بعد ہی تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا معاہدہ ختم کردیا تھا ۔ افغانستان کے طالبان ہوں یا تحریک طالبان پاکستان ٗ ایک بات تو طے ہی کہ یہ تواتر اور تسلسل کے ساتھ عہد شکنی اور معاہدوں کو پامال کرنے کی ایک تاریخ ہے ۔وہ مستقبل میں بھی کبھی اور کسی صورت اپنی ان کارروائیوںسے باز نہیں رہیں گے اور جب بھارت پاکستان کے خلاف دشمنی کا حق بھی پورا ادا کر رہا ہے تو ان حالات میں ہمیں سب سے پہلے تو داخلی سیاسی استحکام کو ہنگامی بنیادوں پر راہ راست پر لانا ہو گا کہ داخلی استحکام کے بغیر آپ خارجی دشمن سے نمٹنے کی صلاحیت کمزور کر بیٹھتے ہیں ۔ ہر گزرتا ہوا دن تحریک طالبان اور انہیں کنٹرول کرنے والوں کو مزید وقت فراہم کر رہا ہے اور شاید موجود ہ حالات میں وقت ہی اُن کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ دوحہ مذاکرات ہوں یا ترکی کی نامکمل گفتگو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک کمینے دشمن اور اُس کی پراکسی سے برسرِ پیکار ہیں گو کہ افواج پاکستان نے ایک بار پھر وطن عزیز کے جغرافیے سے نکل کر پاکستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا۔ انٹیلیجنس بیس ائر سٹرائیک میں افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کے 7مراکز پر حملے کیے جس میں 80 سے زائد خوارج کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاع ہے جبکہ ٗنیا مرکز نمبر ۱، ننگرہار ٗنیا مرکز نمبر ۲، ننگرہار ٗخارجی مولوی عباس مرکز، خوست ٗخارجی اسلام مرکز، ننگرہار ٗخارجی ابراہیم مرکز، ننگرہار ٗخارجی ملا رہبر، پکتیکا اورخارجی مخلص یارمرکز ، پکتیکا شامل ہیں۔افغانستان کی عبوری طالبان حکومت ایک طرف تو اپنے ملک میں الیکشن کرا کر اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اوردوسری طرف ٹی ٹی پی اور اُس کے ذیلی گروپس کی معاون اور مددگار بنا کر پاکستان پر حملے کرانے میں مصروف ہے جبکہ پاکستان کی جوابی کارروائی پر افغان معاملات میں مداخلت کا شور بھی مچانا شروع کر دیتی ہے۔
افغان طالبان کی پاکستان مخالف جنگی پالیسی
09:03 AM, 24 Feb, 2026