غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 63 فلسطینی شہید، تل ابیب میں مظاہرے جاری

03:26 PM, 24 Aug, 2025

غزہ : غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں مزید 63 فلسطینی مارے گئے اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں چند بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت ہوئے جب تل ابیب میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

تل ابیب کے ہوسٹیج سکوائر میں اسرائیلی شہری اپنے قیدی پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں حماس نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اہل خانہ کہتے ہیں کہ لڑائی بڑھنے سے یرغمالیوں کی جان کو شدید خطرہ ہے اور حکومت کو جلد مذاکرات کرنے چاہئیں۔

ہبیما سکوائر میں عرب اور یہودی دونوں نے مل کر جنگ بند کرنے اور بھوک کے خاتمے کے لیے نعرے لگائے، ’’نسل کشی بند کرو، غزہ سے جنین تک بچوں کا قتل بند کرو‘‘ کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے فلسطینی بچوں کی تصاویر بھی اٹھائی تھیں جو بھوک سے متاثر ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 49 قیدی ہیں، جن میں 22 کے زندہ ہونے کے امکانات ہیں، جن میں 2 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ اہل خانہ حکومت سے فوری معاہدہ کرنے کا کہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے خیال میں زندگیاں بچانے کا آخری موقع ہے۔

تل ابیب سمیت ملک بھر میں ایک بڑی ہڑتال بھی ہوئی جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ یہ ہڑتال ہوسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم اور اکتوبر کونسل نے بلائی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہوسٹیج سکوائر میں جمع ہوں۔

تل ابیب میں پولیس نے ایک 61 سالہ خاتون کو گرفتار کیا، جو غزہ کے لیے جان و خون قربان کے نعرے لگا رہی تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے شمالی غزہ میں قحط کی سنگینی ظاہر کی ہے، جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ بھوک سے پریشان ہیں اور توقع ہے کہ ستمبر تک یہ تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ غزہ شہر بھی اس بحران سے متاثر ہے۔

مزیدخبریں