مشرقِ وسطی ہمیشہ سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے جہاں طاقت کے کھیل پیچیدہ، اتحاد نازک اور مفادات خطرناک انداز میں ٹکراتے ہیں۔ مگر 9 ستمبر کو ایک نیا موڑ آیا جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ غیر معمولی تھا کیونکہ قطر نہ صرف امریکہ کا قریبی اتحادی ہے بلکہ وہاں العدید ایئربیس بھی موجود ہے۔ اس پر حملہ دراصل واشنگٹن کی سکیورٹی گارنٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف تھا۔ سوال یہ اٹھا کہ اگر امریکہ کے زیرِ سایہ ملک محفوظ نہیں تو دیگر عرب ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے کس پر انحصار کریں؟۔
اسی پس منظر میں سعودی عرب اور پاکستان نے ایک غیر معمولی ’’باہمی دفاعی معاہدہ‘‘ کیا جس کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ یوں خطے میں ایک نئی دفاعی ڈھال وجود میں آئی جو عالمی سیاست میں بھی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد نہ صرف عرب دنیا بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی مذمت سامنے آئی۔ یورپی یونین کے بعض ممالک نے روایتی محتاط لہجہ اپنایا مگر عوامی سطح پر احتجاج بڑھا۔ ترکی نے کھل کر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا، ایران نے اسے امریکی و صہیونی سازش قرار دیا، چین نے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کہا جبکہ روس نے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش۔ پاکستان نے بھی شدید ردِعمل دیا لیکن اس بار بات صرف بیانات تک محدود نہ رہی۔ سعودی پاکستان معاہدہ اسی عملی ردِعمل کا اظہار ہے جس نے اسرائیل کو ایک غیر علانیہ پیغام دے دیا کہ مسلم دنیا اب اپنی سکیورٹی خود سنبھالنے کو تیار ہے۔
ملکی سیاست کے تناظر میں یہ معاہدہ غیر معمولی ہے۔ معاشی بحران، سیاسی بے یقینی اور عوامی بے چینی کے ماحول میں ایک بڑے سفارتی اقدام کی ضرورت تھی۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب اور معاہدے پر دستخط نے نہ صرف حکومت کی ساکھ بہتر بنائی بلکہ اپوزیشن کے اس بیانیے کو بھی کمزور کیا کہ حکومت عالمی سطح پر تنہا ہے۔ فوجی قیادت کی شمولیت نے یہ تاثر دیا کہ ریاست اپنی پالیسی میں یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سے عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے محفوظ ہے اور بین الاقوامی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔
یہ معاہدہ صرف دفاعی نہیں بلکہ معاشی تعلقات کا نیا دروازہ بھی ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ دفاعی تعاون کے ساتھ یہ سرمایہ کاری زیادہ پائیدار ہو گی۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر سامنے آئے گا۔ دونوں ممالک ہتھیاروں کی پیداوار، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ کریں گے، جس سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب مؤثر انداز میں دیا جا سکے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ جذباتی اور مذہبی رشتوں پر قائم رہے ہیں۔ ماضی میں سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحرانوں میں سہارا دیا، جبکہ پاکستان نے بھی مختلف خطے کی جنگوں اور تنازعات میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔ یہ معاہدہ اس تاریخی تعلق کو نئی بلندی پر لے گیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کا رشتہ محض وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل سٹریٹجک پارٹنرشپ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے اتحادوں میں یہ معاہدہ ایک نئے باب کی علامت ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ بہتری، چین کی ثالثی اور خطے میں نئی صف بندی پہلے ہی تبدیلی کی نشاندہی کر رہی تھی۔ اب پاکستان کو ساتھ ملا کر سعودی عرب نے اپنی پشت مضبوط کر لی ہے۔ پاکستان کی فوجی طاقت اور ایٹمی حیثیت کو نظرانداز کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ترکی اور ایران پہلے ہی اسرائیل کے خلاف مؤقف رکھتے ہیں، ایسے میں سعودی پاکستان معاہدہ مسلم دنیا میں مزید اتحاد پیدا کر سکتا ہے۔ اگر یہ اتحاد آگے بڑھا تو اسرائیل اور اس کے مغربی حامیوں کے لیے نئی مشکلات جنم لیں گی۔
یہ سب عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی پاکستان معاہدہ محض کاغذی اعلان نہیں بلکہ ایک عملی قدم ہے جو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ یہ دشمنوں کے لیے خطرے کا پیغام اور دوستوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب مستفید ہوں گے بلکہ مسلم امہ کو بھی اتحاد کی اہمیت کا یقین دلایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ اسی پس منظر میں ایک تاریخی موقع ہے جس نے دونوں ممالک کی دوستی کو نئی جہت دی ہے۔ آج جب اسرائیل جارحیت کو پالیسی بنا رہا ہے اور امریکہ کی سکیورٹی گارنٹی محض وعدوں تک محدود ہے تو ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا نیا دفاعی باب
09:23 AM, 23 Sep, 2025