کراچی:نامور پاکستانی اداکارہ صنم سعید نے حقوقِ نسواں کی موجودہ تحریکوں پر تنقید اور اصلاح کا پہلو نمایاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اپنے حقوق کے لیے ضرور لڑیں لیکن بات بات پر 'وومن کارڈ' کا سہارا لے کر اپنے مقصد کو کمزور نہ کریں۔
اپنے ایک تازہ انٹرویو میں ملک میں جاری خواتین کے حقوق کی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے صنم سعید نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو تعلیم، تحفظ، وراثت اور مساوی تنخواہ دلانے کی تحریک بے حد ضروری ہے کیونکہ پسماندہ طبقات کی عورتیں اب بھی ان بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ تاہم، اب حقوق کی اس جنگ کا رخ اصل مسائل سے ہٹ کر سطحی ابھاس کی طرف موڑ دیا گیا ہے، جو تشویشناک ہے۔
صنم سعید نے ورک پلیس پر صنفی برابری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک اہم نقطہ اٹھایا کہ خواتین کو معاشرے یا دفاتر میں محض عورت ہونے کی بنیاد پر خصوصی رعایتوں یا مطالبات کا تقاضا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے مؤقف کو میرٹ اور بنیادی حق کے طور پر منطقی انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مثبت اندازِ گفتگو اور مؤثر رابطہ کاری ہی حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اداکارہ کے اس نپے تلے اور بیباک بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صنفِ نازک کے حقوق اور وومن کارڈ کے استعمال پر صارفین دو دھڑوں میں بٹے نظر آ رہے ہیں۔
عورت ہونا رعایت کا جواز نہیں؛ صنم سعید کا حقوقِ نسواں پر حقیقت پسندانہ مؤقف
04:37 PM, 23 May, 2026