مادرِ جمہوریت کی قربانیوں کو خراجِ تحسین ، بیگم نصرت بھٹو کی 14ویں برسی

12:48 PM, 23 Oct, 2025

کراچی : آج بیگم نصرت بھٹو کی 14ویں برسی منائی جا رہی ہے، جن کی ملک و قوم کے لیے جمہوریت کی جدوجہد کبھی فراموش نہیں کی جا سکے گی۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، اور وہ ہمیشہ پاکستانی تاریخ میں مادرِ جمہوریت کے طور پر جانی جائیں گی۔

بیگم نصرت بھٹو 23 مارچ 1929 کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک بڑے کاروباری شخصیت تھے، اور 1951 میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کی۔ ان کے چار بچے تھے: بینظیر بھٹو، صنم بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو۔

انہوں نے نہ صرف اپنے شوہر کی حکومت کے دوران ان کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد، جب انہیں اور ان کی بیٹیوں کو نظر بند کر دیا گیا، تب بھی بیگم نصرت بھٹو نے حالات کا مقابلہ کیا اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے کٹھن وقت میں بھی جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک، عوام اور جمہوریت کے لیے ایک عظیم تاریخ چھوڑ کر گئیں۔ وزیر محنت سعید غنی نے بھی کہا کہ بیگم نصرت بھٹو نے اپنے شوہر کی پھانسی، اپنے دو بیٹوں اور بیٹی کی موت کے دکھ سہے، اور زندگی کے آخری ایام میں بیماری کا شکار ہو گئیں، مگر ان کی قربانیاں کبھی نہیں بھلائی جا سکیں گی۔

بیگم نصرت بھٹو 23 اکتوبر 2011 کو دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی جمہوریت کے لیے کی جانے والی جدوجہد ہمیشہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں زندہ رہے گی۔

مزیدخبریں