اوورسیز کنونشن : لوگ مایوس کیوں ہیں

09:06 AM, 24 Apr, 2025

دس روز پہلے کی بات ہے بانی و صدر استحکام پاکستان اوورسیز فورم شہزادہ عثمان طاہر اپنے وفد کے ہمراہ اوورسیز کنونشن میں شرکت کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچے تو ان کا شاندار اور پْرتپاک استقبال کیا گیا۔ استحکام پاکستان اوورسیز فورم (آئی پی او ایف) کے وفد میں فورم کے چیئرمین ایڈوائزری کونسل یورپ سعید شیخ، چیف کوآرڈینیٹر امور کشمیر آئی پی او ایف یورپ سردار صدیق خان، چیف کوآرڈینیٹر آئی پی او ایف سپین حاجی شیر خان، سیکرٹری جنرل آئی پی او ایف سپین اکمل بٹ، صدر پاکستان پیپلز پارٹی سپین چودھری اشتیاق حسین اور یورپ کے مختلف ممالک سے آئی پی او ایف کے عہدے داران اور بزنس مین شامل تھے۔ اس موقع پر بانی و صدر استحکام پاکستان اوورسیز فورم شہزاد عثمان طاہر نے کہا کہ جس طرح یہ لوگ اوورسیز کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور ان کے مسائل حل کر رہے ہیں اس سے پہلے او پی ایف کے پلیٹ فارم سے ہم نے پاکستان کی ہسٹری میں ایسا نہیں دیکھا، انشااللہ استحکام پاکستان اوورسیز فورم پوری دنیا میں اپنے ملک اور اداروں کی سر بلندی اور سافٹ امیج کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ شہزاد عثمان طاہر 10 مختلف ممالک سے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے 30 نمایاں افراد پر مبنی وفد کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔
پاکستان آمد پر شہزادہ عثمان طاہر کی خوشی، جوش، ولولہ اور عزم دیدنی تھا، لیکن کنونشن کے بعد وہ کچھ شکوہ کرتے ہوئے پائے گئے۔ ایک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے منعقد کیے گئے اوورسیز کنونشن میں80 ممالک سے 1500 کے لگ بھگ افراد نے بیرون ملک سے شرکت کی۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس کنونشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو ان کی جانب سے اپنے ملک، اپنے وطن سے، اپنے لوگوں سے والہانہ محبت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ کنونشن تمام لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ شہزادہ عثمان طاہر کے مطابق مایوس ہونے والوں کو امید تھی کہ کنونشن میں اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے یا پھر ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا جائے گا تاکہ یہ کمیونٹی اپنے چنے ہوئے لوگوں کو وہاں بھیجے اور وہ لوگ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کر سکیں، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ موبائل فون پاکستان لے جانے کا ہے۔ وہ جو موبائل پاکستان لاتے ہیں ان پر ٹیکس لگ جاتا ہے اور وہ بند ہو جاتے ہیں۔ شہباز شریف نے وعدے کر رکھے تھے لیکن کنونشن میں اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ غیر ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کو پاکستان آنے کے لیے لمبے سفر کرنا پڑتے ہیں۔ ان کی اولین ترجیح اپنی قومی ایئر لائن کے ذریعے سفر کرنا ہے۔ پی آئی اے کی عالمی سروس بہت سے ممالک کے لیے شروع ہو چکی ہے جبکہ کئی ممالک کے لیے ابھی شروع نہیں ہوئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کا خیال تھا کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی اچھی خبر دے گی۔ بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں کا ایک بڑا مسئلہ ایئر پورٹوں پر پولیس اور دوسرے عملے کی جانب سے انہیں بے جا تنگ کیا جانا اور نذرانے وصول کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے کسی اقدام کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کے جلد حل کے لیے عدالتوں کے قیام کا البتہ ضرور فیصلہ کیا ہے جو ظاہر ہے ایک اچھا اور دور رس نتائج کا حامل اقدام ہو گا۔ شہزادہ عثمان طاہر کہتے ہیں کہ کنونشن سے آرمی چیف سید عاصم منیر نے جو خطاب کیا وہ زبردست تھا۔ انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند جماعتوں کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ شہزادہ عثمان کے مطابق کچھ حلقوں کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ شاید افواج پاکستان کے خلاف ہیں لیکن پاکستان میں ہونے والی اوورسیز کانفرنس میں ان کی بھرپور شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ ان افواہوں میں کوئی دم نہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ فوج، حکومت اور ریاست کے ساتھ ہیں، مناسب ہوتا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی توقعات پوری کرنے کے بارے میں بھی کچھ سوچا جاتا۔ شہزادہ عثمان کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں زیادہ ریمٹنسز (Remittances) بھیجنے والے 10 بڑے اوورسیز پاکستانیوں کو ایوارڈ دیئے جائیں گے، میرے خیال میں اس کے بجائے اگر یہ کہا جاتا کہ ہر اس اوورسیز پاکستانی کو ایوارڈ دیا جائے گا جو دیار غیر میں رہتے ہوئے پاکستان کے لیے کوئی نہ کوئی بڑی خدمت سرانجام دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے 14 نکات پیش کیے گئے جن میں درج بالا جن معاملات کا ذکر کیا ہے وہی بڑے اور اہم معاملات ہیں، باقی ساری چھوٹی چھوٹی چیزیں اور چھوٹے چھوٹے معاملات ہیں، جیسے جابز میں اوورسیز پاکستانیوں کا کوٹہ، سکولوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے کوٹہ مختص کرنا، یہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے چھوٹے معاملات ہیں، وہ بیرون ملک رہتے ہیں اور وہاں سے کماتے ہیں تو ان کے لیے ان چیزوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ شہزادہ عثمان طاہر کا کہنا ہے کہ ایک کامیاب اوورسیز کنونشن منعقد کرانے کا سارا کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف سید عاصم منیر کے ساتھ ساتھ او پی ایف بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی اور فیڈرل منسٹر فار اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومین ریسورسز ڈویلپمنٹ سالک حسین کو جاتا ہے۔
 شہزادہ عثمان طاہر کو اگر اوورسیز پاکستانیوں کا ایک نمائندہ مان لیا جائے تو انہوں نے اپنے دل کی باتیں کھول کر بیان کر دی ہیں۔ جہاں انہوں نے کنونشن کے حوالے سے کئی معاملات کی تعریف کی وہاں یہ بتانے میں بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی کہ 30 فیصد اوورسیز پاکستانیوں کی کنونشن سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ مناسب ہو گا کہ حکومت ان معاملات کی طرف توجہ دے تاکہ جہاں ریاست کی اپنے دیار غیر میں بسنے والے لوگوں سے وابستہ توقعات پوری ہونے کی راہ ہموار ہو وہاں اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے وطن سے منسلک توقعات، خواہشات، امنگوں اور آرزوئوں کے پورا ہونے کے امکانات بھی روشن ہو سکیں ۔

مزیدخبریں