اسلام آباد: بھارت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز اقدامات کے بعد دفتر خارجہ میں اہم مشاورت شروع ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی سفارتی جارحیت کا جواب بھی اسی سخت لہجے میں دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان بھارتی سفارتی عملے کو محدود کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ بھارتی دفاعی، فضائی اور بحری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر واپس بھیجا جائے گا، جبکہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیے جانے کا امکان ہے، جہاں بھارت کو واضح اور دوٹوک پیغام دیا جائے گا۔
دوسری جانب بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت ایسا قدم اٹھانے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جو حتیٰ کہ جنگ کے دنوں میں بھی برقرار رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کے ان اقدامات کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا اور اندرونی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا ہے، جسے ہر سطح پر مؤثر انداز میں جواب دیا جائے گا۔