قومی سلامتی کمیٹی اجلاس: بھارت کی آبی اور سفارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے جامع حکمت عملی کی منظوری

03:45 PM, 24 Apr, 2025

اسلام آباد:پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دیگر جارحانہ اقدامات کے جواب میں ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ کس طرح بھارت کی سفارتی اور آبی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے تاکہ ملک کی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت کے حالیہ اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی، واہگہ بارڈر کی بندش اور سفارتی عملے میں کمی شامل ہیں۔

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بھارت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی فورمز سے رجوع کیا جائے گا تاکہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی حکومت کے خلاف قانونی اور سفارتی اقدامات کیے جا سکیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔

کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ جارحیت کے لیے تیار ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف ملک کی دفاعی تیاریوں کی تصدیق ہوتی ہے بلکہ یہ بھارت کو بھی ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات اور سلامتی کے لیے کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

مزیدخبریں