کاروکاری، محض عورتوں کا مسئلہ نہیں

09:14 AM, 23 Nov, 2025

ایک حالیہ اخباری رپورٹ کے مطابق سندھ میں گذشتہ چار برسوں کے دوران کاروکاری کے نام پر 595 افراد کا خون بہایا جانا ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو ہماری اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ اعداد و شمار، جن میں 466 خواتین اور 129 مرد شامل ہیں، محض خبر نہیں بلکہ ہر نمبر کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا گھر، ایک تہذیبی شکست اور کسی انسان کی ختم شدہ زندگی کا دل خراش باب موجود ہے۔ 2022 میں 102 واقعات میں 114 افراد، 2023 میں 151 واقعات میں 167 افراد، 2024 میں 132 واقعات میں 152 افراد اور 2025 کے صرف دس ماہ (اکتوبر تک) میں 140 کیسز میں 162 افراد قتل کیے گئے۔ وقفے وقفے سے بڑھتی ہوئی یہ خونریزی ہمارے معاشرے میں اس جڑ پکڑے ہوئے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ حملے اکثر اسی گھر کے اندر ہوئے جہاں انسان کو سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے تھا۔ سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ملزمان میں 294 قاتل مقتولین کے قریبی رشتہ دار شوہروں، والدین، بھائیوں، بیٹوں، بیٹیوں اور بہنوں پر مشتمل تھے۔ اس کے علاوہ 204 دیگر قریبی رشتے دار اور 16 پڑوسی و دوست بھی اس ظلم میں شریک پائے گئے۔ اگر تفصیل میں جائیں تو 171 واقعات میں شوہر قاتل ٹھہرے، 33 میں باپ نے اپنی اولاد کا خون کیا، 77 واقعات میں بھائیوں نے بہنیں یا بہنوئی مار ڈالے۔ یہ تصویر محض کسی فرد کا جرم نہیں بلکہ ہماری خاندانی ساخت میں موجود اْس ذہنیت کی عکاسی ہے جو صدیوں سے عورت کے جسم، اس کے فیصلے اور اس کی زندگی کو خاندان کی "عزت" کے برابر رکھتی ہے۔
قابلِ غور حقیقت یہ بھی ہے کہ کاروکاری کا شکار صرف خواتین نہیں ہوتیں۔ معاشرتی سوچ سے پیدا ہونے والے شکوک، طاقت کی لڑائیاں، مقامی جھگڑے اور ذاتی انتقام ایسے عناصر ہیں جن کی زد میں آ 
کر 129 مرد بھی اپنی جان سے گئے۔ اس لیے کاروکاری کو صرف ‘‘عورتوں کے خلاف جرم’’ کہنا اس کے اصل سماجی ہیولے کو چھوٹا کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ پورے معاشرے کے اندر گڑی ہوئی اس بیمار سوچ کا مظہر ہے جو انسانی جان کو "شک"، "غصے" یا ’"غیرت‘"کے نام پر قربان کرنے کو جائز سمجھ بیٹھتی ہے۔یہ مسئلہ کسی ایک شعبے کی ناکامی نہیں بلکہ ’ستون در ستون‘ کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ کمزور اور ادھورے قوانین، عدالتی عمل کی سست روی، پولیس کا غیر پیشہ ورانہ رویہ، گواہوں کا خوف، جرگہ و پنچایت کا غیر قانونی عمل دخل اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی ثقافتی قبولیت جو اس جرم کو بسا اوقات ’’حل‘‘ کے طور پر دیکھتی ہے۔ جب خاندان کے اندر ہی قتل ہوتا ہے تو اکثر ثبوت مٹا دیے جاتے ہیں، FIR مؤخر ہوتی ہے، گواہوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور متاثرہ خاندان کے افراد جان بچانے کے بجائے روایت بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروکاری کے زیادہ تر کیسز انجام تک نہیں پہنچتے۔ قاتل یا تو بری ہو جاتے ہیں یا صلح نامے،جو دراصل دباؤ کا نتیجہ ہوتے ہیں اور بچ نکلتے ہیں۔
قانون کی سطح پر اصلاحات ضروری ہیں۔ سندھ نے 2011 میں "قانونِ انسدادِ کاروکاری" منظور کیا لیکن اس قانون کا نفاذ آج بھی کمزور ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت تیز رفتار خصوصی عدالتیں قائم کرے جہاں ایسے مقدمات کو 90 دن کے اندر نمٹایا جائے۔ پولیس کو سائنسی طریقہ تفتیش، ثبوت محفوظ کرنے، اور متاثرین کی رازداری برقرار رکھنے کی مضبوط تربیت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی تعداد بڑھائی جائے، جہاں وہ قانونی، نفسیاتی اور عملی مدد حاصل کر سکیں۔ گواہوں کے لیے ایک مضبوط اور شفاف حفاظتی نظام ناگزیر ہے تاکہ سچ بولنے والے خوف سے آزاد ہوں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف قانون سے ذہنیت نہیں بدلتی۔ کاروکاری جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی سطح پر گہری اور مسلسل مداخلت درکار ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے سبق پڑھانے ہوں گے جن میں انسانی حرمت، صنفی مساوات اور اختلافات کے پرامن حل کی تربیت شامل ہو۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں صنفی شعور اور انسانی حقوق پر مبنی نصاب اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ معاشرتی تبدیلی عموماً اْنہی کی آواز سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اسلام کسی بھی صورت غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسے قتلِ ناحق قرار دیتا ہے۔
خواتین کی معاشی خودمختاری بھی اس مسئلے کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب عورت مالی طور پر کمزور ہو تو اس کی زندگی پر دوسروں کا اختیار زیادہ ہوتا ہے اور اس کی آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اسے جائیداد، وراثت اور معاشی مواقع تک حقیقی رسائی فراہم کیے بغیر ہم کاروکاری کے مسئلے کو جڑ سے نہیں کاٹ سکتے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی "مردانگی"کے درست تصور کی تعلیم بے حد ضروری ہے تاکہ خاندان کی عزت کو عورت کے وجود سے نہ جوڑا جائے۔ جب تک ہم زہریلے مردانہ رویوں کو چیلنج نہیں کریں گے، صرف سزا کا نظام اس مسئلے کو ختم نہیں کر پائے گا۔میڈیا کے کردار کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ کاروکاری کے واقعات کو سنسنی خیزی یا الزام تراشی کے بجائے انسانی ہمدردی کے زاویے سے رپورٹ کیا جانا چاہیے۔ عزت کوئی موروثی ورثہ نہیں جو عورت کی قربانی سے محفوظ کیا جائے۔ عزت دراصل کردار، دیانت، انصاف اور احترام کا نام ہے اور اگر خاندان اپنی عزت کو عورت کی زندگی پر منحصر دیکھتا ہے، تو یہ عزت نہیں بلکہ جہالت ہے۔واضح رہے کہ جو معاشرہ اپنی عورتوں اور نوجوانوں کو تحفظ نہیں دے سکتا، وہ خود اپنی بنیادیں کھو دیتا ہے۔ تبدیلی فرد سے شروع ہوتی ہے، پھر خاندان، پھر محلہ اور پھر معاشرہ اسے قبول کرتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی سوچ نہ بدلی تو آنے والی نسلیں یہی سوال دہراتی رہیں گی کہ آخر ایک انسان کی جان، خاندان کی عزت کم سے کم تر کیوں ہو گئی؟۔

مزیدخبریں