پاک چین دوستی کو پون صدی ہو چکی ہے۔ یہ دوستی سٹرٹیجک تعلقات میں ڈھل چکی ہے۔ تجارت کا فروغ اپنی جگہ لیکن دفاعی معاملات میں اشتراک ضرب المثل بن چکے ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کا ریڈور نے دو ممالک کی دوستی کو حقیقتاً بین الاقوامی تعلقات کی کسوٹی پر ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی کے حوالے سے 28مئی 1998ءمیں اس وقت بھی بہت کچھ سننے کو ملا جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا، اس وقت چاغی میں وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کے ساتھ ایٹمی دھماکوں کو ممکن بنایا تھا کہا جاتا ہے کہ اس وقت بھی وہاں چینی ماہرین موجود تھے لیکن ان کی موجودگی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ گویا چینی پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں بھی پاکستان کے ساتھ تھے پھر گزشتہ برس جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو جوابی کارروائی میں تھوڑی سی تاخیر ہوئی۔ کہا جاتا تھا ہم نے سنا کہ چینی کمک آرہی ہے پھر دنیا نے دیکھا کہ چند ہی گھنٹوں میں دنیا کی حربی و ضربی تاریخ میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ پاکستان نے ہندوستان پر ایسے جوابی کارروائی کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دشمن گھٹنوں کے بل جھک گیا۔ مودی سرکار بھاگتی دوڑتی امریکی صدر کے پاس جا پہنچی کہ جنگ بندی کرائی جائے۔ پاکستان نے زمینی، بحری، ہوائی افواج کو الیکٹرانک نظام کے ذریعے اس طرح جوڑا کہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن و معلومات کے ذریعے نہ صرف رافیل تباہ کئے، دہلی میں ہندوستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کیا بلکہ تیزی کے ساتھ تباہی مچائی کہ ہندوستان کو اپنا آپ بھول گیا، اسے پتہ ہی نہ چل سکا کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ پاکستان نے ساری فورسز کو ملا کر ایسی کوآرڈینیشن کے ساتھ نشانے لگائے کہ دور جدید کی حربی و ضربی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ پاکستان بھی فاتح قرار پایا اور چینی ٹیکنالوجی کی برتری اور فتح بھی ثابت ہو گئی، اس طرح پاک چین دوستی نے ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور سے آگے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے دور حاضر میں ٹیکنالوجیز کی انٹیگریشن کے ذریعے جو ایک نئی جہت سامنے آئی اس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اگر میں کہوں کہ دنیا کو پریشان کر دیا تو بے جا نہیں ہو گا۔ دنیا حیران و پریشان ہے کہ ایسا سب کچھ کیسے ممکن ہوا۔ ماہرین چین کی عالمی رینکنگ کے بارے میں نئے اندازے متعین کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان عالمی سفارتکاری میں اب جو ایک معتبر ثالث اور حکمتکار کے طور پر سامنے آیا ہے تو یہ اسی فتح مبین کا نتیجہ ہے۔ ایران، امریکہ جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تو قیامت صغریٰ برپا ہو چکی ہے۔ تعمیراتی و سیاحتی مراکز بند ہو گئے ہیں۔ بیروزگاری پھیل رہی ہے، تجارت ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ اشیاءخورونوش کی طلب و رسد میں گڑبڑ پیدا ہو چکی ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں زلزلہ آیا ہوا ہے۔ قیمتیں حیران کن حد تک اوپر کی طرف جا رہی ہیں۔ دنیا بالعموم اور یورپ بالخصوص پہلے ہی یوکرین، روس جنگ کے منفی اثرات تلے کچلا جا رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان جاری ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے اثرات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ معاشی معاملات گھمبیر ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ پاکستان امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے ثالثی کر رہا ہے، اسے نہ صرف فریقین کی آشیرباد حاصل ہے بلکہ چین، روس، سعودی عرب، ترکی و دیگر قابل ذکر اقوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سوائے اسرائیل و بھارت کے اورشاید متحدہ عرب امارات کے بھی، ساری دنیا پاکستان پر اعتماد کرتی ہے کہ پاکستان دنیا کو جنگ سے بچائے گا۔ پاکستان کی سفارتی و ثالثی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے اور فریقین پاکستان کے ذریعے مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ مذاکرات کے لئے ایک فریم ورک تیار ہو گیا ہے جس پر فریقین دستخط کریں گے اور پھر ایک ماہ میں باقاعدہ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے پائیں گے۔ دنیا کے لئے یہ بہت بڑی خبر ہے۔ پاکستان امن کا پیامبر ہی نہیں ایک بہت بڑا عامل بن کر عالمی منظر پر چھا چکا ہے۔ پاک چین دوستی امن و ترقی کا ایک استعارہ تھی جو اب ایک روشنی کا مینار بن کر دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔
ویسے عصر حاضر میں برطانیہ/ عیسائی اور یہودیوں کی دوستی بھی مثالی ہے۔ یہودیوں کے ساتھ برطانوی عیسائی حکمرانوں کی دوستی نے اسرائیل جیسی ایک ناجائز ریاست کو جنم دیا، جس نے گزرے 77 سالوں سے خطے کو جہنم بنا رکھا ہے۔ عربوں اور فلسطینیوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ خطہ ہمہ وقت حالت جنگ میں ہے۔ اب امریکہ، اسرائیل دوستی بھی فقید المثال ہے، اس دوستی نے اسرائیل کو دنیا کا امن تباہ و برباد کرنے کا نہ صرف حوصلہ دیا ہے بلکہ برطانیہ و امریکہ اسے گولہ بارود اور عسکری و مالی امداد بھی فراہم کرنا اپنا فرض دوستی سمجھتے ہیں تاکہ وہ اپنے ناپاک عزائم کو عملی شکل دے سکے۔ ریاست اسرائیل کا قیام عالمی و علاقائی امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ثابت ہو چکا ہے۔ صہیونی قیادت عظیم اسرائیل کے قیام کو اپنا الہامی فرض قرار دے کر اس کی تکمیل کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ بروئے کار لا رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ ہو یا جنوبی لبنان میں لشکرکشی، شام کے علاقوں پر قبضہ ہو یا غزہ کی پٹی پر تسلط قائم کرنا، ناجائز اسرائیل ریاست کا ہر قدم گریٹر اسرائیل کے قیام کی طرف پیش قدمی ہوتا ہے۔ ایران، امریکہ حالیہ جنگ بھی صہیونی قیادت کے طے شدہ منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ہے۔ ایران ریاست اسرائیل کے لئے خطرہ ہے اور اسرائیل کے دشمنوں کا قلع قمع کرنا صہیونی قیادت اپنا الہامی فرض سمجھتی ہے اور وہ اسی جذبے کے ساتھ عربوں ، فلسطینیوں، ایرانیوں اور مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ پاک چین دوستی امن و ترقی کا استعارہ نہیں۔ روشن مینار ثابت ہو چکی ہے جبکہ اسرائیل، برطانیہ اور اسرائیل امریکہ دوستی عالمی امن کے لئے زہر قابل ثابت ہو چکی ہے۔ پاک چین دوستی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔
پاک چین دوستی، امن و ترقی کا روشن مینار
09:06 AM, 23 May, 2026