ایران نے دو ایٹمی طاقتوں کو مار مار کر ان کا بھرتہ بنا دیا ہے۔ بالکل آلو کے بھرتے جیسا جس میں آلو پس جاتا ہے پھر کہیں نظر نہیں آتا۔ وقت کے دو فرعونوں کا غرور آبنائے ہرمز میں غرق ہو گیا بصد ہزار کوشش وہ اسے نہ کھلوا سکے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے تاثر کی موت کے ساتھ اب ڈالر کی موت یقینی ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود فریقین مذاکرات کی میز پر نہ پہنچے۔ فتور امریکہ کا تھا ورنہ پہلے ہی دور میں سمجھوتہ ہو سکتا تھا لیکن عین اس وقت امریکی ٹیم کو حکم آیا کہ سب کچھ چھوڑو اور واپس پہنچو۔ جارح کی نیت واضح ہو چکی تھی۔ عرض کیا تھا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ امریکی نائب صدر کو ہیرو نہیں بننے دیں گے۔ آج کل پاکستان اور امریکہ اپنے مثالی تعلقات کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ دونوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے یک جان دو قابل ہیں لیکن امریکہ کو اپنے عزیز ترین دوست کی جان کا دشمن بنتے دیر نہیں لگتی کہیں لکھ کر رکھ لیں نظر آنے والی تمام تر محبت کے باوجود امریکہ پاکستان کی جھولی میں ایک بڑی جنگ بندی ایک بڑے معاہدے کی کامیابی کبھی نہیں ڈالے گا۔ اب تک ہماری خدمات اس لئے حاصل کی گئیں کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے جو پیغام رسانی ہم کر سکتے تھے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ امریکہ جب بھی پاکستان اور چین کو اپنے مفادات کے پلڑے میں رکھے گا تو چین کا وزن زیادہ ہو گا۔ بڑا ملک، بڑی آبادی، بڑی مارکیٹ ، بڑی اقتصادی قوت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت ہے جو بہت تیزی سے اب ہمارے آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا بس اسی اہمیت کے سبب امریکہ جنگ بندی اور کسی بڑے معاہدے کا احسان۔ پاکستان کے سر پر دھرنے کی بجائے چین کی جھولی میں ڈالے گا۔ وہ چین کو خوش کر کے روس پر اس کا اثر استعمال کر کے یوکرین کے معاملے میں فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ کا پاکستان کے ساتھ کسی بھی معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں ہے جبکہ چین امریکہ کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کی اہمیت یوں دوچند ہو جاتی ہے کہ خطے کی ایک بڑی طاقت روس چین کے ساتھ کھڑی ہے جو ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ تیل کی دولت سے مالامال ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے کسی حد تک وابستہ ہیں۔ تیل کے تمام دکاندار اپنا اپنا تیل بیچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ دشمن کے تیل کی فروخت روکنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے دشمن کی دکان چلنے کی بجائے ان کے دوست کا تیل بکتا رہے، بس یہ ایک نکتہ خطے کی سیاست اور جنگی جنون کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کیوں نہ ہو سکا، اس کی متعدد وجوہات پیش کی جا رہی ہیں لیکن پردے کے پیچھے جو سازش تیار تھی۔ اس پر بات کرنے کا حوصلہ کہیں نظر نہیں آتا جو یہ بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ان پر میڈیا کے دروازے بند ہیں ان پر پہرے بٹھائے گئے ہیں کہ کہیں کوئی سچی بات دنیا تک نہ پہنچ جائے۔
مذاکرات کے پہلے دور پر نظر ڈالیں تو واضح نظر آتا ہے کہ امریکہ اور امریکی مذاکراتی ٹیم میڈیا کے حواس پر چھائی ہوئی تھی، ہیڈلائنز تھیں۔ امریکی نائب صدر روانہ ہو گئے، اب پاکستان پہنچ گئے، اب جان گسل مذاکرات میں مصروف ہیں، اب اچانک کپڑے جھاڑ کر اٹھ بیٹھے اور اب امریکہ روانہ ہو گئے۔ دنیا کا میڈیا جارح کے ساتھ کھڑا تھا اور امریکہ کی تیل مالش میں مصروف تھا۔ مذاکرات کے بعد ایرانی وفد جس طرح بچتا بچاتا گھر پہنچا وہ ان کے ترجمان دنیا کو بتا چکے ہیں۔ اب چند روز بعد وہ مزید رازوں سے پردہ اٹھائیں گے۔ دوسرے راﺅنڈ سے قبل امریکی صدر عندیہ دے چکے تھے کہ معاہدہ ہوا تو اس پر دستخط کرنے کے لئے وہ خود آئیں گے۔ یہ اسی قسم کا چارہ تھا جو مچھلی پکڑنے کے لئے کانٹے میں لگایا جاتا ہے لیکن سازش کا تانا بانا روس اور چین کی انٹیلی جنس ایجنسیوں تک پہنچ چکا تھا۔ ذرائع کے مطابق لولے لنگڑے معاہدے کے بعد امریکی صدر موقف اختیار کرتے کہ ایران نے ان کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈال دیئے ہیں جس کے بعد اب امریکہ اسے دعائیں دینے کے لئے تیار ہے۔ میڈیا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے بعد ٹرمپ کشاں کشاں ”مدر آف آل ڈیل“ کا تمغہ سینے پر سجائے امریکہ پہنچتے جہاں پروگرام کے مطابق عظیم الشان ریلیاں استقبالیے ان کے منتظر ہوتے، وہ اپنی اس جیت کو اپنے مڈٹرم انتخابات کے لئے استعمال کرتے جبکہ ایران کے پلے کچھ نہ رہتا، ان کے عوام ان کی لیڈرشپ کی قربانیاں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتیں۔ سازش کا دوسرا مرحلہ نہایت خطرناک تھا۔ ایرانی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے حوالے سے بہت کچھ سامنے آچکا ہے۔ اسرائیل کا یہ منصوبہ اب کوئی راز نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی اعلیٰ ترین سول اور ملٹری قیادت کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ وہ اب فیصلہ کن وار کی تیاری مکمل کر چکا تھا۔ ایرانی قیادت کے پاکستان سے پرواز کرتے ہی ان کے جہاز میں فنی خرابی کو یقینی بنایا جا چکا تھا۔ جب سب کچھ ہو جاتا تو قاتل اور ان کے سہولت کار اسی طرح رونی صورت بنائے اظہار افسوس کرتے نظر آتے، جیسے وہ جنرل ضیاءالحق کے طیارے کی تباہی اور جنرل ضیاءکی پوری ٹیم کے منظر سے ہٹائے جانے کے بعد کرتے نظر آئے۔ پاکستان کے C130 کے ساتھ کیا ہوا۔ 1988ءکے بعد ہوش سنبھالنے والی نسل کو اطلاع ہو کہ جنرل ضیاءالحق اپنے منہ بولے بیٹے جنرل اسد درانی کی فرمائش پر نا چاہتے ہوئے ٹینکوں کی کارکردگی کا مظاہرہ دیکھنے کے لئے بہاولپور پہنچے، انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ ان کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں لہٰذا وہ اس حوالے سے خطرناک سمجھے جانے والوں کو ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے، ان کے درجن بھر ساتھی ان کے ہمراہ بہاولپور آئے۔
قاتلوں کا انتظام دیکھئے انہوں نے کیا کیا تیاری کر رکھی تھی۔ منصوبہ تھا جنرل ضیاءنماز ظہر کی ادائیگی کے لئے مسجد جائیں گے تو انہیں گولیوں سے بھون دیا جائے گا، وہاں نشانہ نہ بنایا جا سکا تو انہوں نے ایک عظیم فلاحی کام کرنے والی نرس کی مزاج پرسی کے لئے اس کے گھر جانا تھا وہ وہاں بھی بچ جاتے تو پھر ان کے طیارے کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
نماز ظہر کا وقت آیا تو جنرل ضیاءالحق نے مسجد جانے کی بجائے میس میں ہی نماز ادا کی، وہ کچھ تھکے ہوئے تھے اور وقت کم تھا۔ انہوں نے راولپنڈی واپس پہنچنا تھا لہٰذا انہوں نے جس خاتون کی مزاج پرسی کے لئے جانا تھا وہ پروگرام ترک کر دیا گیا لیکن وہ واپسی کے سفر کے لئے اپنے جہاز میں سفر کرنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے ائیرپورٹ پر جنرل اسلم بیگ کو اپنے ساتھ بٹھانے کے لئے اصرار کیا لیکن وہ نہ مانے اور عذر تراشا کہ میرا اپنا ہیلی کاپٹر تیار کھڑا ہے، میں اس میں جاﺅں گا۔ جنرل ضیاءنے متعدد بار انہیں ساتھ آنے کی دعوت دی، وہ نہ مانے۔ جنرل ضیاءسب سے رخصت ہو کر اپنے جہاز میں جا بیٹھے، گویا موت کے منہ میں جا بیٹھے۔اہل پاکستان اور خصوصاً جنرل ضیاءالحق سے محبت کرنے والے آج بھی اس قسم کی جہازی فنی خرابیوں کو رو رہے ہیں۔ ایرانی قیادت پر اللہ کا کرم ہوا وہ ایک سوراخ سے دوسری مرتبہ ڈسے جانے سے محفوظ رہے ورنہ آج ہم ایک اور فنی خرابی کو روتے نظر آتے۔
فنی خرابی سازش تیار تھی؟
09:12 AM, 24 Apr, 2026