عالمی سیاسی سرکس 

09:12 AM, 24 Apr, 2026

بوسٹن کے ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہونے والا شیلڈن ایڈلسن کم عمری میں ہی کاروبار کی طرف آیا۔ اس نے پچاس سے زائد کاروبار اپنائے اور نمائشی کام سے اسے زیادہ کامیابی ملی۔ وہ دنیا کی بڑی کسینو اور ریزورٹ کمپنی بنانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ شیلڈن کی ڈاکٹر بیوی نے بھی کاروباری دنیا میں اس کا ساتھ دیا۔ اس نے سنگاپور، مکاو¿ اور لاس ویگاس میں کسینو کھولے۔ دنیا میں انٹی گریٹڈ کسینو کا تصور بھی اسی نے دیا جس میں ہوٹل اور کیسینو ایک ساتھ بنائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی دولت چالیس ارب ڈالر کے قریب تھی۔ وہ جوئے باز تھا اور سیاست میں مداخلت کے لیے بھاری سرمائے کا استعمال کیا کرتا تھا۔ اس نے امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کو مالی طور پر بہت سپورٹ کیا۔ 
شیلڈن ایڈلسن کی وفات کے بعد اس کی بیوی مریم ایڈلسن نے ساری کاروباری اور سیاسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مریم ایڈلسن نے یہودیوں کے لیے " برتھ رائٹ ٹو اسرائیل " جیسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ساتھ ہی سیاسی امور پر گرفت کے لیے" ہیوم" کو اسرائیل کا مقبول ترین نیوز پیپر بنا دیا۔ مریم ایڈلسن نے امریکی سیاسی مہروں پر بھاری سرمایہ کاری کی۔ اس امر کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی کیریئر میں بھی ایڈلسن فیملی نے اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ مریم ایڈلسن کے مقروض بھی ہیں۔ مریم نے اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ صرف امریکی سیاست کو استعمال کیا ہے بلکہ بنیادی سیاسی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتی رہی ہے۔اس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی پر زور حمایت کی اور کئی محاذوں پر اسرائیل کی سپورٹ کے لیے امریکی سیاست دانوں پر دباو¿ ڈالا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ایران امریکہ جنگ کے حق میں جن یہودی با اثر افراد نے صدر ٹرمپ پر شدید دباو¿ ڈالا تھا ان میں مریم ایڈلسن کا نام بھی شامل ہے۔ 
مریم ایڈلسن کی با اثر شخصیت کے پیچھے اس کی مہارت نہیں ہے بلکہ اس کا دنیا کی امیر ترین عورتوں میں شمار ہونا ہے۔ نئی دنیا میں سرمایہ ہی وہ جادو ہے جو چند افراد کو پوری دنیا کی تقدیر لکھنے کا اختیار دیتا ہے اور اس کی اثر پذیری سرمایہ دارانہ نظام کے ہوتے ہوئے کسی صورت کم نہیں ہو سکتی۔ ایڈلسن فیملی یا روتھ چائلڈ فیملیز جیسے کئی خاندان سرمائے کی قوت سے سیاسی فیصلوں کو تربیت دیتے ہیں اور ان کے سرمائے کی قوت ان نظاموں سے پختہ ہوتی ہے جو دنیا میں جاری و ساری ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ایسے افراد کا سب سے پہلا تعارف فلاحی خدمات کے طفیل سامنے آتا ہے۔ یہ بہت سی این جی اوز بناتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دیتے،انسانیت کے لیے فلاحی کام کرتے اور لوگوں کے علاج معالجے کے لیے خیراتی ادارے چلاتے نظر آتے ہیں۔ آئے روز ان میں سے کوئی ایک بڑا آدمی ایک آدھ نئی ویکسین غریب ممالک کو دان کر رہا ہوتا ہے۔ کبھی کوئی بڑا آدمی ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے موٹے سکول اور بجلی کے پلانٹس لگاتا ہے۔ تھرڈ ورلڈ ممالک ان شخصیات کی خوب تشہیر کرتے ہیں اور ان کے گیت گاتے ہیں۔ 
البتہ یہ بات کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ان کی مالیاتی گرفت عالمی سیاست پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے اور تھرڈ ورلڈ ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے میں ان کا کردار بین الاقوامی سیاست میں کس حد تک اہم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ جب تک ان کے عالمی مالیاتی نظام کو لوگوں کی ثقافتی اور تہذیبی زندگی سے الگ نہیں کیا جائے گا اور معاشی نظام کے محرکات ان سے جدا نہیں کیے جائیں گے، سیاسی فیصلوں کو یہی چند خاندان ترتیب دیتے رہیں گے۔ انھیں عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے یا اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا بہترین ماحول سرمایہ دارانہ نظام ہی پیدا کرتا ہے۔ اس نظام میں ہر فیصلے کو مفاد اور مالیات کی ترجیحات کے ذریعے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ یعنی آپ سرمایہ اکٹھا کریں اور بین الاقوامی سیاسی فیصلوں پر جتنا چاہیں اثر انداز ہوں۔ یہ سرمایہ بھی اسی جدید دنیا سے اکٹھا کیا جانا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایسے کلچر کی ضرورت ہوتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دے اور ارتکاز دولت کے ٹولز اور مستحکم کرتا چلا جائے۔ اس کلچر میں پر تعیش سرگرمیاں، غیر معمولی پروٹوکولز اور لامحدود خواہشات کی تسکین کے تمام سلسلے شامل ہیں جو ایک خاص طرح کے حاکم گروہ کو پیدا کرتے ہیں۔ یہ مالیاتی نظام دنیا کو سرمایہ دارانہ اصلاحات سے نوازتا ہے۔ نتیجتاً سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے تحت ریاستوں کا کردار طوائفوں جیسا ہو جاتا ہے جو صرف اپنے مالی فائدے کو دیکھتے ہوئے زندگی کے فیصلے کیا کرتی ہیں،مالی فائدے کی خاطر کسی بھی شخص سے ہاتھ ملا سکتی ہیں اور کسی سے منہ موڑ سکتی ہیں۔ اس نظام کے طفیل آپ ڈپلومیسی جیسی اصطلاحات سے نوازے جاتے ہیں جو منافقت کو پینٹ کوٹ ٹائی میں لپٹ کر آپ کے حوالے کرتی ہے۔ یعنی آپ کا مو¿قف اور نظریہ دنیا میں کسی پر آشکار ہی نہ ہو سکے۔ آپ کو خود بھی نہ پتا چلے کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے عالمی بے ضمیر انسان کا جو تصور پیش کیا ہے وہ نئی ریاستوں اور ان کی پالیسیوں پر بھی بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ 
نتیجہ جو بھی ہو لیکن اس نظام کا یہ فایدہ ضرور ہے کہ اس کی بدولت چند خاندان دنیا کا مرکز و محور بنے ہوئے ہیں۔ اگر ان کی مرکزیت اور بالادستی قائم رہتی ہے تو انھیں آپ کے مذہب یا آپ کے عقائد سے کوئی مسئلہ نہیں۔ بلکہ ایسے نیک کاموں کے لیے یہ آپ کی مالی امداد بھی کر دیا کرتے ہیں۔

مزیدخبریں