سفارتکاری سے پائیدارامن

09:06 AM, 23 May, 2026

تصفیہ طلب مسائل کاحل سفارتی کوششوں سے ممکن ہے جنگیں کسی طرح بھی مسائل کاحل نہیںکیونکہ اِس طرح صرف وسائل ضائع اور غربت و افلاس میں اضافہ ہوتا ہے سفارتی عمل پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے مگر امریکی اور ایرانی رویے سے لگتاہے کہ دونوں طرف جنگ کو مسائل کاحل تصورکیا جاتاہے جوکہ غلط ہے ستم ظریفی تویہ کہ دونوں ہی اِس طرح کے اقدامات وخیالات سے عالمی حمایت کھو رہے ہیں پھر بھی ایسے اقدامات میں مصروف ہیں جن سے خطے میں امن کی بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ایسے حالات میں جب دونوں طرف امن کی خواہش کا فقدان ہے پاکستان تنازعے کے حل میں پورے عزم ویقین سے شامل اور پوری طرح سرگرم ِ عمل ہے نہ صرف سفارتی ذرائع سے مدد لی جارہی ہے بلکہ حکومتی سطح کے روابط میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے سفارتی اور حکومتی روابط میں تیزی سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں براہ راست مذاکرات کے لیے جاری رابطے حساس مراحل میں ہیں اور ایک بار پھر براہ راست بات چیت کا عمل ممکن ہے جو امن کے خواہشمندوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے ۔
امریکہ کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی بالادست فوجی طاقت ہے لہذا جہاں چاہے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن بالادست طاقت کو ایرانی جواب نے یہ احساس دلا دیا ہے کہ کسی ملک کو کمزور تصورکرتے ہوئے چڑھ دوڑنا بے وقوفی ہے یہ بات کسی حد تک واشنگٹن کے شہ دماغوں کی سمجھ میں آتو گئی ہے لیکن تسلیم کرنے سے انکاری ہیں باربار دھمکیاں دینے سے لگتاہے کہ صدرٹرمپ اب خود بھی جنگ سے پریشان ہیں تبھی تو مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن عین اُس وقت جب دونوں ممالک کے وفوداسلام آباد میں ایک باعزت تصفیے پر رضا مند ہوچکے تھے صدرٹرمپ نے خودہیرو بننے کے چکر میں اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو واپس بلا لیا اُس غلطی کا ازالا اب مشکل تر ہوگیاہے اُسی غلطی کا مطلب ایران نے یہ لیا کہ امریکی رویے میں سنجیدگی نہیں اِس طرح اُس کے موقف میں بھی سختی آتی گئی نہ صرف آبنائے ہُرمز پر اپنی اجارہ داری تسلیم کرانے پر بضد ہوا بلکہ تیل بردار جہازوں سے محفوظ آمدورفت پر وصولی شروع کرنے کی طرف آیا ایران کے اِس رویے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی یہاں تک کہ چین نے بھی ایران کے اِس موقف کی حمایت نہیں کی مگر ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ امریکی کاروائی کی اِس طرح وہ پورے خطے کو سزا دے کر بہت کچھ منواسکتاہے لیکن آثار و قرائن سے واضح ہے کہ ایران کو آبنائے ہُرمز کے حوالے سے اپنے رویے میں لچک لانا ہوگی وگرنہ عالمی برادری کی حمایت میں کمی آسکتی ہے چین کاپاکستان کی مصالحتی کوششوں میں ساتھ دینے کا اعلان بہت کچھ واضح کرتاہے اگر کوئی بصارت سے محروم نہ ہو ۔
اِس میں کوئی ابہام نہیں کہ عوام جنگیں پسند نہیں کرتیں جس کا عوامی نمائندوں کو بھی ادراک ہے امریکی سینٹ کی طرف سے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قراردادکو ایک ایسی ہی پیش رفت کے طورپر دیکھاجارہا ہے 47کے مقابلے میں پچاس ووٹوں کی کثرت سے منظورکی جانے والی اِس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے بلکہ امریکی افواج کاانخلا بھی کیا جائے اِس قرارداد سے صدرٹرمپ کے کانگرس کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے کے فلسفے کی کسی حد تک حوصلہ شکنی ہونے کا امکان ہے اگرچہ اِس قراردادکو صدرٹرمپ کی طرف سے ویٹو کیے جانے کا خطرہ موجود ہے جس کا وائٹ ہاﺅس نے عندیہ ظاہر کیا ہے اور ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خیالات یکساں ہونے کی بات کی گئی ہے البتہ یہ ضرور واضح ہو گیا ہے کہ امریکی قانون سازوں کی اکثریت مزید کشیدگی کے حق میں نہیں اوربات چیت کے عمل کی خواہاں ہے ۔
امن کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی کے باوجود تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کی طرف سے خطے کے دیگر ممالک کو جنگ کا حصہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں ہیں دونوں چاہتے ہیں کہ خطے کے مزید ممالک جنگ کا حصہ بنیں تاکہ جنگ کا دائرہ کار وسیع ہو اسی لیے فائر بندی کے باوجوداِکا دُکاخلاف ورزیاں جاری ہیں مزید عالمی سطح پر بڑی تشویش یہ ہے کہ دوبارہ جنگ کی چنگاری بھڑکنے سے ہونے والی تباہی کا دائرہ کاراِس حدتک پھیل سکتا ہے کہ بحیرہ احمر بھی محفوظ نہ رہے جس سے عالمی تجارت و معیشت کوناقابلِ تلافی دھچکہ لگ سکتا ہے اِس لیے مستقل جنگ بندی کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں مگر مسئلہ تبھی حل ہو گا جب اصل فریق امریکہ اور ایران کشیدگی ختم کرنے کے لیے بات چیت کی طرف آئیں اِس مقصدکے لیے پاکستان کی قابلِ قدر اور قابلِ تعریف کوششیں بداعتمادی ختم کرنے کے ساتھ اُنھیں باعزت تصفیے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
اپنی دفاعی طاقت پر ناز کرتے ہوئے امریکہ کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ روس اور چین بھی بڑی طاقتیں ہیں جن کے صدورنے واضح کردیا ہے کہ دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی نئی مُہم جوئی دنیا کی تقسیم کا سبب بنے گی جو سرد جنگ کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے حالانکہ دنیا کی معیشت مزید کسی جنگ کے بوجھ کی متحمل نہیں تیل اور گیس کی فراہمی میں بار بار تعطل آنے سے پہلے ہی پوری دنیا میں مہنگائی کی ایسی لہرجنم لے چکی ہے جس سے کوئی ملک محفوظ نہیں دنیا کے معاشی وسیاسی افق سے بے یقینی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی روابط کسی ایسے پُر امن معاہدے پر منتج ہوں جس سے خطہ مزید کسی مُہم جوائی اور کشیدگی کا مرکز نہ بنے ایساتبھی ممکن ہے کہ فریقین موقف میں نرمی لاکر آگے بڑھیں تاکہ ثالثی کی کوششیں جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ 

مزیدخبریں