یہ منافقت ہے سیاست نہیں

09:12 AM, 23 Nov, 2025

کچھ دن پہلے اخباروکالمز کے ذریعے ہمیں جاننے والے ایک نوجوان کسی دور دراز علاقے سے ملنے آئے۔ہاتھ میں پوری ایک فائل تھی جس کے اندرسی وی سمیت تعلیمی اسنادودیگرسارے ضروری کاعذات تھے۔کہنے لگے جوزوی صاحب حلقے کے ایم پی اے اورایم این اے نے پاگل کر دیا ہے۔ ایک سال سے نوکری کے لئے مجھے چکروں پر چکر لگوا کر وہ نہ میراکام کررہے ہیں اورنہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کاکام نہیں کرسکتے۔آپ یقین کریں ہزاروں چکرمیں نے لگا دیئے ہیں۔ایک سال سے میں ان کے گردچکرپرچکرہی لگارہاہوں۔اب ان کے پاس جاتے ہوئے خود مجھے شرم آتی ہے لیکن انہیں کوئی احساس نہیں۔یہ ایک نوجوان کاروناہے لیکن نہ جانے اس ملک میںایسے کتنے نوجوان اس کرب، اذیت، امتحان، پریشانی اور عذاب سے گزر رہے ہیں۔ کام نہ ہونے یانہ کرنے کاکہنے سے انسان کواتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی تکلیف اور پریشانی انسان کومفت میں چکر پر چکردینے اورلگوانے سے ہوتی ہے۔ہمیں یادہے دس بارہ سال پہلے ہمارے ایک جاننے والے کوبھی اس نوجوان کی طرح ایک ایم این اے کے ہاتھوں ایسے ہی چکری حالات سے گزرناپڑاتھا،اس کاکوئی کام تھاجس کے لئے وہ روزانہ ایم این اے صاحب کے پاس کبھی پارلیمنٹ لاجزاسلام آباداورکبھی حلقے میں ان کے حجرے کے چکرلگاتا۔ایم این اے صاحب کی طرف سے ہربارایک جملہ دہرایاجاتاکہ دودن میں آپ کاکام ہوجائے گا۔جہاں تک ہمیں یادہے ایک سال تک تونہ وہ دودن آئے تھے اورنہ وہ کام ہواتھاپھرہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ لوگ ہرکسی کے پاس کام کے لئے نہیں جاتے جن سے امیداورتوقع ہوتی ہے انہی کے پاس جاتے ہیں۔ سیاستدان توسیاستدان ہمارے کئی دوستوں کوبھی ایم این اے اورایم پی اے والی یہی بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ایبٹ آبادکمپلیکس میں آئی ٹی سے وابستہ پیارے دوست شہبازجونیئراورسینئریہ دونوں اخلاق کے بہت اچھے اورانتہاء کے شریف ہیں،منہ پریہ کسی کام کی نانہیں کرتے لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی طرف اگرغلطی سے بھی کوئی کام آجائے توپھربندے کو سو چکردینے سے پہلے ان کوچین نہیں آتا،شہزاداورعلی وہ ان کے ہی پیٹی بندبھائی ہیں لیکن ہم نے خوددیکھاہے کہ غریبوں اورمجبوروں کاگھنٹوں والاکام وہ منٹوں میں کردیتے ہیں ۔ویسے ہماراکوئی کام ہووہ شہباز جونیئر ہوں یا سینئردونوں علی بھائی اورشہزادکی طرح ہمیشہ سیکنڈوں میں کر دیتے ہیں۔اپناتوعقیدہ ہے کہ کسی مجبوراورغریب کاکام کرنا اورمسئلہ حل کرانابھی عبادت اور بڑے ثواب کاکام ہے۔جولوگ غریبوں اور مجبوروں کے کام آتے ہیں وہ زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں پراللہ کی خاص رحمتیں اورنعمتیں برستی ہیں۔جولوگ غریبوں اورمجبوروں کولالی پاپ تھماتے ہیں ایسے لوگ پھرزندگی میں خود بھی دوسروں کے لالی پاپ کانشانہ بنتے ہیں۔ جو سیاستدان کامیابی کے بعدحلقے کے عوام سے چکر کرتے ہیں سیاست کے میدان میں ان کے ساتھ بھی پھرچکرپر چکرہی ہوتاہے۔عام لوگوں کا تو خیر لیکن ہمارے سیاستدانوں کوعوام کے ساتھ ایساکھیل نہیں کھیلناچاہیئے۔لوگ سیاستدانوں کوحلقے کی ترقی اوراپنے مسائل کے حل کے لئے ووٹ دیتے ہیں چکرکاٹنے کے لئے نہیں۔ووٹ دینے والوں کوجائزکاموں اوران کے آئینی وقانونی حقوق کیلئے چکر پر چکر دینا یہ  ہرگز کوئی انصاف نہیں۔ جو سیاستدان اور ممبران اسمبلی کسی غریب اور مجبورسائل کاکام نہیں کرسکتے وہ عدالتوں کی طرح اس کوآئندہ کی تاریخ دینے کے بجائے اسی وقت ہی کہہ دیاکریں کہ محترم یہ کام نہیں ہو سکتا۔ ماناکہ اس جملے سے سائل اور ووٹر کو وقتی طورپر تکلیف ضرورہوتی ہے لیکن کل اورپرسوں پرٹالنے سے اس کاجتنانقصان ہوناہے اس سے تووہ بے چارہ بچ جائے گا۔ کل پرسوں پرٹالنے سے نہ صرف اس غریب کابیڑہ غرق بلکہ خانہ بھی خراب ہوجاتاہے کیونکہ اس کے پاس جوجمع پونجی ہوتی ہے وہ روزانہ صاحب کے سلام کے لئے پہنچنے پرصرف ہوجاتی ہے اوپرسے جب اس کاکام بھی نہیں ہوتاتوپھراسے تکلیف نہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ہم نے ایسے کئی نوجوان دیکھے ہیں جنہوں نے ایک نوکری کے لئے سالوں تک سیاستدانوں اورمنتخب عوامی نمائندوں کے دفاتر،حجروں اورپارلیمنٹ لاجزکے چکرلگائے لیکن سالوں کے طواف کے باوجودان کونوکری نہیں مل سکی۔منتخب نمائندوں کے پاس لوگ صرف نوکریوں کے لئے نہیں جاتے۔ غریب اور مجبور لوگوں کو نوکریوں کے علاوہ اوربھی سوقسم کے مسائل اورکام ہوتے ہیں۔کہیں کسی علاقے میں پانی نہیں ہوتا،کہیں بجلی نہیں ہوتی۔صحت اورتعلیم سمیت لوگوں کے دیگربھی بہت سے مسائل منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔لوگ ایک امیداورآس لیکرانتہائی مجبوری سے اپنے نمائندوں اورسیاستدانوں کے درپر جاتے ہیں بغیرکام کے کسی کے درپرکون جاتا ہے لیکن جب ووٹ لینے والے یہی نمائندے اورسیاستدان سیاست کے نام پراپنے ہی عوام سے منافقت شروع کرتے ہیں توپھرغریبوں کے پاس آہیں بھرنے اور بددعائیں دینے کے سواکوئی چارہ نہیں رہتا۔ ہمارے بزرگ اکثرکہاکرتے تھے کہ مظلوم کی طرح غریب اورمجبورکی آہ بھی عرش کو ہلا دیتی ہے۔ اس لئے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کوغریبوں کی بددعاؤں سے بچنا چاہئے۔

مزیدخبریں