اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جیل ملاقاتوں کو کاروباری سرگرمی بنا دینے کا الزام وکلا پر عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا عمران خان سے ملاقات کے بعد یوٹیوبرز کو معلومات فراہم کرتے ہیں، جسے ایک تجارتی سرگرمی میں تبدیل کر لیا گیا ہے۔
عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں 80 سے 90 ہزار قیدی ہیں اور جیل ملاقاتیں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی قیدیوں کو ملاقات کا موقع نہیں ملتا تھا لیکن پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مسلسل ملاقاتیں دی جا رہی ہیں۔ سینیٹر نے جیل کے اصولوں کے خلاف ملاقات کے مطالبات پر بھی اعتراض کیا۔
عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے الزامات پر بھی کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو پی ٹی آئی کو اسمبلیوں سے استعفے دے کر احتجاج شروع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی اسمبلیوں میں بیٹھ کر مراعات لے رہی ہے، جو اس کے موقف کے خلاف ہے۔