ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب: عالمی امن کے لیے امریکا کی کوششیں اور اقوام متحدہ پر سخت تنقید

08:14 PM, 23 Sep, 2025

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں عالمی امن کے لیے امریکا کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بغیر ٹیلی پرامپٹر کے خطاب کر رہے ہیں کیونکہ یہ کام نہیں کر رہا تھا، تاہم انہیں عالمی فورم پر بات کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال امریکا کی حالت خراب تھی، لیکن ان کی قیادت میں صورتحال بہتر ہوئی ہے اور امریکا اب ایک مضبوط معیشت، مضبوط فوج اور مضبوط بین الاقوامی تعلقات کا حامل ملک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی قیادت میں سات مختلف جنگوں کو ختم کرایا گیا ہے، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرانے کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ لاکھوں جانیں محفوظ ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ عالمی ادارے نے جنگوں کو روکنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کی اور ان کی حکومت کے اقدامات پر کبھی تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ غیر قانونی تارکین وطن کو سہولتیں دے رہا ہے اور اسے اس حوالے سے اپنا کردار بہتر بنانا ہوگا۔

یوکرین تنازعہ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے روس، چین اور بھارت کو اس جنگ میں سہولت کار قرار دیا اور کہا کہ امریکا روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے یورپی ممالک اور نیٹو کو روس سے تیل اور گیس خریدنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو دہشت گردی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر زور دیا۔

عالمی سطح پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لندن کے میئر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لندن جانا پسند نہیں کرتے۔

مزیدخبریں