زندگی ہمیںہماری خواہشات کے حصول کے لیے بہت تیز دوڑا رہی ہے، اور اس ریس میںہم دوسرے لوگوں کے ساتھ اتنا تیز بھاگ رہے ہیںکہ ہمیں اِس فانی سفر کے لیے ضروری چیزوں اور غیرفانی منزل کو حاصل کرنے کے اصل مقصد میںفرق رکھنا یاد ہی نہیںرہا۔ اور پھر ہماری منزل صرف اعلیٰ تعلیم، ڈگریاں، ڈھیر سارا پیسہ کمانا، بڑے عہدے حاصل کرنا، بھاری بینک اکائونٹ، شاندار بنگلے بنانا، جدید گاڑیاں، بے شمار سہولیات یا پھر کامیاب بزنس چلانا رہ جاتا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ اب شادیوںاور نئے بنائے جانے والے تمام رشتوںمیںمادیت پرستی صاف جھلکتی ہے۔
ایسا تو نہیںہے کہ انسان کو جینے کے لیے پیسہ، اچھا کاروبار، محفوظ چھت یا دوسرے لوگوںکا اتحاد نہیںچاہیے۔ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں لیکن ضرورت کے پورا ہونے اور خواہشات کے پورا ہونے، دونوںمیںبہت فرق ہے۔ اور پھر ہم اپنی خواہشات کے حصول کے لیے اپنے رب کے ساتھ جڑے مقصد میںآہستہ آہستہ سست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دْنیا کے حصول میںدین اور روحانیت کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں، پھر جو سب سے ضروری ہوتا ہے وہ ہم تھوڑا تھوڑا اپنے دل کی تسلی کے لیے زندگی کے سفر میںاپنے ساتھ ماہ و سال کی ترتیب میںآگے تو لے آتے ہیںلیکن منزل اور اْس سے جڑا اصل راستہ کہیںپیچھے ہی چھوٹ جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے ہی دِکھنے والی چیزوںکے پیچھے بھاگا ہے۔ خوبصورت و شاندار، مہنگی چمک دمک رکھنے والی اور جدید چیزیں۔ لیکن اْس کے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے جو ضروری ہے وہ اس کی قدر یا پہچان نہیںکر پاتا، جیسے کہ عبادت و حمد و ثنا، رب سے جڑائو، روحانیت، دین، بِن مانگی نعمتیں اور اْن کا شکر، ماںباپ، خاندان، محبت اور امن کو ترویج دینا اور انسانیت کی بے لوث خدمت۔ ان سب باتوںپر سمجھوتہ کر کے انسان اپنی ذات سے بے پرواہ ہو جاتا اور اپنے وجود کو بس دولت و زر سے بھر لینا چاہتا ہے۔ آخر ایسا کیا بدل جاتا ہے کہ اْسے اپنے وجود کی بقا کے لیے صرف چیزیں اور پیسہ زیادہ ضروری لگنا شروع ہو جاتا ہے؟
ایک اندازے کے مطابق اوسطاً انسان دن میںآٹھ گھنٹے سوتا ہے۔ دس بارہ گھنٹے کام کرتا اور پھر موبائل یا ٹیلی ویژن یا کہہ سکتے ہیںسوشل میڈیا پر آج کا انسان دو تین گھنٹے آرام سے گزار لیتا ہے۔دیکھا جائے تو اس حساب سے اگر آپ ستر سال کی زندگی گزارتے ہیںتو اْس میںسے بیس سال سونے میں، کوئی تیس بتیس سال کام اور تعلیم حاصل کرنے میں، جبکہ ٹیلی ویژن، تفریح اور دھیان بھٹکانے والی دوسری سرگرمیوں میںکوئی چودہ سال گزار لیتے ہیں اور باقی رہ جانے والے چار سے پانچ سال میںخاندان، دوست احباب، دْعا، نماز، بندگی اور انسانیت کی خدمت اور صحت شامل ہیں۔ اب اس ترتیب میںآپ ہی بتا دیںکہ سب سے ضروری چیزیںاصل میںآپ کی زندگی میں کتنی توجہ پاتی ہیں؟
ہم اکثر ڈرائیو کرتے ہوئے جب آگے بڑھ جاتے ہیں، یا منزل پیچھے چھوٹ جاتی ہے، یا یہ احساس کر لیتے ہیںکہ غلط راستے پر ہیںتو سڑک کے عین درمیان میںموجود یوٹرن بہت بڑی سہولت لگتا ہے۔۔۔ جتنا جلدی وہ یوٹرن آ جاتا ہے، اْتنا ہی زیادہ ہمارا وقت اور انرجی بچ جاتی ہے اور ہم منزل کے قریب پہنچ پاتے ہیں۔
زندگی کو بھی ہم میںسے بے شمار لوگوںنے ایسی ہی ڈگر پر چڑھایا ہوا ہے جہاںفانی چیزوںکو ضرورت سے بڑھ کر چاہا گیا ہے، اور نماز و دْعا، اْس کا پاک کلام اور اْس پر غور و خوض، انسانیت کی خدمت، نیک کام کرنے کا موقع، خاندان اور رشتوںکو مضبوط بنانے کے لیے مل بیٹھ کر محبت سے وقت گزارناکہیںبہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔
جب ہم بچپن کی دہلیز چھوڑتے ہیںتو جوانی میںزندگی کو کامیابی سے چلانے کے لیے پیسوںکی دوڑ میںجْت جاتے ہیں اور پھر بڑے ہی غیرمحسوس طریقے سے نئے رشتوں کی ذمہ داری ہم پر آ جاتی ہے اور جب زندگی میں سب حاصل کر کے پیچھے مْڑ کر دیکھتے ہیں تو ماںباپ کے وہ مہربان ہاتھ اور ان کا قیمتی وجود کب کا دفنا چکے ہوتے، بچوںکو اْن کی زندگی کی اگلی دوڑ کے لیے روانہ کر چکے ہوتے جبکہ کچھ لوگوں کے زندگی کے ساتھی تو کب کے داغِ مفارقت دے چکے ہوتے، اِسی طرح ہم میںسے بے شمار لوگوںکی صحت جواب دے چکی ہوتی اور بیمار جسم کو ڈھونے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے۔ اور پھر زندگی میں کچھ بھی ایسا نہیںرہتا جس کے لیے یوٹرن لیا جا سکے، نہ ہی طاقت اور نہ ہی ہمت و حوصلہ رہتا ہے۔
تو جب لگے کہ زندگی اپنی خواہشات کے بوجھ کو ڈھونے کے لیےآپ کوآپ کی ضرورت سے زیادہ تیز بھگا رہی ہے تو آہستگی سے یوٹرن لے لیںاور جو کچھ پیچھے رہ جانے کا خدشہ ہے اْن رشتوں اور باتوںکو بھرپور وقت دیں۔ رب کے ساتھ مضبوط کنکشن بنائیں، لوگوںکے ساتھ نیکیاںکرتے چلے جائیں، زندگی کی خوبصورتی کو ایک بیلنس انداز میںجئیں اور یاد رکھیں۔۔۔ یوٹرن سپیڈ توڑنے کے لیے نہیںبنائے جاتے بلکہ درست سمت اور راستے پر مڑنے، آگے بڑھنے اور منزل کو قریب کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
تو کیا آپ کا اگلا یوٹرن قریب ہے؟ اور کیا آپ یوٹرن لینے کے لیے تیار ہیں؟
یوٹرن!
09:25 AM, 23 Sep, 2025