کیا بھارت کوئی سبق سیکھے گا؟

09:12 AM, 23 Nov, 2025

بھارت کے جہازوں سے متعلق جو خبریں تسلسل کے ساتھ آتی چلی جا رہی ہیں انہوں نے نہ صرف بھارتی حکام کو بلکہ پاکستانی عوام کو بھی ایک عجیب سی سوچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کبھی لڑاکا طیارے مار گرائے جاتے ہیں، کبھی کوئی مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، کبھی راجھستان میں جنگی جہاز گر کر تباہ ہو جاتا ہے اور کبھی دبئی جیسے بڑے ائیر شو میں بھارتی جہاز زمین سے ٹکرا کر آگ پکڑ لیتا ہے۔ ایک عام آدمی جب یہ سب خبریں سنتا ہے تو سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر بھارت کے جہازوں کو ہو کیا گیا ہے؟ چلو سات طیارے تو ایک جنگ کی نظر ہوئے لیکن باقی سب کچھ عام آدمی کو سوچ اور بھارتی حکومت اور عوام کو فکر میں ڈال رہا ہے۔ 
دنیا بھر میں کبھی کبھار حادثات ہو ہی جاتے ہیںاور ا گر بھارت کے ساتھ بھی ایک آدھ مرتبہ ایسا ہو جاتا تو بات سمجھ میں آتی تھی، لیکن تسلسل کے ساتھ ایسا ہونا یقینا ایک اچنبے کی بات ہے۔ جب چند ہی ماہ کے اندر اتنے ڈھیر سارے واقعات سامنے آئیں تو پھر یہ سوال تو بنتا ہے کہ آخر بھارت کی ہوا بازی کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اور کیوں لگتا ہے کہ مسئلہ کہیں نہ کہیں اور ہے ۔ بظاہر تو اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے اس کے اندرونی نظام میں گڑبڑ اورابتدائی طور پر بڑے پیمانے پر مالی کرپشن کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ 
 پاکستان اور بھارت کا تعلق ہمیشہ تناؤ اور کشیدگی کا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی تاریخ میں تلخیاں بھی آئیں، جنگیں بھی ہوئیں، جھڑپیں بھی ہوئیں، اور سیاسی بیانات نے ہمیشہ آگ بھی لگائی ہے، لیکن اس سب کے باوجود، انسانیت کی ایک لائن وہیں موجود رہتی ہے۔اگر کسی ملک میں حادثہ ہو، لوگ جان کھو بیٹھیں، تو دکھ تو ہوتا ہی ہے۔مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حادثے کم اور ایک گہرے انتظامی بگاڑ کی علامات زیادہ نظر آتے ہیں۔
 جب پاکستان نے بھارت کے سات جنگی جہاز مار گرائے تھے تو پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ بھارت کے جنگی جہاز اتنے قابلِ بھروسہ نہیں جتنے وہ سمجھے جاتے تھے اور جن کے بارے میںبھارتی میڈیا نے بہت شور مچایا رکھا تھا اور پراپیگنڈہ کیا ہوا تھا۔ 
احمد آباد والا واقعہ تو شاید بھارت کی تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک تھا۔ ایئر انڈیا کا بڑا ڈریم لائنر مسافر طیارہ، جس کے اندر سینکڑوں مسافر بیٹھے تھے، کچھ منٹ بعد ہی زمین بوس ہو گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنے جدید طیارے کے دونوں انجن ایک ساتھ بند ہو جائیں۔ لیکن رپورٹوں میں یہی سامنے آیا کہ دونوں انجنوں کا فیول کسی طرح بند ہو گیا تھا۔ یہ کیسا نظام ہے جس میں فیول کنٹرول سوئچز’رن‘ سے’کٹ آف‘ پر چلے جائیں؟ کیا یہ تکنیکی خرابیاں تھیں؟ کیا پائلٹس کی ٹریننگ ناکافی تھی؟ یا مینٹیننس میں لاپروائی؟ اصل بات جو بھی ہو، مگر انسانی جانیں چلی گئیں۔
ابھی اس حادثے کے زخم تازہ ہی تھے کہ بھارت کے علاقہ راجستھان سے ایک او رخبر آگئی۔ بھارتی فضائیہ کا Jaguar ٹرینر جہاز گر گیا اور اس کے دونوں پائلٹ جان بحق ہو گئے۔ 
ایسے واقعات چاہے کسی بھی ملک کے ہوں ایک انسان ہونے کے ناطے اس کا افسوس تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میرے دل میں یہ احساس بھی جاگتا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ اپنی طاقت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، مگر آج حقیقت کچھ اور ہی نظر آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھارت کے لوگ خود لکھ رہے ہیں کہ ان کی فضائیہ کے طیارے پرانے ہو چکے ہیں، مینٹیننس پر پیسہ کم لگتا ہے، اور حکومت صرف دکھاوے کی سیاست کر رہی ہے۔
یقینا بھارت ابھی پے در پے صدموں سے نکل بھی نہیں پایا ہو گا کہ دبئی ایئر شو میں بھارت کا Tejas نامی جنگی طیارہ ڈیمونسٹریشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ دنیا بھر کے کیمروں نے یہ منظر لائیو پیش کیا۔ بھارت نے اس شو کو اپنی طاقت دکھانے کا دن سمجھا تھا، مگر وہی دن اس کے لیے بدترین ثابت ہوا۔ بھارتی جہاز گر کر تباہ ہو گیا اور پائلٹ جان سے گیا۔ عالمی میڈیا نے خبر ضرور چلائی، لیکن بھارت کے لیے یہ واقعہ بہت بڑا دھچکا تھا۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ بہت شرمندگی کی بات ہوتی ہے کہ وہ باہر کی دنیا میں شو کرنے جائے اور اپنا ہی جہاز کنٹرول کھو کر زمین پر جا لگے۔
 بڑے بڑے ممالک جب جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی برتری کی بات کرتے ہیں تو ایسی ہی صورتحال ان کا اصل امتحان ہوتی ہے۔ صرف دعووں سے طاقت نہیں بنتی۔ پیسہ دکھا کر بھی طاقت نہیں بنتی۔ طاقت بنتی ہے کمٹمنٹ، بہترین ٹریننگ، بہترین مینٹیننس، اچھی سوچ، اور سب سے بڑھ کر احساس ذمہ داری سے۔بھارتی دفاعی اداروں میں ان چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ میں یہ بات میں کسی نفرت یا بدگمانی کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، بلکہ پے در پے واقعات نے یہ حقیقت کھول کرسامنے رکھ دی ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ بھارت اگر واقعی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہوتا تو اتنے حادثات اس کے نظام کا حصہ کیونکر بنتے؟۔
حالیہ واقعات نے دنیا کی ایک بڑی طاقت بننے کی بھارتی دعووں کی بھی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ، اگر کوئی ملک اپنے ہی جہازوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، اپنے مسافروں کی جان کی ضمانت نہیں دے سکتا، اپنے پائلٹس کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو وہ دنیا کی بڑی طاقت کیسے بنے گا؟۔ ایک اور بات بھی میرے ذہن میں آتی ہے کہ بھارت کے معاملات میں سیاست اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ عوامی سلامتی اور بنیادی سہولتوں پر توجہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مودی سرکارکا زیادہ تر فوکس بیانات، تصاویر، بڑے شو اور سیاسی نعروں پر رہتاہے۔ اصل مسائل ، چاہے غریبوں کے ہوں یا ایوی ایشن جیسے حساس شعبوں کے ،ان پر توجہ بہت کم ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بھارت پے در پے حادثوں اور شرمندگیوں کا شکار ہے۔
پاکستان کے لوگ ان واقعات کو ایک طرح سے بھارت کے غرور کا جواب بھی سمجھتے ہیں۔ جب کوئی ملک اپنے آپ کو بہت برتر سمجھنے لگے، تو قدرت کبھی کبھی اسے بھی آئینہ بھی دکھا دیتی ہے۔ اور یہ بات تاریخ میں بار بار دیکھی بھی گئی ہے۔
میرا تو خیال ہے کہ بھارت اگر اب بھی اپنی متکبرانہ پالسیاں ترک کرے، اپنے ایوی ایشن کا نظام بہتر کرے، اپنی غلطیاں قبول کر ے، اور ذمہ داری کا احساس کرے تو اس قسم کے حادثے رک بھی سکتے ہیں۔ میرے دل میں تو یہی خواہش ہے کہ ہمارے خطے میں امن ہو، لوگ محفوظ رہیں، حادثے بند ہوں، اور دکھ کم ہوں۔دیکھنا یہ ہے بھارت اپنے پے در پے نقصانات سے کوئی سبق سیکھتا ہے یا پھر بدستور اپنی ہٹ دھرمی کی پالیسی پر برقرار رہتا ہے۔

مزیدخبریں