یہ کسی فرد واحد کے خلاف الزامات کا دفتر نہیں، بلکہ ایک بے مثال بیانیے کے عبرتناک زوال کی داستان ہے۔ یہ اس نعرے کی شکست کا نوحہ ہے جو دو دہائیوں تک ہماری سیاسی فضا میں پوری شدت سے گونجتا رہا، جو پُرشکوہ جلسوں کی دھول میں بھی سنائی دیتا تھا اور سوشل میڈیا کے بے ہنگم شور میں بھی کانوں کے پردے پھاڑتا تھا۔ یہ نعرہ تھا کرپشن کے خلاف جنگ۔ ایک ایسا نعرہ جسے عمران خان نے تیغ بے نیام کی طرح لہرا کر خود کو سیاست کا آخری صالح مرد ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ خود کو دودھ کا دھلا سمجھنے لگتے ہیں، وقت انہیں کردار کے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
عمران خان کی سیاست کا آغاز ہی ایک اخلاقی برتری کے بلند آہنگ دعوے سے ہوا۔ وہ خود کو روایتی سیاست دانوں سے مختلف ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ان کی آواز میں غصہ تھا، آنکھوں میں شعلے اور الفاظ میں وہ تند و تیز کاٹ جو ہجوم کو مسحور کر دیتی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ ملک چوروں اور لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے اور وہ اسے پاک کرنے آئے ہیں۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ قوم کا ایک بڑا حصہ اس کہانی پر ایمان لے آیا۔ کیونکہ کہانیاں جب سادہ ہوں اور ولن واضح ہو تو سننے والا سوال کم اور یقین زیادہ کرتا ہے۔
مگر ہر کہانی کا ایک پس منظر ہوتا ہے اور عمران خان کی کہانی کا پہلا باب کرکٹ کے میدان میں کھلتا ہے۔ وہ دن جب گیند کے ساتھ غیر قانونی چھیڑ چھاڑ کے الزامات نے پہلی بار ان کے گرد سوالیہ دائرہ کھینچا۔ پھر کیری پیکر سیریز کا فیصلہ آیا لیکن اس دور میں اسے محض ایک کھیل کا معاملہ سمجھا گیا، مگر درحقیقت یہ اس ذہنیت کا اظہار تھا جو اصولوں سے زیادہ موقع کو عزیز رکھتی ہے۔ کرکٹ اسٹیبلشمنٹ نے اسے پیسے کی چمک کے سامنے سر جھکانے کا نام دیا۔ یوں اصول پسندی کے دعوے پر پہلا دھبہ لگا۔
سیاست میں قدم رکھا تو شوکت خانم ہسپتال کو اخلاقی ساکھ کی بنیاد بنایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہسپتال ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی کرن بنا، مگر اسی امید کو سیاسی ڈھال بنانا ایک الگ سوال ہے۔ عطیات کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کا جواب کبھی شفاف وضاحت سے نہیں دیا گیا۔ الٹا ناقدین کو بد نیت قرار دیا گیا اور سوال کو سازش کہہ کر رد کر دیا گیا۔ ایک فلاحی ادارہ، جو محض خدمت کے لیے ہونا چاہیے تھا، سیاسی تقدس کی علامت بنا دیا گیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں اخلاق اور سیاست کا فرق دھندلانے لگا تھا۔
پھر وقت کے ساتھ اصل بحران نے سر اٹھایا، یعنی تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا معاملہ۔ برسوں تک یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ یہ جماعت واحد سیاسی قوت ہے جو بیرونی یا مشکوک ذرائع سے پیسہ نہیں لیتی۔ یہ دعویٰ بھی اسی یقین کے ساتھ دہرایا گیا جس طرح کرپشن کے خلاف جنگ کا نعرہ بلند کیا گیا تھا۔ مگر الیکشن کمیشن کے فیصلے اور دستیاب ریکارڈ نے اس کہانی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ غیر ملکی اکاؤنٹس، پوشیدہ عطیات اور غلط بیانی پر مبنی سرٹیفکیٹس نے ثابت کیا کہ مالی شفافیت کا یہ قلعہ محض ریت پر کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کرپشن کے خلاف بلند آواز خود اپنے بوجھ سے لرزنے لگی۔
اقتدار میں آ کر یہ تضاد اور نمایاں ہوا۔ احتساب کا نعرہ ایک مخصوص سمت میں استعمال ہوا۔ مخالفین کے لیے قانون تلوار بن گیا اور اپنے اردگرد موجود بدعنوانی پر خاموشی طاری رہی۔ القادر ٹرسٹ کیس اسی دوہرے معیار کی ایک سیاہ مثال ہے۔ ریاستی اثاثے، قیمتی زمین اور نجی مفادات کا گٹھ جوڑ۔ یہ سب کچھ اس تصور سے میل نہیں کھاتا جو عمران خان نے قوم کے سامنے پیش کیا تھا۔ طاقت کے ایوانوں میں قدم رکھتے ہی اصول ثانوی اور مفاد اول بن گیا۔ پھر توشہ خانہ کے معاملات سامنے آئے اور اصل تصویر پر چھائی دھند چھٹنے لگی۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے دُہرانے کی ضرورت نہیںکہ یہ اب عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ محض حساب کتاب کی چالاکی نہیں تھی بلکہ یہ امانت میں خیانت کا وہ باب ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔
اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام کہا جبکہ حکومت نے انصاف کی فتح قرار دیا۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا کہا؟ اصل سوال یہ ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ کا دعویدار اس مقام تک کیسے پہنچا؟
عمران خان کے حامی اسے سازش کا نام دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر الزام دشمنی ہے، یعنی پی ٹی آئی کے نزدیک ہر مقدمہ انتقام اور ہر عدالتی کارروائی منصوبہ بندی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ مقدمات محض سیاسی تقاریر پر نہیں بلکہ دستاویزی شواہد، مالی ریکارڈ اور قانونی کارروائیوں کی مضبوط اساس پر کھڑے ہیں۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد کا تقاضا یہ تھا کہ عمران خان سب سے پہلے خود کو احتساب کے کٹہرے میں پیش کرتے۔ مگر انہوں نے سوال سے فرار کو حکمت عملی بنا لیا۔
کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک، عمران خان کی کہانی تضادات سے بھری پڑی ہے۔ ایک طرف بلند بانگ دعوے اور دوسری طرف ایسے اقدامات جو انہی دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ سیاست میں سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ جب الفاظ عمل سے جدا ہو جائیں۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں حوالہ بھی یہی بن چکا ہے۔
تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔ وہ نعروں کو نہیں، کردار کو یاد رکھتی ہے۔ وہ تقاریر کو نہیں، فیصلوں کو دیکھتی ہے۔ آج جب عدالتی فیصلے، مالی تفصیلات اور شواہد ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ کرپشن کے خلاف جنگ کا نعرہ ایک اخلاقی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا مگر عملی طور پر وہ خود اسی دلدل میں دھنس گیا جس سے قوم کو نکالنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہی تضاد اور یہی دوغلا پن عمران خان کے سیاسی سفر کا سب سے بھاری بوجھ بن کر ان کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔
بے مثال بیانیے کے عبرتناک زوال کی کہانی
09:06 AM, 24 Dec, 2025