امریکہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران سچ اور حق بولنے کی پاداش میں سیکڑوں غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیئے گے ہیں ۔جس کی وجہ سے ہزاروں غیرملکی بے ضرر طالب علم شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ جو اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کرتے ہوئے حصول تعلیم کے لیے امریکہ آئے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی طالب علموں کو دھمکانا، تشدد کا نشانہ بنانا، جیلوں میں ٹھونسنا اسرائیل نواز ٹرمپ انتظامیہ کا روز کا معمول بن چکا ہے ۔ محصور ، مظلوم، بے بس و معصوم فلسطینی بچوں کی وحشیانہ نسل کشی پر حق بات کرنے، پرامن احتجاج کرنے پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ پرامن مظاہروں کوبے دردی سے کچلا جارہا ہے۔جو انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ جس سے دنیا بھر میں امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ امریکہ اس وقت مکمل طور پر اسرائیلی بلیک میلنگ کے شکنجے میںہے۔ اسرائیل نواز انتظامیہ حیوانیت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ نام نہ بتانے کی شرط پر بعض عسکری ماہرین و تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومتوں میں بڑھتا ہوا اسرائیلی اثرورسوخ اور مداخلت ایک ناسور بن چکا ہے ۔ جو امریکی عوام اور معیشت کے لیے مہلک کینسر کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ جس سے امریکہ کی سلامتی کے لیے دن بہ دن خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ اگر جلد ہی اس کینسر سے چھٹکارا حاصل نہ کیا گیا ۔ تو خدشہ ہے کہ پرامن امریکی عوام کو اس کی ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔
( آزادی اظہار رائے ) کا ٹول جب پوری سچائی کے ساتھ اسرائیل نواز حلقوں اور ذمہ داران سے ٹکرایا ۔ تو تل ابیب سے لیکر نیویارک تک دجالیوں کی چیخیں آسمانوں تک سنائی دی جانے لگی ۔ اسرائیل نواز ٹرمپ انتظامیہ امریکی تعلیمی اداروں کو Harassment Centers میں تبدیل کر رہی ہے۔ عوامی رائے عامہ اور معاشروں کو اسرائیل کی خونی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ امریکہ میں آزادی اظہار رائے کی اصطلاح فسطائیت کا روپ دھار چکی ہے ۔ امریکہ میں اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کی آوازوں کو پوری قوت سے کچلنے سے آزادی اظہار رائے کا دوہرا معیار کھل کر دنیا کے سامنے آرہا ہے۔ کہ آزادی اظہار رائے تو محض ایک دکھاوا ہے، سراب ہے، ایک ایسا مہلک ٹول ہے۔ جس کو پینٹا گان ( دجالیوں کا جنگی ہیڈ کوارٹر ) کئی دہائیوں سے مسلم دنیا میں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرتا چلا آرہا ہے ۔ خاص کر سیاسی، معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایڈوانس کلچر اور آزادیوں کے نام پر فحاشی وعریانی کو فروع دے کر مسلم خاندانی نظام کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہا ہے ۔غزہ کی موجودہ دلخراش صورت حال کو بنیاد بنا کر مسلم عوام، حکمرانوں، مذہبی اور عسکری قیادتوں کے درمیان خانہ جنگیوں کی راہ ہموار کرکے شیطانی منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ تاکہ گریٹر اسرائیل کے قیام میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔ المیہ یہ ہے کہ قرآن وسنت سے عملی طور پر دور ہونے کی وجہ سے گناہ گار آنکھوں سے اپنے ہی معاشروں میں یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ سیاسی و مذہبی شدت پسندی ، شتر بے مہار میڈیا و کرپشن کا عام ہونا قرآن و سنت سے دوری کی وجہ سے ہے، یہ اللہ کا عذاب نہیں تو پھر یہ سب کیا ہے ؟ ۔
( آزادی اظہار رائے ) کی اصطلاح دراصل دجالی ریاست ( اسرائیل ) اور ملعون یہودیوں کے مفادات کو یقینی تحفظ فراہم کرنے کا شیطانی ٹول ہے ۔ دنیا بھر کے پرامن حلقوں کو سمجھنا ہوگا کہ غزہ سے تیسری عالمی جنگ کی مکمل منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ جس کا Main Theme کرسچن کیمونٹی کو خون ریز جنگوں میں دھکیل کر ہولناک شیطانی منصوبے کی تکمیل ہے۔ صہیونیت کے زیر اثر مریکی و مغربی میڈیا کرسچن کیمونٹی کے پرامن حلقوں کو اسرائیل کی جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے شعوری و لاشعوری طور پرذہن سازی کر رہاہے۔ جس کے لیے ( فالس فلیگ آپریشن) کی طرز پر حملے کروانے کی ہولناک دجالی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔پھر ردعمل کے طور پرایک جانب وہاں پر مقیم مسلمانوں پر قاتلانہ حملے کروائے جائیں گے ۔ تو دوسری طرف امریکہ و یورپی معاشروں کو اسلامو فوبیا کا شکار کر کے صلیبی فورسز کو امت مسلمہ پر چڑھائی کے لیے باہر نکالا جائے گا ۔
یہی وقت ہے کہ دنیا بھر کے مسلم سکالرز، دانشور اور صحافتی برادری تمام تر مسلکی ، فروعی ، سیاسی اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا ملی و شرعی فرض نبھائیں۔ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کی کرسچن کمیونٹی کو باور کرانا ہو گا کہ اسرائیل کی ملٹری اور مالی امداد کرنا درحقیقت اولوالعزم پیغمبر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے کھلی دشمنی ہے ۔ کیونکہ تیسری عالمی جنگ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ تب وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے شہر ’’ لد ‘‘ میں انسانیت و انبیاء کے قاتل یہودیوں کے سربراہ ( دجال ) کو اپنے خنجر سے قتل کر کے دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں گے۔ وقت بہت کم ہے ، دنیا بھر کی کرسچن کیمونٹی کو سنجیدگی سے غورو حوض کرنے کے ساتھ جرأت مندانہ فیصلہ بھی لینا ہو گا کہ وہ اپنے پیغمبر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام و مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے یا پھر یہودیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی پیغمبرکے خلاف جنگ کریں گے۔ کیونکہ ملعون یہودی ( اسرائیلی ) کرسچن کمیونٹی کی لاشوں پر تیسری عالمی جنگ کا خاموش طبل بجا چکے ہیں۔جس کا منہ بولتا ثبوت بحیرہ روم میں ہنگامی بنیادوں پر صلیبی بحری بیڑوں اور ملک شام میں ہزاوں صلیبی اہلکاروں کی آمد ہے ۔ گریٹر اسرائیل کا قیام ہی امریکہ کا زوال ہے۔
امریکہ کی سلامتی اسرائیل کے شکنجے میں
09:07 AM, 24 Apr, 2025