معیشت، امن اور احتجاج ، کب رکے گا نقصان کا یہ سلسلہ؟

09:23 AM, 23 Oct, 2025

دنیا کے ہر معاشرے میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب ریاست کو کچھ سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں کیونکہ اس بات کی شناسائی ضروری ہے کہ برداشت کی لکیر کہاں ختم ہوتی ہے اور قانون کی عملداری کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) پر ممکنہ پابندی بھی اسی نوعیت کا نازک موڑ ہے۔ پنجاب حکومت نے اس جماعت پر باضابطہ کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے، جب کہ وفاقی حکومت بھی اس کے خلاف مکمل پابندی لگانے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ جماعت مذہبی ہے یا سیاسی، بلکہ یہ ہے کہ کیا مذہب کے نام پر ایسا طرزِ احتجاج جائز ہو سکتا ہے جو ریاستی رٹ، شہری آزادی اور قومی معیشت تینوں کو زک پہنچائے؟تحریکِ لبیک کا سفر مذہبی جذبات کے اظہار سے شروع ہوا مگر وقت کے ساتھ اس کی احتجاجی سیاست شدت پسندانہ سمت میں نکل پڑی۔ دھرنے، شاہراہوں کی بندش، پولیس سے تصادم اور سرکاری و نجی املاک کی تباہی اب ہمارے احتجاجی کلچر کا حصہ بن چکے ہیں۔مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ اب یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف کا نہیں رہا بلکہ امنِ عامہ اور نظم و نسق کے تحفظ کا سوال بن چکا ہے۔ اسی لیے تنظیم کے نیٹ ورک، مدارس، فنڈنگ ذرائع اور قیادت کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی یہی احساس اب نمایاں ہے کہ اگر کوئی گروہ بار بار ریاستی اختیار کو چیلنج کرے تو اسے نظرانداز کرنا ریاست کی کمزوری تصور کیا جائے گا۔حکومت کے پاس اس پابندی کے لیے کئی دلائل ہیں جنہیں صرف سیاسی فیصلہ کہنا ناانصافی ہوگی۔ سب سے پہلا اور بنیادی نکتہ قانون و نظم کی بحالی کا ہے۔ اگر کوئی جماعت بار بار سڑکیں بند کرے، پولیس پر حملے کرے یا عوامی نقل و حمل کو مفلوج بنا دے، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام کے لیے قدم اٹھائے۔ دوسرا پہلو معاشی نقصان کا ہے۔ احتجاج اگر پرتشدد شکل اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف مظاہرہ گاہ تک محدود 
نہیں رہتے بلکہ پورے ملک کے صنعتی اور تجارتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ تیسرا نکتہ سرمایہ کاری پر منفی اثرات کا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ نہیں لگاتے جہاں سیاسی یا مذہبی شدت پسندی کسی بھی وقت سڑکوں کو مفلوج کر سکتی ہو۔ چوتھا نکتہ ریاستی وقار سے جڑا ہے۔ اگر کوئی جماعت کھلے عام ریاستی اداروں کو چیلنج کرے اور قانون بے بس دکھائی دے، تو اس کا نقصان صرف ملک کے اندر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہوتا ہے۔معیشت کے زاویے سے دیکھا جائے ماضی میں جس نے پر تشدد احتجاج کا رویہ اپنایا تب بھی اور اب ٹی ایل پی کے احتجاج نے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017  سے لے کر 2025  تک کے مختلف دھرنوں اور مارچز سے مجموعی طور پر 35 سے 40 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔ صرف حالیہ احتجاج کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش سے ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کو تقریبا 16.4  ارب روپے کا نقصان ہوا، جب کہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں 574 ملین روپے کی کمی برداشت کرنا پڑی۔ ملک کے مختلف شہروں میں تجارتی مراکز بند ہوئے، ٹرانسپورٹ رک گئی، اور ہزاروں ٹرکوں میں برآمدی سامان سڑکوں پر خراب ہو گیا۔ مزدوروں کو اجرت نہ ملی، فیکٹریاں خام مال سے محروم رہیں، اور کاروباری طبقہ سخت مالی دبائو میں آ گیا۔ یہ صرف کاغذی اعداد نہیں بلکہ معیشت کے جسم پر لگے وہ زخم ہیں جو ہر احتجاج کے بعد تازہ ہو جاتے ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ احتجاج ایک جمہوری حق ہے، مگر جب یہی احتجاج دوسروں کے حقوق پر حملہ بن جائے تو وہ حق نہیں رہتا بلکہ جرم بن جاتا ہے۔ آئینی و اخلاقی طور پر ہر شہری کو آزادیِ اظہار کا حق حاصل ہے لیکن یہ آزادی اس وقت حدود پار کر جاتی ہے جب وہ عوامی امن، کاروباری سرگرمیوں اور ریاستی نظم کو متاثر کرے۔ اس لیے حکومت کا موقف یہ ہے کہ ٹی ایل پی کی سرگرمیوں پر پابندی جمہوریت کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی عملداری کے حق میں ہے۔ البتہ ضروری ہے کہ یہ فیصلہ شفاف، قانونی اور غیر انتقامی بنیادوں پر کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کا سیاسی مفاد اس عمل پر غالب نہ آ سکے۔ریاست کو چاہیے کہ پابندی کے ساتھ ساتھ مکالمے کے دروازے بھی بند نہ کرے۔ اگر مذہبی یا سیاسی اختلاف رکھنے والے طبقات کو پرامن اظہارِ رائے کے پلیٹ فارم دیئے جائیں تو شدت پسندی خود بخود کم ہو سکتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ حکومت طاقت کے ساتھ دانائی بھی استعمال کرے۔ کسی بھی جماعت پر پابندی آخری راستہ ہوتی ہے، لیکن جب وہ ریاستی نظم، شہری آزادی اور معیشت، تینوں پر بوجھ بن جائے تو پھر فیصلہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) پر پابندی کے لیے جو جواز اور دلائل پیش کیے ہیں، ان میں بنیادی نکتہ قانون شکنی اور تشدد ہے۔ حکومت کے مطابق TLP کے احتجاج نے عوامی املاک کو نقصان، سڑکوں کی بندش اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں جیسے واقعات کو جنم دیا۔ مزید یہ کہ پارٹی کی سرگرمیوں سے ملکی معیشت، امن و امان، اور بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسی جماعت جو بارہا ریاستی رٹ کو چیلنج کرے، اسے قانون کے دائرے میں لانا ناگزیر ہے۔ٹی ایل پی پر ممکنہ پابندی ایک سخت مگر ضروری قدم دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ فیصلہ قانون کی روح کے مطابق، انصاف اور شفافیت کے ساتھ کیا گیا تو یہ نہ صرف ریاست کی رٹ کو بحال کرے گا بلکہ ملک کی کمزور معیشت کو بھی کچھ استحکام دے گا۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ایک طرف مذہبی جذبات کا طوفان ہے، دوسری جانب قومی معیشت کی ڈوبتی کشتی۔ ایسے میں ریاست کو توازن کا وہ نقطہ تلاش کرنا ہے جہاں ایمان بھی سلامت رہے اور نظام بھی قائم۔ اگر حکومت اس توازن کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو شاید یہی بحران ایک نئے قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد بن جائے ایک ایسا اتفاق جو قانون کی بالادستی، امن کے تسلسل اور معیشت کی بحالی کا ضامن ہو۔بطور پاکستانی اس رویے کی مذمت کرنی چاہئے اور متشدد احتجاج کا بائیکاٹ ہونا چاہئے خواہ جس دور میں بھی ہوا ہے اس قسم کے نظریات کی اب مکمل نفی ہونی چاہئے اور پاکستان زندہ باد کا پرچار وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، جیوے پاکستان۔

مزیدخبریں