امریکہ کی ایران کو 'آخری وارننگ': نئی ایٹمی ڈیل یا سنگین عسکری نتائج کا انتباہ

05:16 PM, 24 Apr, 2026

واشنگٹن : امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر واشنگٹن سے ایک انتہائی سخت پیغام سامنے آیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ وہ تہران کے لیے پیش کی گئی نئی "ڈیل" کو فوری طور پر قبول کر لے، بصورتِ دیگر اسے اپنے ایٹمی پروگرام کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
امریکی حکام نے ہنگامی بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی کے تحت محکمہ دفاع اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ  ہم یہ مسئلہ سفارتی ذرائع اور ایک بہتر معاہدے کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ایران نے ہٹ دھرمی برقرار رکھی تو امریکہ 'سخت ترین اقدامات' (The Hard Way) سے گریز نہیں کرے گا۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکی بحریہ نے ایران سے وابستہ مشکوک تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایسے جہازوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی جو ایران کو مادی یا عسکری امداد فراہم کرنے کے شبہ میں ہوں گے۔امریکی موقف کے مطابق، خطے میں تجارتی گزرگاہوں کا تحفظ عالمی قوانین کے تحت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے "بحری ناکہ بندی" (Blockade) جیسی اصطلاحات کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب ایران کی معیشت کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے والا ہے۔ یہ اقدامات ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کی ایک کڑی معلوم ہوتے ہیں، جسے ایران کی معیشت کے لیے "آخری کیل" قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں