گزشتہ ہفتے جب میں کالم لکھنے بیٹھا تو سہیل وڑائچ صاحب کا کالم چھپ چکا تھا ۔اس کالم نے چائے کی پیالی میں ایک طوفان برپا کیے رکھا ۔یہ پیالی والا طوفان ایک ہفتے میں کئی موڑکھاتا ہوا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی واضح تردید کے بعد بقلم خود سہیل وڑائچ کی جانب سے وضاحت الوضاحت کے بعد اسی چائے کی پیالی میں دم توڑ چکا ہے۔سہیل صاحب نے درست فرمایا کہ انہوں نے کالم میں کسی انٹرویو کی بات نہیں کی تھی لیکن بعض اوقات الفاظ سے زیادہ الفاظ لکھنے کے لیے بنایا اور سجایا جانے والا ماحول وہ تاثر بنادیتا ہے کہ الفاظ کی لکیر پس منظر میں چلی جاتی ہے اوروہ تاثر اپنا کام کرجاتا ہے جو لکھاری پید اکرناچاہتا ہے۔وڑائچ صاحب اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں انہیں الفاظ کے استعمال کا پتہ ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ لکھے گئے اس تاثر کی تردید ہونا طے ہے کہ جناب فیلڈ مارشل صاحب اس طرح کسی صحافی کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے جو ان کی شخصیت یا عہدے کے لیے مناسب نہ ہو۔
جس کالم کی تردیدووضاحت کی بات ہورہی ہے وہ ایک آغاز تھا۔کنفیوژن میں اضافہ یا ماحول مکمل خراب اس لیے ہوا کہ وڑائچ صاحب نے ایک کالم پر بس ہی نہیں کی انہوں نے آگے پیچھے ایک ہی پیرائے میں تین کالم لکھ مارے ۔دوسرے دن جو لکھا اس سے مزید تاثر پکا ہوگیا کہ شاید وڑائچ صاحب کو کسی نے اس کام پر باقاعدہ لگایا ہے۔اس کالم میں انہوں نے معافی نہ مانگنے پر ذوالفقار علی بھٹو کی مثال لکھ ماری جس کے بعد پی ٹی آئی کے ذلفی بخاری نے پوسٹ کیا کہ اس کالم کے ذریعے عمران خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔جس کے بعد بروقت ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری نے معاملے کی مکمل وضاحت کے ساتھ تردید کرکے اس پیالی والے طوفان کے آگے سچائی کا بندباند ھ دیا ۔
سہیل صاحب میرے استاد ہیں اور لکھنے لکھانے کا بے پناہ تجربہ رکھتے ہیں ۔اس موقع پر ہر کوئی ان سے حساب برابر کرنے کی تاک میں ہے۔ان کے لکھے سے جس نے جو بھی تاثر لیا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔ہمارا مسئلہ ایک یہ بھی ہے کہ یہاں کام کرنے والے اصل لوگ کم ہیں لیکن کیے گئے کام کی تشریح اور تفسیر لکھنے والے بہت زیادہ ہیں ۔ایسے لوگوں کی کبھی بھی کمی نہیں تھی لیکن اب سوشل میڈیا کی صورت ’’باندر‘‘کے ہاتھ میں ماچس آگئی ہے تو سونے پہ سہاگہ ہوگیا ہے۔ہم سہیل صاحب اور ان کے لکھے کو چھوڑ کر آگے اصل ایشو کی طرف آتے ہیں ۔یہ ایشو جس کی وجہ سے سارا دربار لگا ،چائے کی پیالی میں طوفان آیا وہ ایشو عمران خان صاحب ہیں۔اس ہفتے ان کو اس سپریم کورٹ سے ریلیف ملا اور بہت زیادہ ملا،جو سپریم کورٹ ان کے بقول چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ رہی ہی نہیں بلکہ ایک حکومتی محکمہ بن چکی تھی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب یحیٰ آفرید ی صاحب نے عمران خان کی نومئی کے مقدمات میں ضمانت منظورکرلی۔اس ضمانت کے بعد وہ رہا تو نہیں ہوئے نہ ہی ہوں گے کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ سال کی قید کاٹ رہے ہیں ۔جب تک اس کیس کی اپیل کا فیصلہ ہوگا اس وقت تک نومئی کے کئی ایک مقدمات کا فیصلہ آجائے گا اور نومئی کے کیسز کے جو فیصلے آرہے ہیں ان میں زیادہ تر کو سزائیں سنائی جارہی ہیں۔لاہور کے کورکمانڈر(جناح ہاؤس )کے بعد سب سے زیادہ خطرناک کیس جی ایچ کیو حملہ کیس ہے اور اس کیس کا ٹرائل بھی جیل میں ہی ہورہا ہے۔اس کی کئی ایک سماعتیں ہوگئی ہیں۔عمران خان صاحب سمیت درجنوں ملزموں پر فرد جرم لگ چکی ہے اور یہ کیس بھی چند مزید سماعتوں کے بعد فیصلے تک پہنچ جائے گا ۔اس کیس میں عمران خان صاحب کو سزا ہونا نوشتہ دیوار ہے ۔
عمران خان کو معافی مانگنے کا مشورہ دے کر سہیل وڑائچ نے کوئی نئی بات نہیں کی ۔یہ بات ایک سال پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر جناب جنرل احمد شریف چودھری پوری قوم کو ایک پریس کانفرنس میں بتاچکے ہیں۔ان کا واضح موقف ہے کہ نومئی کسی شخصیت یا محض ایک ادارے کا مقدمہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مقدمہ ہے عوام کا مقدمہ ہے اس لیے ایسے کاموں کی صدق دل سے معافی مانگنی پڑے گی اور معافی ہی وہ راستہ ہے جس سے پارٹی اور ان کا بھلا ہوسکتا ہے ۔سوال بڑا یہ ہے کہ عمران خان اس راستے کو انتخاب کیوں نہیں کررہے۔جواب یہ ہے کہ وہ اس راستے کا انتخاب محض اس لیے نہیں کررہے کہ وہ کوئی بڑے انقلابی ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے بڑے مخالف ہیں ان کی ساری سیاسی زندگی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے گزری ہے۔ وہ اقتدار میں بھی اسی راستے سے آئے اور بظاہر اسی راستے سے نکالے گئے ۔ان کو غصہ اس بات کا ہے کہ ان پر کسی اور کو کیوں ترجیح دی گئی ۔وہ اب بھی اسی راستے سے واپس اقتدار چاہتے ہیں جس کا اظہار وہ کرتے ہیں کہ مذاکرات اور بات چیت صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی کریں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ بات اسٹیبلشمنٹ سے کریں وہ ان کو دوبارہ اقتدار بھی عطاکریں لیکن ان پر کسی قسم کی ڈیل کا الزام بھی نہ آئے ۔میں اکثر کہا کرتاہوں کہ عمران خان ایسی ڈیل چاہتے ہیں جو ہو تو ڈیل لیکن وہ لگے انقلاب ۔اب ایسی کوئی ’’انقلابی ڈیل‘‘ پاکستان میں ابھی تک بنی ہی نہیں ہے۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان معافی مانگیں گے ؟ یا ان کو معافی مانگ لینی چاہئے ؟ ان دونوں کا جواب اس لیے مشکل ہے کہ کیونکہ عمران خان صاحب نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو جس طرح دشنامی تربیت کرکے تیار کیا ہے وہ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔گزشتہ دوسالوں میں جس طرح عمران خان صاحب نے اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی مسلح افواج کی کردار کشی کی ہے۔جس طرح ذہن سازی کی ہے عمران نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔اور معافی تو فوج کو مانگنی چاہئے اور پھر سی سی ٹی وی سامنے لائی جائے ،کوئی کمیشن بنایا جائے وغیرہ وغیرہ۔ اب وہ خود جیل میں ہیں جو اندازے انہوں نے لگائے تھے کہ ان کو جیل میں رکھنے کی اس سسٹم میں ہمت ہی نہیں ہے وہ اندازے غلط نکل چکے ہیں۔وہ یوٹرن لینا چاہتے ہیں لیکن باہر بیٹھے جو ’’کی بورڈجہادی ‘‘ ہیں وہ ایسی کسی بھی تجویز سے پہلے ہی شوربپا کردیتے ہیں کہ عمران خان سوسال جیل کاٹ لے گا لیکن اس سسٹم سے ڈیل نہیں کرے گااس کے بعد عمران خان صاحب کے لیے معافی تلافی کی بات مشکل ہوجاتی ہے۔اوپر سے ریاست بھی اس وقت تک کوئی ایسی نرمی نہیں چاہتی جو مستقبل میں ایسی سوچ اور ایسی سنگ باری کا راستہ ہموار کردے جو اپنے ہی اداروں کو نقصان پہنچائے ۔ویسے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ ریاست عمران خان کو دوہزار چودہ میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے کے جرم میں ہی سزا دیتی تاکہ نومئی نہ ہوتا لیکن اس وقت عمران خان صاحب اداروں کے لاڈلے تھے اس لیے پارلیمنٹ پر حملے کے انعام کے طورپران کو اس ملک کا وزیراعظم بنادیا گیا۔اب جب اسٹیبلشمنٹ اس طرح کرے گی کہ ایک شخص جس کو سزا دینی چاہئے تھی اس کو انعام دے دیا جائے تو اس کا حوصلہ اتنا بڑھے گا کہ وہ ایک دن نومئی کی طرح اسی ادارے پر حملہ آور ہوگا جس طرح عمران خان اور پی ٹی آئی حملہ آور ہوئی ۔اب یہی احساس عمران خان کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔معافی ا ن کی مشکلات کا خاتمہ نہیں خاتمے کا آغازبن سکتی ہے ۔
رہائی رکاوٹ
04:27 PM, 24 Aug, 2025