نمائشی نیکیاں

09:25 AM, 23 Sep, 2025

ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ، ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سنا اور قرآن و احادیث کی روشنی میں بھی یہی جانا ’’نیکی کر کے دریا میں ڈال دینی چاہیے‘‘ ، کسی مستحق کے ساتھ کی جانے والی نیکی کا پرچار یا مشہوری نہیں کرنی چاہیے ورنہ نیکی ضائع ہو جاتی ہے، نیکی کا اجر صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اور اللہ کو اپنی نیکی کے بارے میں کسی ٹی وی چینل ، سوشل میڈیا ، اخبار وغیرہ کے ذریعے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اللہ نیتوں کا پھل عملوں سے بڑھ کر دیتا ہے، کیونکہ نیت میں دکھاوا  نہیں ہوتا، سو اگر ہم نے اللہ کی رضا کے لیے نیکی کرنی ہے پھر کسی کو بتانے اور دکھانے کی ضرورت نہیں ، کچھ عظیم لوگ اس حد تک پردہ پوشی کرتے ہیں کہ جس کے ساتھ وہ نیکی کر رہے ہوتے ہیں یا جس کی مدد کر رہے ہوتے ہیں اْسے بھی خبر نہیں ہونے دیتے ، اگر ہم نے محض نمائش یا دکھاوے کے لیے کسی کے ساتھ کوئی نیکی یا اچھا سلوک کرنا ہے پھر ہمیں یہ یقین یا اطمینان نہیں ہونا چاہیے اللہ اسے شرف قبولیت بخشے گا ، یہاں تک فرمایا گیا ’’ایک ہاتھ سے دو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے ‘‘ ، افسوس ہمارے ہاں رویہ اور کلچر اب یہ فروغ پانے لگا ہے ہم ایک ہاتھ سے دیتے ہیں دوسرے ہاتھ سے کسی نہ کسی صورت میں واپس لے لیتے ہیں ، ممکن ہے میں غلط ہوں مگر ذاتی طور پر میں نیکی کی نمائش کو نیکی ضائع کرنے کی ایک صورت ہی سمجھتا ہوں ، پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں نے دیکھی ایک سیلابی علاقے میں ایک ٹک ٹاکر کسی باریش بزرگ کو آٹے کا چھوٹا سا ایک تھیلا دیتے ہوئے اْن کے ساتھ تصویر بنوا رہا تھا، بزرگ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ، وہ اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ، پچھلے برس اسی طرح کی ایک اور تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ، سندھ کے ایک وزیر اپنے حلقے کے ایک شخص کو صابن کی ایک ٹکیہ دیتے ہوئے اْس کے ساتھ تصویر بنوا رہے تھے ، وہ شخص بھی اپنا چہرہ چْھپانے کی کوشش کر رہا تھا ، مجھے یہ تصویریں دیکھ کر بہت دْکھ ہوا ، دْکھ کی اسی کیفیت میں اپنے فیس بک اور ٹوئیٹر پر نمائشی نیکیاں کرنے والوں پر میں نے چڑھائی کر دی میری اس’’ چڑھائی ‘‘ کو بہت پسند کیا گیا ، ہزاروں لوگوں نے اسے شیئر کیا اورکمینٹس کیے، اس سے پہلے بے شمار لوگ کسی نہ کسی کی مدد کرتے ہوئے اپنی تصویریں بنوا کر اپنی اپنی فیس بک والز پر لگا رہے تھے ، میں نے محسوس کیا میری اس’’چڑھائی ‘‘کے بعد مستحقین کی مدد کرتے ہوئے اْن کے ساتھ تصویریں بنوا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے کا رجحان کچھ کم ہوا ہے، چند روز پہلے میرے بیٹے نے مجھ سے کہا ’’ابو مجھے اتنی رقم چاہئیے میں نے سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر ضرورت مندوں کی مدد کرنی ہے ‘‘، میں نے اْس سے کہا انہیں’’ضرورت مند ‘‘ مت کہو ، انہیں’’مستحق‘‘ کہو، ان کا حق بنتا ہے آزمائش کی اس گھڑی میں اللہ کے فضل سے ان کی مدد کا ہم وسیلہ بنیں ، یہ آزمائش ہماری بھی ہے ، ممکن ہے ہمیں آزمایا جا رہا ہو اللہ نے ہماری اوقات اور ہمارے حق سے زیادہ جس مال و زر سے ہمیں نوازا ہے اْس کا کتنا حصہ سیلاب متاثرین کے لئے ہم وقف کرتے ہیں ، میں نے اپنے بیٹے کو سختی سے منع کیا سیلابی علاقوں میں جب محض اللہ کے ایک وسیلے کے طور پر تم لوگوں کی خدمت کرو اْس کی کوئی تصویر یا ویڈیو بنا کر کسی واٹس ایپ گروپ میں نہ بھیجنا، نہ سوشل میڈیا پر لگانا ، وہ ان باتوں کا پہلے ہی خیال رکھتا ہے ، بلکہ مجھ سے زیادہ رکھتا ہے ، پر اْس وقت تصویر کا ایک اور رخ میرے سامنے اْس نے رکھ دیا ، وہ کہنے لگا ، ابو آپ نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کی جو مہم چلا رہے ہیں بہتر ہے یہ سلسلہ ہم اپنے تک محدود رکھیں، کیونکہ ہمارے اکثر لوگوں کی جب تک کسی کے ساتھ نیکی کر کے یا کسی کی مدد وغیرہ کر کے اْس کی مشہوری نہ کر لیں اْنہیں سکون ہی نہیں ملتا ، وہ زمانے گئے جب سکون نیکی کر کے ملتا تھا اب نیکی کی مشہوری کر کے ملتا ہے ، ہمارے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ جب نیکی کر رہے ہوں گے اللہ کا دھیان کسی اور طرف ہوگا ، اللہ کو اْن کی نیکی کا پتہ ہی نہیں چلے گا ، چنانچہ اپنی اس نیکی کو سوشل میڈیا پر ڈال کے دو چار سو گواہ پیدا ضرور کر لینے چاہیے جو روز قیامت اْن کے ساتھ کھڑے ہو کر اْن کی اس نیکی کی گواہی دے سکیں ،  اْس نے مزید کہا ’’ابو اگر آپ کی نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کی مہم کامیاب ہو گئی اْس کے نتیجے میں بے شمار لوگوں نے کسی مستحق کی مدد یا اْس کے ساتھ نیکی کرنا صرف اس لیے چھوڑ دینا ہے کہ ایسی نیکی کا کیا فائدہ جس کا کسی کو پتہ ہی نہیں چلنا ؟ ، ہمارے لوگ یا حکمران وغیرہ اگر کسی کے ساتھ نیکی کر کے فیس بک وغیرہ پر ڈال دیتے ہیں یا ٹک ٹاک بنا لیتے ہیں اور اس سے اْنہیں کچھ عارضی یا مصنوعی مقبولیت مل جاتی ہے تو اْن کے اس عمل سے مزید لوگ بھی مقبولیت کی خاطر ہی سہی لوگوں کی تھوڑی بہت مدد تو کر ہی دیتے ہیں ، جس سے مستحقین کا کچھ نہ کچھ بھلا تو ہوہی جاتا ہے ، بے بس اور مجبور لوگوں کو اس سے فرق نہیں پڑتا اْن کی مدد کرتے ھوئے اْنہیں راشن وغیرہ دیتے ہوئے کوئی اْن کے ساتھ تصویر بنا رہا ہے یا نہیں بنوا رہا‘‘، میں ابھی اپنے بیٹے کی ان باتوں پر غورہی کر رہا تھا ایک صنعت کار دوست کا فون آگیا ، وہ کہنے لگا ’’ہم نے سیلاب متاثرین کے لیے راشن وغیرہ کے پانچ سو پیکٹ تیار کروائے ہیں ، ہم چاہتے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں اور یہ پیکٹ اپنے مبارک ہاتھوں سے تقسیم کریں‘‘ ، میں نے عرض کیاایک تو آپ کو یہ غلط فہمی ہے میرے ہاتھ مبارک ہیں ، دوسرے اگر آپ نے واقعی یہ کام میرے’’مبارک ہاتھوں‘‘سے ہی کروانا ہے ، پھر میری یہ شرط ہے راشن کے یہ پیکٹ مستحق لوگوں میں تقسیم کرتے ہوئے کوئی تصویر وغیرہ نہیں بنے گی نہ میں آپ کی اس نیکی کا اپنے کالم ، وی لاگ یا فیس بک وال پرذکر کروں گا کیونکہ اس طرح آپ کی یہ نیکی ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ، اْنہوں نے میری یہ شرط قبول کرنے کا عندیہ دے کر یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ وہ رات کو مجھے دوبارہ فون کرکے سیلاب زدہ علاقوں میں جانے کی ساری تفصیل طے کر لیں گے، میں رات کو اْن کے فون کا انتظارہی کرتا رہ گیا ، اگلے روز میں نے ٹی وی پر دیکھا اْنہوں نے واقعی میری اس بات پر یقین کر لیا تھا کہ میرے ہاتھ مبارک نہیں ہیں ، وہ یہ کام ایک اورسینئر تجزیہ نگار کے مبارک ہاتھوں سے کروا رہے تھے ، اْسی رات اْن سینئر تجزیہ نگار صاحب نے اپنے ٹی وی پروگرام میں اْن کی اس نیکی کا خوب پرچار کیا، اس واقعے نے مجھے بڑا سبق دیا ، اب میں سوچ رہا ہوں بجائے اس کے نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کی مہم چلا کر بیشمار لوگوں ، ٹک ٹکروں اور سستی شہرت پسند حکمرانوں کو ناراض کر لْوں اور اپنے ’’مبارک ہاتھوں‘‘سے بھی مستقل طور پر محروم ہو جاؤں، بہتر ہے اس محاورے کو میں اپنے تک محدود رکھوں ،البتہ ایک بات میں آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں امداد دینے والے نہیں امداد لینے والے بھی اب بڑے چالاک ہوگئے ہیں ، کل ایک مشہور ٹک ٹاکر نے سیلاب زدہ علاقے میں ایک مستحق عورت کو راشن کا ایک پیکٹ دے کر اْس کے ساتھ تصویر اور وڈیو بنانا چاہی ، اْس عورت نے کہا ’’تصویر اور وڈیو بنوانے کے دو پیکٹ میں الگ سے لْوں گی‘‘۔

مزیدخبریں