پاک سعودی سٹرٹیجک شراکت داری یا دفاعی معاہدہ…!

09:20 AM, 23 Sep, 2025

بدھ کو سعودی حکومت کے دارالحکومت ریاض میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلیمان نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کو ’’پاک سعودی سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے SMDA ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت سعودی عرب اور پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ دونوں ملکوں پر حملہ تصور ہو گااور دونوں ملک مِل کر حملہ آور کا مقابلہ کریں گے۔ اس معاہدے کو پاکستان کی فوجی طاقت اور سعودی مالیاتی وزن سے خلیج کی سلامتی میںایک نئے دور سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اس پر دستخطوں کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے۔ دونوں ممالک میں مشترکہ سٹرٹیجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں یہ معاہدہ ہوا جو دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کی جہاں عکاسی کرتا ہے وہاں خطے اور دنیا میں امن و امان کے حصول کے مشترکہ عزم کا بھی عکاس ہے۔ اس کے تحت دونوں برادر ممالک کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کی گہرائی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور متوقع خطرات سے نمٹنے کے ساتھ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوئوں کو فروغ دیا جائے گا۔ 
پاک سعودی سڑٹیجک شراکت داری معاہدے SMDA یا عرفِ عام میں دفاعی معاہدے کو پاکستان اور سعودی عرب کی اعلیٰ ترین قیادتوں کے بلند ویژن ، باہمی اعتماد و دوستی، گہری قربت اور انتہائی قریبی تعلقات روابط کا عکاس قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس معاہدے کے طے پانے میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے اور اسے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادتوں کے درمیان باہمی اعتماد ، غیر معمولی ہم آہنگی، بہترین ٹیم ورک اور کامیاب رابطہ کاری کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے تو دوسری طرف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کے بلند ویژن اور گہری سوجھ بوجھ کی بھی تعریف ہو رہی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے موجود قریبی برادرانہ تعلقات اور دفاعی شعبوں میں شراکت داری کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے حکمران اس معاہدے کے حوالے سے کتنے پُر جوش اور خوش ہیں، اس کا اندازہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اوران کے وفد کے ارکان کی سعودی دارالحکومت ریاض میں آمد کے موقع پر انتہائی پرتباک خیر مقدم اور پُر جوش استقبال سے لگایا جا سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کا طیارہ سعودی عرب کی فضائوں میں داخل ہوا تو سعودی فضائیہ میں شامل اور جدید ترین F-15 لڑاکا طیاروں نے اسے اپنے جلوس میں لے کر ریاض پہنچایا۔ ریاض میں شاہی محل قصرِ یمامہ میں وزیرِ اعظم پاکستان اور ان کے وفد کے ارکان جن میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نمایاں تھے کے اعزاز میں جو استقبالیہ تقریبات ہوئیں وہ معمول سے بڑھ کر تھیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کے ساتھ گھڑ سوار دستے کی سلامی اور بینڈ کا قومی دھنیں بجانا غیر معمولی سمجھا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہانِ حکومت (وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان ) کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے مناظر اور معاہدے پر دستخطوں کی تقریب اور دستخطوں کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو گلے سے لگانا ایسے مناظر تھے جن سے پتہ چلتا ہے کہ اعلیٰ ترین سعودی قیادت اس معائدے سے کتنی خوش اور مطمئن ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی برادرانہ تعلقات کے ساتھ باہمی دفاعی تعاون کے گہرے روابط چلے آ رہے ہیں ۔ یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کے فوجی دستے یا فوجی مشن کم یا زیادہ تعداد میں ہر دور میں سعودی عساکر کی تربیت اور دوسرے دفاعی مقاصد کے لیے سعودی عرب میں تعینات چلے آ رہے ہیں۔ حرمین شریفین کے تحفظ کا ایک غیر رسمی معاہدہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پچھلی صدی کی اَسی کی دہائی میں جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی تواُس دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون انتہائی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایک طرف صیہونی خطرہ سعودی عرب کی سرحدوں پر منڈلا رہا تھا تو دوسری طرف ایران میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد عرب ایران تعلقات میں بگاڑ ہی پیدا نہیں ہو چکا تھا بلکہ سعودی عرب کے فرماں روا اِس انقلاب کو بادشاہت کے لیے ایک خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ اس میں وہ کسی حد تک حق بجانب بھی تھے کہ ایران میں امام خمینی سمیت اسلامی انقلاب کے داعی جہاں امریکہ کو شیطان بزرگ قرار دے کر اُس پر موت کے تبرّے بھیجتے تھے وہاں سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کو امریکہ کا حاشیہ بردار اور پٹھو قرار دے کر ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔ پھر اسی دور میں ایران اور عراق کے درمیان شط العرب کے مسئلے پر جنگ شروع ہو گئی جو کئی برس تک جاری رہی ۔ اس سے بھی عرب ایران تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ حالات و واقعات کا یہ پس منظر اور پیش منظر ایسا تھا کہ سعودی حکمران اسے اپنے لیے حقیقی خطرہ سمجھتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے سعودی عرب کے دفاع بالخصوص حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کے تحت پاکستان کے ساتھ رسمی یا غیر رسمی طور پر دفاعی روابط کو وسعت دی۔ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اس دور میں پاکستان کا ایک پورا مسلح بریگیڈ سعودی عرب کے شمالی شہر تبوک جو سعودی عرب کی ایک بڑی چھائونی ہے میں متعین رہا۔ تبوک وہی مقام ہے جہاں نبی پاک حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ میں رومی شہنشاہ ہرقل جس کی سلطنت شام، فلسطین اور اُردن تک پھیلی ہوئی تھی کا مقابلہ کرنے کے لیے نو ہجری میں غزوہِ تبوک پیش آیا تھا۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی ائیر ڈیفنس سے متعلقہ عسکری شعبوں میں ہمارے کچھ فوجی دستے متعین رہے۔ میرے بڑے بھائی حاجی ملک غلام رزاق جن کا تعلق پاک فوج کی سگنل کو ر سے تھا وہ بھی اڑھائی تین سال کے لیے اس دستے میں شامل رہے۔
اس ساری تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے رسمی یا غیر رسمی طور پر ایم او یوز یا معاہدے کب سے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے عشرے یا ڈیڑھ عشرے کے دوران بدلتے عالمی منظر نامے کی وجہ سے اِن ایم او یوز یا رسمی یا غیر رسمی معاہدوں کے باوجود پاک سعودی سٹریٹیجک شراکت داری یا دفاعی تعاون میں وہ گرم جوشی باقی نہ رہی جو ماضی میں اس کا خاصا تھی۔ اب اس صورتحال میں پاکستان کی سویلین اور عسکری قیات کی سعودی عرب کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری یا دفاعی معاہدے کے لیے پیش رفت اور اسے نتیجہ خیز بنانا یقینا بڑی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔اس کے لیے جہاں پاکستان بھر میں خوشی ، مسرت اور اطمینان کا اظہار سامنے آیا ہے وہاں سعودی عرب میں بھی حکومتی اور عوامی سطح پر بے پناہ مسرت اور اطمینان کے مناظر سامنے آئے ہیں بلکہ یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ قطر اور متحدہ عرب امارات جیسی خلیجی ریاستیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سڑٹیجک شراکت داری کی اس مثبت پیش رفت کو امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔

مزیدخبریں