تھرڈ کلاس اَور بزنس کلاس کا تعلق

09:27 AM, 23 Sep, 2025

22اگست 2025ء کے اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال2024-25ء کے حوالے سے مرکزی (فیڈرل) حکومت اَور اْس کے ذیلی اِداروں کی ایک آڈٹ رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے اِداروں میں اِس ایک سال میں 375کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا سراغ لگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اِس ایک مالی سال میں مرکزی حکومت کو جتنے بھی فنڈز ملے اْن میں سے صرف تیرہ فیصد ہی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکے۔ مزید یہ کہ مکمل خرچے کا 87 فیصد قرض اَور اْس سے متعلق سود کی اَدائی میں اِستعمال ہوا۔ یہ ایک طویل رپورٹ ہے اَور اِس میں ہر طرح کی بے ضا بطگی کا اِحاطہ کیا گیا ہے۔ اِتنی بڑی بے ضابطگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے مال معاملات جس طرح چلائے جارہے ہیں اْن پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اِس مضمون میں ہم اْس رپورٹ کا متن تو شائع نہیں کرسکتے لیکن جو بات کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے بہت سے اِداروں میں مالی معاملات میں حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی جارہی۔ دْوسری بات یہ ہے کہ بہت سا پیسہ خوردبرد بھی ہورہا ہے۔ پیسہ خوردبرد بھی تب ہی ہوتا ہے جب قواعد کی پابندی نہ کی جائے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکزی حکومت میں بڑے پیمانے پر مالی معاملات میں مسائل ہیں۔ 375 کھرب روپے بہت بڑی رقم ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں تو اِس کی اہمیت اَور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہمارے پاس پیسے کی کمی ہی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ فنڈز کا صرف تیرہ فیصد ہی عوام کی بہبود پر خرچ کیا جاسکا۔ یہ اَور بھی خوفناک بات ہے۔وہ پیسہ جو دراصل ہے ہی عوام اَورملک کی بہتری کے لیے، اْس کا ایک نہایت معمولی حصہ اْس کام پر اِستعمال ہوپارہا ہے جو اَصل میں اْس کا مقصد ہے۔ اَیسا ہونے کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں دونوں ہی رہی ہوں گی۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ فیصلے کرنے کی جگہوں پر بیٹھے ہیں اْن کو حکومتی قواعد و ضوابط کا دْرست علم نہیں ہے یا وہ اْن کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ چنانچہ خریداری کرتے ہوئے، کوئی سروس لیتے ہوئے، کوئی ٹھیکہ دیتے ہوئے، لوگوں کی بھرتی کرتے وقت وہ اْن قواعد کا خیال نہیں رکھتے اَور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مالی قواعد و ضوابط کی بے قاعدگیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ آڈٹ کے پیرے بنتے ہیں اَور لوگوں کو اْن کے لیے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات بھی پریشانی کی ہے کہ جو لوگ اْوپر بیٹھے ہیں وہ ضوابط کو جانتے نہیں ہیں یا اْن کی پروا نہیں کررہے۔ اَیسے لوگوں کی باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔ اگر وہ مناسب تربیت کے باوجود اْن قواعد کو درخور اعتناء نہ جانیں تو اَیسے لوگوں کو اْس جگہ سے ہٹا دیا جانا چاہیے جہاں وہ مالی معاملات کے فیصلے کرتے ہوں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ جو لوگ اْوپر کی آسامیوں پر تعینات کیے جائیں اْن کی پہلے اچھی طرح تربیت کی جائے۔ مزید یہ کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ قواعد کی زیادہ پروا نہیں کرتے، اْنھیں اَیسی آسامیوں پر تعینات ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن ہمارے یہاں یہ سب نہیں ہوتا۔ ملک کے معاملات دھکے سے چل رہے ہیں۔ لوگوں کی تعیناتیاں ذاتی پسند نا پسند کے تحت ہورہی ہیں یا جہاں اَیسا نہیں ہے وہاں زیادہ چھان پھٹک نہیں کی جارہی۔ ہمارے ملک میں ایک سے ایک بڑھ کر ہیرا پایا جاتا ہے۔ اَیسے لوگ مناسب تعداد میں موجود ہیں جو نہ صرف یہ کہ اِیمان دار ہیں بلکہ وہ کام بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اَیسے لوگوں کو آگے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ عام طور پر اِن لوگوں کی کوئی سفارِش نہیں ہوتی۔ اَیسا نہیں ہے کہ ہمارے یہاں صرف سفارشی ہی بھرتی ہوتے ہیں اَور میرٹ پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ اگر اَیسا ہوتا تو ملک چل نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ میرٹ پر بھی بھرتیاں ہوتی ہیں۔ لیکن شاید اْن کی تعداد کم ہے۔ سفارِش، پسند نا پسند وغیرہ کا عنصر زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ جس کے باعث یہ مسائل سامنے آرہے ہیں۔یہ بات ایک مشہور حدیث میں آئی ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کردیے جائیں تو قیامت کا اِنتظار کرو۔‘‘ (بخاری)۔ نااہل لوگوں کے ہاتھوں ہمارے ملک کو ماضی میں بہت نقصان اْٹھانا پڑا ہے۔ بے شمار اِدارے نااہل لوگوں کی نالائقی کے باعث تباہی کے دہانے تک پہنچے۔
دْوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ پیسہ کھا رہے ہیں۔ میں نے ساری عمر سرکاری ملازمت ہی کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ اِتنی کم نہیں ہوتی کہ وہ بے اِیمانی پرمجبور ہوجائے۔ ہاں وہ بہت زیادہ عیاشی کی زندگی بسر نہیں کرسکتا اَور زندگی کی گاڑی آہستہ آہستہ ہی دھکیل پاتا ہے لیکن بہرحال اْس کے بچے پڑھ بھی جاتے ہیں، اْس کا کچن بھی مناسب حد تک چلتا رہتا ہے، بچوں کی شادیاں بھی عزت سے ہوجاتی ہیں۔ اگر وہ اچھے عہدے سے ریٹائر ہو تو اِس کا اِمکان بھی ہوتا ہے کہ وہ اَپنا ایک چھوٹا موٹا گھر بھی بنا لے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے سرکاری عہدے دار باقاعدہ پر تعیش زندگی بسر کرتے ہیں۔ اْن کے یہاں نوکروں کی ایک فوج ہوتی ہے۔ بچے ملک سے باہراعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہوتے ہیں۔ کئی کئی گاڑیاں اْن کے بنگلوں میں کھڑی ہوتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں اخلاقی حالت کا زوال نہایت تیزی سے جاری ہے۔ لوگوں کے اَندر حلال کمائی میں قناعت کرنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے۔ لوگ راتوں رات امیر بن جانا چاہتے ہیں۔ جس کے ہاتھ جو آتا ہے، وہ اْسے چھوڑتا نہیں۔ اِسی کی ایک مثال ایک اَور خبر میں موجود ہے جو تیرہ اگست کے اخباروں میں آئی ہے۔ وہ خبر یہ کہتی ہے کہ آڈٹ کے دوران یہ معلوم ہوا کہ پی سی ایس آئی آر میں ایک سال کے دوران پانچ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اِدارے جہاں زیادہ پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں، جہاں ٹیکنکل لوگ کام کررہے ہیں وہ بھی اِس بیماری سے محفوظ نہیں۔ وہاں بھی اربوں روپے کے گھپلے ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھاہے کہ اِس اِدارے میں بھرتیوں میں بھی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ گویا ہر طرف مسائل ہیں۔ پی سی ایس آئی آر ملک کی ترقی میں کیا کردار اَدا کررہا ہے، ہم فی الحال اْس سے بحث نہیں کررہے۔ وہ جو بھی کررہا ہے، اْس میں اْوپر کی سطح پر کافی مسائل پائے جارہے ہیں۔ اَیسے ہی مسائل مرکزی حکومت کے دِیگر اِداروں میں بھی ہوں گے۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ رپورٹ تو صرف مرکزی حکومت کی ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات صوبائی حکومتوں کے زیر اِنتظام چلے گئے ہیں۔ وہاں کیا حالات ہیں؟ اگر اْن کی رپورٹ بنائی جائے تو وہاں یقینا 375 کھرب روپوں سے زیادہ کی بے قاعدگیاں دریافت ہوں گی۔ یوں دیکھا جائے تو ملک میں ہر طرف بدعنوانیوں کی ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔ جس کا بس چل رہا ہے وہ لوٹ مار کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہ لوگ جو ہر کام قاعدے اَور قانون کے تحت اَور اِیمان داری سے کررہے ہیں بہت ہی کم رہ گئے ہیں۔ اگر اَیسا نہ ہوتا تو سیکڑوں کھرب روپے کی بے قاعدگیاں صرف ایک مالی سال میں وقوع پذیر نہ ہوتیں۔ لگتا ہے کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اَور اَپنے ایک ایک فعل کا حساب بھی دینا ہے۔ میرے خیال میں اَب حلال و حرام کا تصور ہی دھندلا گیا ہے۔ جو چیز ہمیں اچھی لگے یا ہمیں اَپنے لیے ضروری محسوس ہو ہم اْسے حلال سمجھ لیتے ہیں اَور اْس پر منھ مار دیتے ہیں۔مزید یہ کہ ہمیں اِس سے غرض بھی نہیں رہی کہ ملک کیلئے کیا اچھا ہے اَور کیا برا۔ ہم اَپنی دْھن میں مگن زندگی کے مزے لیے جارہے ہیں۔ اِسی طرح ہم ایک دِن قبر میں اْتر جائیں گے۔ اْس کے بعد کے مراحل اَیسے لوگوں کے لیے شاید زیادہ دِل خوش کن ثابت نہ ہوں۔ اگلا سفر اگر بزنس کلاس میں کرنا ہے تو اِس دْنیا میں تھرڈ کلاس میں دھکے کھانے کاحوصلہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ 

مزیدخبریں