منزل صفر کی ،مگر راستہ ایک کا۔۔!!

09:23 AM, 23 Oct, 2025

چوپال سجی ہوئی تھی۔ چپ سائیں سمیت سب موجود تھے۔ چپ سائیں نے کہابچو آج میںسب کو ایک انتہائی سبق آموز قصہ سنائوں گا۔ سب ہمہ تن گوش ہوئے اور چپ سائیں کی طرف متوجہ ہوگئے۔ چپ سائیں نے کہاکہ میرے چوپال کے بچو اور دوستو۔ گزرے وقتوں کی بات ہے کہ دور دراز کے گائوں میں ایک شخص ایک کنویں کے پاس رہتا تھا اس کی گزر بسر بہت مشکل سے ہوتی تھی، وہ دن بھر لوگوں کو کنویں سے پانی نکال کر پلاتا تھا ۔ اس کو اس کام کا کوئی معاوضہ تو نہ ملتا تھا لیکن وہ نوجوان پھر بھی دلی تسکین کے لیے یہ کام کرتا تھا۔ ایک روز ایک فقیر کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے پانی کے لیے صدا لگائی۔۔ نوجوان نے حسب معمول پانی پلادیا ۔ پانی پینے کے بعد اس فقیر نے کہاکہ بچہ بتائو گزر بسر کیسے ہوتا ہے ؟اور پانی کا کوئی معاوضہ ملتا ہے؟ اس پر نوجوان بولا نہیں بابا جی کچھ نہیں ملتا۔۔۔ فقیر نے سر کھجایا اورتھوڑی دیر کے بعد بولا۔۔ بچے اپنا ہاتھ ادھر لائو۔۔ نوجوان نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔ فقیر نے اس پر اشارے سے ایک لکھ دیا اور صدا لگاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔ اس کے کچھ دیر بعد بادشاہ وقت کے سرکاری اہلکار آئے اور کہا اے پانی پلانے والے نوجوان بادشاہ وقت کا فرمان ہے کہ تمہیں پانی پلانے کا ایک درہم معاوضہ دیا جائے۔۔۔ اس پرنوجوان خوش ہوگیا۔۔ وقت گزرتا گیا۔۔نوجوان کی حالت کچھ سنبھلی۔۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور فقیر کا گزر ہوا۔ اس نے بھی پانی طلب کیا۔۔ نوجوان نے پانی پلایا۔۔ فقیر نے خوش ہوکر کہا ہاتھ آگے بڑھائو۔۔ نوجوان نے ہاتھ بڑھایا۔۔ فقیر نے اس پر اشاروں میں صفر لکھ دیا۔۔ اس طرحـ وہ ایک سے صفر ساتھ ملا کر دس ہو گیا۔۔ بادشاہ وقت نے معاوضہ دس درہم کردیا۔۔ خیر مزید کچھ وقت گزرا۔۔ ایک اور فقیر آیا اس نے خوش ہوکر ایک اور صفر کا اضافہ کردیا اس طرح وہ دس سے سو درہم ہوگیا۔ اس طرح نوجوان کا معاوضہ سو درہم ہوگیا۔۔۔چپ سائیں تھوڑی دیر کے لیے چپ کرگئے۔ پانی پیااور دوبارہ شروع کیا۔۔
چپ سائیں بولے بچو کچھ عرصہ بعد پہلے والے فقیر کا دوبارہ گزر ہوا۔ نوجوان پہچان گیا۔۔ فقیر نے پانی طلب کیا۔۔ نوجوان نے پانی پلایا۔۔ تھوڑی دیربعد فقیر نے کہاکہ نوجوان مجھے نہلا بھی دو۔۔ اس پر نوجوان نے کہا جائوبابا جی اتنا ہی بہت ہے۔۔ آپ کے بعد دو اور بزرگ آئے اور انہوں نے ایک کے ساتھ صفروں کا اضافہ کیااور میں خوشحال ہوگیا۔۔ آپ کو پانی پلایا اب کہتے ہو کہ مجھے نہلا بھی دو۔۔ جائیں بابا جی۔۔ جائیں۔ اس پر فقیر نے کہا بچہ ہاتھ ادھر لائو۔۔ نوجوان نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔ فقیر نے اسی طرح اشارے سے ایک کو حذف کردیا اور اس طرح سب صفر صفر ہوگیا۔۔
چپ سائیں بولے۔۔ بچو۔۔ جس چیز نے بھاگ لگائے ہوں اس کو کبھی نہ بھولنا اور جس نے مشکل وقت میں احسان کیا ہو عمر بھر اس کا احسان یاد رکھو۔کہانی ایک اور صفر کے درمیان ہوتی ہے۔۔ چوپال کے بچو زندگی میں جس مرضی مقام پر پہنچ جائو احسان فراموشی کبھی مت کرو۔صاحبو!جب ہم احسان کرنے والے کو یاد رکھتے ہیں، تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا دل نرم ہے اور ہم دوسروں کی محبت اور محنت کو سراہتے ہیں۔ یہ بزرگی کا نشان ہے کہ ہم اپنی انا کو پیچھے رکھ کر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔احسان کو یاد رکھنا ایک روحانی تعلق قائم کرتا ہے جو انسان کو اپنے رب کے قریب بھی لے جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی ہمیں شکر گزار ہونے والا بننے کا حکم دیتا ہے، اور شکر گزاری کے ذریعے ہماری زندگی میں برکت آتی ہے۔زندگی میں رشتے تبھی قائم رہتے ہیں جب ہم ایک دوسرے کی محبت اور احسان کی قدر کریں۔ احسان کو یاد رکھنے سے تعلقات میں دراڑیں نہیں پڑتیں، بلکہ وہ مضبوط ہوتے ہیں۔
احسان کو یاد رکھنا ایک مثبت رویہ ہے جو ہمارے سماجی ماحول کو خوشگوار اور ہمدرد بناتا ہے۔ اس سے دوسروں میں بھی نیکی کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور محبت کے بیج بونے کا موقع ملتا 
ہے۔احسان کو یاد رکھنے سے انسان کے دل میں اطمینان اور خوشی آتی ہے۔ ناشکری اور فراموشی سے ذہنی بوجھ بڑھتا ہے، جب کہ شکرگزاری اور یادداشت سے ذہن ہلکا اور خوش مزاج رہتا ہے۔اپنے احسان کرنے والوں کے لیے دعا کرنا اور ان کی خوشی کی خواہش کرنا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔چاہے چھوٹا سا بھی ہو، نیکی کے لیے لفظوں میں شکریہ ادا کرنا تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔اگر ممکن ہو تو جس نے مدد کی ہی بدلے میں اس کی مدد کرو،بچو اپنے دل اور ذہن میں احسان کو یاد رکھنے کی عادت ڈالیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چراغ سے چراغ جلائیں۔
دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی موقع پر کسی دوسرے انسان کی مدد، محبت یا قربانی کا سامنا ہوتا ہے۔ کوئی وقت پر ساتھ دیتا ہے، کوئی لفظوں سے حوصلہ دیتا ہے، کوئی مالی مدد کرتا ہے یا کوئی صرف دعائیں دیتا ہے ۔دوستو! یہ سب احسان کی ہی صورتیں ہیں لیکن اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب وہ وقت گزر جاتا ہے اور انسان پر خوشحالی یا سہولت آتی ہے۔ ایسے وقت میں احسان کو یاد رکھنا انسان کے اخلاق، ظرف اور شرافت کا آئینہ ہوتا ہے۔
صاحبو!احسان یاد رکھنا انسان کے کردار کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسا انسان نہ صرف دوسروں کی قدر کرتا ہے، بلکہ وہ اعتماد اور محبت کے رشتے قائم رکھتا ہے۔اسلام اور دیگر مذاہب میں احسان کا بدلہ احسان سے دینے اور شکرگزاری کو عبادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔سچ ہی کیاگیا ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔میرے بچوجب ایک معاشرہ احسان کرنے والوں کو یاد رکھتا ہے تو وہاں اعتماد، خیرخواہی اور ہمدردی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے ترقی کرتے ہیں۔احسان کرنے والے کو یاد رکھنا نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ایک روحانی اور انسانی ضرورت بھی ہے۔ یہ ہماری زندگیوں میں محبت، اعتماد اور سکون کا دروازہ کھولتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس عادت کو اپنائیں، تو نہ صرف ہمارے تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ ہمارا وجود بھی خوشحال اور بابرکت ہوگا۔
صاحبو!آئیں ہم سب اس خوبی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ نہ صرف ہم ایک بہتر انسان بنیں بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک خوبصورت اور مہربان جگہ بن جائے۔اللہ کریم ہمیں آسانیاں پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کا موقع دے۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں