خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کی تصدیق، عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت

07:19 PM, 24 Apr, 2025

پشاور: خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کا ایک نیا کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد صوبے میں اس بیماری سے متاثرہ مریضوں کی تعداد آٹھ ہو چکی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق، وائرس کی تصدیق ایک 31 سالہ شخص میں ہوئی ہے جو چند دن قبل خلیجی ریاست سے پشاور آیا تھا۔ متاثرہ فرد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور تمام حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

منکی پاکس کی ابتدائی نشانیاں اور بچاؤ
ماہرین صحت کے مطابق، منکی پاکس کی ابتدائی علامات میں بخار، بدن میں درد اور غدود کا سوج جانا شامل ہے۔ یہ علامات عام طور پر 4 سے 15 دن میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ بیماری خاص طور پر کمزور قوت مدافعت رکھنے والے بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس جلدی انفیکشن یا خارش کے باعث جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتا ہے۔ علامات نمودار ہونے کی صورت میں مریض کو فوری آئسولیٹ کرنا ضروری ہے۔

علاج اور شفا کی شرح
منکی پاکس کے 90 سے 95 فیصد مریض بغیر کسی پیچیدگی کے مکمل صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ عمومی صورت میں بخار کم کرنے والی ادویات تجویز کی جاتی ہیں، جبکہ شدید حالت میں اینٹی وائرل دواؤں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر
یہ بیماری سب سے پہلے 1970ء میں جنوبی افریقی ملک میں رپورٹ ہوئی تھی، جبکہ پاکستان میں اس کا پہلا کیس 11 اپریل 2023ء کو ریکارڈ کیا گیا۔

حکام نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور دوسروں سے فاصلہ اختیار کریں۔

مزیدخبریں