پنجابی ثقافت دے موج میلے

09:10 AM, 24 Apr, 2025

میرا بس چلتا میں یہ کالم پنجابی میں لکھتا ، مگر میرا اخبار چونکہ اْردو کاہے اس لئے اْردو میں لکھنا پڑے گا جسے آپ پنجابی میں ہی سمجھئے گا ، جیسے ایک سردار جی ایک ڈریسنگ سٹور پر گئے اور دکاندار سے کہنے لگے’’آپاں نْوں جیلو جیناں ویکھاو‘‘ ، یعنی وہ دکاندار سے پیلے رنگ کی جین کی پینٹیں مانگ رہے تھے ، دکاندار نے حیرانی سے پْوچھا’’سردار جی جیلو جیناں ؟ ‘‘سردار جی بولے’’آپاں اک گل یاد رکھنی ایں ، جدوں آپاں جیلو کہنا تْساں بلیو ای سمجھنا‘‘ ، پنجاب حکومت نے سرکاری سطح پر’’پنجاب کلچرل ڈے‘‘ منایا ، زیادہ مناسب ہوتا اسے’’پنجاب دا ثقافتی دیہاڑ‘‘ کہا جاتا ، ہم اپنی خالص پنجابی زبان میں بھی انگریزی کا تڑکہ جب تک نہ لگائیں ہمیں سکون نہیں ملتا ، ہم سمجھتے ہیں ہماری پنجابی زبان انگریزی کے تڑکے کے بغیر اْدھوری  ہے ، آج کل ہمارے سماء ڈیجیٹل چینل کے پنجابی شوز شروع ہوئے ہیں ، عید شو پر میں نے عرض کیا ’’ہماری پنجابی اب اس طرح کی ہوگئی ہے جیسے ایک شخص اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا’’مائی سن ڈوراں کلوز کر دے‘‘ (میرے بیٹے دروازے بند کر دو) ، پنجاب کے ثقافتی دیہاڑ پر ہمارے بڑے بڑے افسران نے بڑی بڑی پگڑیاں پہن کر اپنی اپنی تصویریں فیس بْک پر لگائیں ، مجھے نہیں معلوم اس کے لئے اْنہیں سرکاری طور پر کوئی ہدایت کی گئی تھی یا یہ کارنامہ پنجاب کی محبت میں اْنہوں نے خود کیا تھا ؟ مگر میں نے اس سلسلے میں اپنی فیس بْک وال پر عرض کیا تھا ’’یہ جو پنجاب کے ثقافتی دن کے موقع پر بڑی بڑی پگڑیاں پہن کر بڑے بڑے افسران اپنی اپنی تصویریں اپنے سوشل میڈیا یا فیس بک پر لگا رہے ہیں اْنہیں چاہئے اس دن اپنے انگریزی بولنے سننے اور لکھنے پر بھی پابندی لگا دیں ، جو بھی لکھیں پنجابی میں لکھیں حتی کہ فائلوں پر جو نوٹنگ کریں وہ بھی پنجابی میں کریں ، میں نے یہ بھی عرض کیا تھا ’’ایک وقت تھا پگ پنجاب کی عزت کی علامت ہوتی تھی اب صرف پگ رہ گئی ہے عزت کا نام و نشان نہیں رہا ، چنانچہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہمارے افسران کو اپنی گْمشدہ عزت کے بارے میں بھی کچھ سوچنا چاہئے‘‘ ، پنجابی لباس کی ایک نشانی ’’دھوتی‘‘ بھی ہے، جس کے بارے میں سب سے مشہور جملہ تو یہ ہے ’’دھوتی دھوتی ، نہ دھوتی نہ دھوتی‘‘، دوسرا مزے کا جملہ جناب عطاء الحق قاسمی کا ہے’’دھوتی رات کو بندہ پہن کر سوتاہے صبح اْوپر لی ہوتی ہے‘‘ ، تیز ہوا چل رہی ہو تو یہ اْوپر بھی نہیں ہوتی ، پنجاب کے ثقافتی دن کو میلہ چراغاں سے جوڑا گیا ، اس ضمن میں شاید تین روزہ بھرپور تقریبات کا انعقاد والڈ سٹی اتھارٹی آف لاہور کی جانب سے شالیمار باغ میں ہوا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، میرے خیال میں اتنے وسیع پیمانے پر یا اس قدر خوبصورتی سے میلہ چراغاں کا اہتمام اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ، میں والڈ سٹی اتھارٹی آف لاہور کے ڈی جی کامران لاشاری اور اْن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ اچھے دل و دماغ والے لوگوں کو تفریح کے ایسے شاندار مواقع فراہم کرتے ہیں اس گْھٹن زدہ ماحول میں جن کی اشد ضرورت ہے ، اس میلہ چراغاں کے آخری روز مجھے بھی اپنی فیملی کے ساتھ شالیمار باغ جانے کا اتفاق والڈ سٹی اتھارٹی کے سربراہ کامران لاشاری کی دعوت پر ہوا ، میں نے دیکھا عام شہریوں کے علاوہ کئی اعلیٰ بیوروکریٹس بھی اپنی فیملیز کے ساتھ یہاں موجود تھے ، کچھ سیاست دان بشمول اعتزاز احسن بھی تھے جو اپنے بڑھاپے یا دیگر وجوہات کی بنا پر اب بہت کم کہیں آتے جاتے ہیں ، میلہ چراغاں میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی آنا تھا ، وہ نہیں آئیں ،وہ اْس دن شاید کسی اور ’’موج میلے‘‘ میں ہوں گی ، میلہ چراغاں میں پاکستان کے تمام صوبوں کے چراغ روشن تھے ، یہ کہا جائے غلط نہ ہوگا یہ روشنیوں رنگوں اور خوبصورت روایتی رقصوں کا ایسا میلہ تھا جس کے بارے میں دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی یہ میلہ سال میں صرف دو چار دن نہیں سارا سال رہنا چاہیے ، ہمارے معاشرے میں گھٹن خصوصاً عدم برداشت اس لیے بڑھ گئے ہیں کہ صحت مند تفریح کے سارے مواقع ختم ہو گئے ہیں ، ہمارے سینما گھر پارکنگ سٹینڈوں میں بدل گئے ہیں اور پارکنگ اسٹینڈوں کے طور پر بھی وہ نہیں چل رہے ، کبھی اچھی فلمیں بنتی تھیں جن کے ٹکٹ بلیک ہوتے تھے ، سینما گھروں کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوتی تھیں ، یہی حال ہمارے تھیٹروں کا تھا ، ایسے ڈرامے دکھائے جاتے تھے جو مہذب لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ دیکھتے تھے ، عزیزی سہیل احمد کا ڈرامہ شرطیہ میٹھے میں نے اپنی پوری فیملی کے ساتھ کئی بار دیکھا تھا ، سہیل احمد کے علاوہ امان اللہ ، ببو برال اور مستانہ اس ڈرامے میں اپنے فن کی معراج پر تھے ، اب لوگ تھیٹروں میں اچھا مزاح انجوائے کرنے نہیں جاتے نہ اچھا مزاح وہاں پیش کیا جاتا ہے ، اب وہاں صرف مجرا پسند لوگ جاتے ہیں، مجرا بھی وہ جس میں بے حیائی اور بے لباسی عروج پر ہوتے ہیں ، مجرا ایک آرٹ تھا اب اسے فحاشی و عریانی کا ایک پارٹ بنا دیا گیا ہے ، پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کو بار بار سیاسی پارٹی بدلنے کی وجہ سے میں زیادہ پسند نہیں کرتا مگر میں نے محسوس کیا ہے بطور وزیر اطلاعات و ثقافت وہ محنت کر رہی ہیں ، پہلے جیسا غصہ اور وہ بدزبانی بھی اْن میں نہیں رہی جو کسی مہذب سیاستدان خصوصا ًخاتون سیاستدان کو تو بالکل زیب نہیں دیتی ، ابھی حال ہی میں اْنہوں نے تھیٹروں کو لگام دینے کا بندوبست فنکاروں کی مشاورت سے کیا وہ بھی مجھے اچھا لگا ، البتہ ’’لیڈی تھانیدار‘‘ بن کر تھیٹروں پر خود چھاپے مارنے کا اْن کا اقدام درست نہیں تھا ، اگر سارے کام اْنہوں  نے ہی کرنے ہیں پھر محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سارے افسران کو فارغ کر کے سارے عہدے وہ خود سنبھال لیں ، اب اگر تھیٹروں کے لیے کوئی ایس او پیز طے کر لیے گئے ہیں اور اْن پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے یہ اچھی بات ہے ، البتہ اس کے بعد ہمارے ’’گندگی پسند عوام‘‘ صاف ستھرے تھیٹروں سے اپنا رابطہ بحال رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے ؟ اس بارے میں پورے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ، گندی تفریح سے صاف ستھری تفریح کی جانب اپنے عوام کو لے کر آنا مشکل کام ہے ، یہ مشکل کام صرف محکمہ اطلاعات و ثقافت نہیں کر سکتا ، اس کے لیے وہ ذہنیت بدلنا ہوگی جو صرف گندگی دیکھنا چاہتی ہے ، تھیٹروں وغیرہ کے لیے ایس او پیز طے کر بھی لیے جائیں ، غلاظت دیکھنے کے لئے پاکستان میں جتنا غلط استعمال موبائل فونز کا ہوتا ہے دنیا میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی۔      (جاری ہے)

مزیدخبریں