سفارتی میدان ہو یا معاشی چیلنجز۔۔۔ ہر طرف سے اچھی خبریں پاکستان کی منتظر ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔ اور مرکز نگاہ کیوں نہ بنے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اپنی مدبرانہ اور قائدانہ صلاحیتوں سے کئی ممالک کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ جہاں سفارتی کامیابیاں پاکستان کے قدم چوم رہی ہیں وہیں وطن عزیز کو داخلی و خارجی دباؤ کے ایک نازک مرحلے کا بھی سامنا ہے۔ اندرون خانہ استحکام کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں قومی یکجہتی، اداروں پر عوامی اعتماد اور آئینی حدود کا احترام کسی بھی ذمہ دار شہری یا سیاسی قوت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے کچھ جماعتیں اور ان کے حامی بیرونی فورمز پر بیٹھ کر اسی امتزاج کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں، اور تحریک انصاف کی برطانیہ شاخ کی حالیہ ٹویٹ اسی طرزِ عمل کی واضح مثال ہے۔ٹویٹ میں ججز کے بارے میں جو بیانیہ دیا گیا وہ بظاہر ’’مزاحمت‘‘ اور ’’جرأت‘‘ کی تعریف کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک خطرناک پیغام چھپا ہے۔ تحریک انصاف کا ایجنڈا کھل کر سامنے آ رہا ہے اور یوں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ جماعت وطن عزیز کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کے درپے ہے۔
اگر اختلاف یا اعتراض ہیں تو انہیں سپریم کورٹ، مجاز فورمز یا پارلیمان میں لانا چاہیے نہ کے لندن یا نیویارک میں بیٹھ کر ٹویٹس داغے جائیں اور اپنے ہینڈلرز کی مدد سے ملک دشمن پراپیگنڈے کو تقویت دی جائے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاستی اداروں کو بدنام کرنا دراصل دشمن قوتوں کے لیے پراپیگنڈے کا موقع فراہم کرنا ہے، اور یہ پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں۔یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت ’’انصاف‘‘ یا ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر بیانیہ تشکیل دیتی ہے تو اس کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے؟ اکثر ایسا بیانیہ ذاتی بقا، قیادت کے تحفظ یا وقتی سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جب سیاسی قیادت کو قانونی یا سیاسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو بیانیے میں اداروں پر حملے تیز ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً عوام میں اداروں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور سیاسی عدم استحکام جنم لیتا ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ وہ قوتیں اٹھاتی ہیں جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہیں۔عدلیہ ہمارے نظام انصاف کی بنیادی ستون ہے۔ ججز کا فرض ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کی خواہشات کے مطابق۔۔۔ اور یقینی طور پر معزز جج ہمیشہ اپنے منصب کی لاج رکھتے ہیں۔ جب عدلیہ کو کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت پیش کیا جاتا ہے تو ادارے کا وقار مجروح ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد بھی کم ہو جاتا ہے۔ انصاف کو سیاسی نعروں کے پیچھے چھپا کر پیش کرنا جمہوریت کا تقاضا نہیں بلکہ انتشار کا آغاز ہے۔ اس لیے ججز کو بطور افراد یا ادارہ بطورِ خود اپنے پروفیشنل کردار میں آزاد رہنے دیا جانا چاہیے، اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کو زیرِ بحث لانے کے بجائے عدالتی فیصلوں کا قانونی راستہ اختیار کریں۔ بیرونِ ملک بیانیہ چلانے سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج متاثر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کئی حوالوں سے چیلنجز کا شکار ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اگر ایک گروہ خود ملک کے وقار کو ٹھیکیدار بنا کر باہر بیٹھ کر معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے تو اس کا براہِ راست نتیجہ دشمن پروپیگنڈے کی تقویت میں نکلتا ہے۔ دشمن قوتیں جو ہماری کمزوریوں کو اجاگر کر کے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں، وہ اسی قسم کے بیانیوں کو بطور مواد استعمال کرتی ہیں۔ بیرونِ ملک اداروں کو ہدف بنانا مزاحمت نہیں بلکہ قومی وحدت کی فروخت ہے۔
سیاست میں اختلافِ رائے، احتجاج اور تنقید کی لازمی گنجائش ہوتی ہے مگر سب کچھ قوم کے مفاد میں ہونا چاہیے۔ اگر سیاست ذاتی مفاد یا اقتدار کی بقا کا ذریعہ بن جائے اور ادارے سیاسی جنگوں کے شکار بنیں تو یہ محض سیاست نہیں بلکہ ملک دشمنی کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اس کا بیانیہ قوم کے فائدے کے لیے ہے یا دشمنوں کے مفاد میں؟ جب بیانات قومی مفاد کے منافی ہوں تو ان کا عوامی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔
اصل بہادری اور مزاحمت وہ نہیں جو بیرونی محاذ پر شور مچا کر قوم کو تقسیم کرے، بلکہ وہ ہے جو قومی اداروں کو مضبوط کرے، آئین و قانون کی پاسداری یقینی بنائے اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھے۔ بہادری اس میں ہے کہ مشکل فیصلے آئینی فریم ورک کے اندر لیے جائیں، اختلافات کو قانونی ذرائع سے سلجھایا جائے اور عوام کی سلامتی و ترقی کے لیے مربوط پالیسیاں اپنائی جائیں۔ بیرونی حمایت یا غیر ملکی پذیرائی کے لیے قومی یکجہتی قربان کرنا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک عمل ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو قوتیں اندرونی طور پر عوام اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرتی ہیں، وہ آخرکار ناکام ہوتی ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور اس کے ادارے جماعتوں سے کہیں بڑے ہیں، یہی ادارے ملک کو چلانے، قانون و انصاف کی فراہمی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ اگر تحریک انصاف کی بات کریں تو ان کے چند بڑے اور سینئر رہنماؤں کو گہرائی سے سوچنا ہو گا کہ کیا ہم اپنی وقتی سیاسی ترجیحات کے لیے قومی سلامتی، بین الاقوامی ساکھ اور اندرونی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟ اگر ہماری جواب دہی عوام کے سامنے ہے تو پھر ہمیں بھی عوام کے مفاد کو مقدم رکھ کر عمل کرنا ہو گا۔ بیرون ملک ٹویٹس یا بیانات کا مقصد اگر ملکی امور کو بہتر بنانا نہیں بلکہ قیادت کی ساکھ بچانا ہے تو وہ قوم کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان کو آج اتحاد، یکجہتی اور آئینی بالادستی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ سیاست کا مقصد عوام کو بہتر زندگی فراہم کرنا ہونا چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کی خاطر اداروں کو نشانہ بنانا۔ جو بیانیہ قومی وحدت کو کمزور کرے، وہ سیاست نہیں بلکہ نقصان ہے۔ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ ایسے بیانیوں کا مقابلہ کریں اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کریں، تاکہ آئندہ نسلیں ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار پاکستان دیکھ سکیں۔
پی ٹی آئی کی انتشار کی بڑھتی سیاست
09:20 AM, 23 Sep, 2025