امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے طے پانے اور اس پر دستخط ہونے کے بارے میں تواتر سے خبریں آ رہی ہیں تو اس کے ساتھ دونوں ممالک کے حکومتی اور ریاستی اداروں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی طرف سے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے اور تڑیاں لگانے کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ گویا مذاکرات کی بحالی اور دھمکیاں پہلو بہ پہلوجاری ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کا ایک ہفتے سے بھی کم دنوں میں دو بار ایران کے دورے پر جانا اور ایرانی قائدین سے ملاقاتیں اور مذاکرات کرنا بڑا اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اہم یہ خبر سمجھی جا سکتی ہے جو عرب میڈیا میں آئی کہ پاکستان کی ایک اہم ترین شخصیت جلد ہی ایران کے دورے پر جا سکتی ہے۔ اب جمعہ کی شام فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے طے پانے والے نکات کے بارے میں ایرانی قیادت سے مشاورت ہی نہیں کریں گے بلکہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دیں گے۔
بات امریکہ سے شروع کرتے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایران سے متعلق تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر موجود رہے۔ ایران سے ہر حال میں یورینیم حاصل کریں گے اور اسے تباہ کر دیں گے۔ یقینی بنائیں گے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں انتہائی سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔ آبنائے ہرمز کی ہم نے آ ہنی ناکہ بندی کر رکھی ہے ، ہم اس پر کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس نہیں چاہتے اور اس پر ہمارا کنٹرول ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا تازہ بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور معائدے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں جاری ہیں۔تاہم ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول سسٹم لاگو کیا جا سکتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو امریکی صدر اور امریکی وزیرِ خارجہ کے یہ بیانات پہلے کے بیانات کے مقابلے میں کسی حد تک مثبت اور حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر واضح لفظوں میں ایران کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں یا اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت ہے۔ ان کے پاس دو تین دن ہیں ، شامد جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت ہے ورنہ ہمیں انہیں (ایران کو) ایک اور بڑا جھٹکا دینا پڑے گا۔ اسی ضمن میں پچھلے ہفتے کے اختتام پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں یہ خبربھی چھپی تھی کہ امریکہ نے آغازِ ہفتہ (یعنی پیر کو) ایران پر حملے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ پیر کو اس خبر کی اس طرح تصدیق ہوئی کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آیا کہ سعودیہ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مو¿خر کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے کے لیے مکمل منصوبہ بندی موجود ہے تاہم امریکہ کو اس کے مضمرات کا بھی اندازہ ہے کہ ایرانی جواب کی صورت میں ا س کے جانی نقصانات شائید نہ ہونے کے برابر ہوں لیکن جنگی سازوسامان کا جہاں ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا وہاں ایران خلیج کے اس کے اتحادی ممالک سعودی عرب، قطر، عمان، کویت اور متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات اور دوسرے انفراسٹرکچر کو اپنے میزائل اور ڈرونز حملوں سے نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا اور اس سے اتنی تباہی اور بربادی پھیلے گی کہ جس کا مداوا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
ایران کا خلیجی ریاستوں پر اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا یہی پہلو جس کی ایرانی قائدین بالخصوص اس کے عسکری اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز دھمکیاں دیتے رہتے ہیںایسا ہے جو اس کے لیے ایک لحاظ سے ڈیٹرنس بنا ہوا ہے۔ اسی کی بنا پر خطے کے ممالک میں تشویش ہی نہیں پائی جاتی ہے بلکہ پاکستان جیسے ملک جس کے خلیج کی عرب ریاستوں کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ وہ دفاعی معاہدے میں بھی منسلک ہے میں بھی انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں پسپائی اختیار نہیں کی۔ اسے بڑی تعداد میں انتہائی قیمتی جانوں کا ضیاع ہی برداشت نہیں کرنا پڑا بلکہ جوہری مراکزاور دیگر تنصیبات کے ساتھ انفراسٹرکچر کے بھی بے پناہ نقصانات بھی برداشت کرنے پڑے ۔ اس طرح کے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا اور اپنے مو¿قف پر ڈٹے رہنا بلکہ آگے بڑھ کر اپنے مخالفین کو دھمکانا اور ایک لحاظ سے پسپائی پر مجبور کرنا یقینا بڑی ہمت اور حوصلے کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کچھ دوسرے امریکی عہدیدار ان کے ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے دئیے گئے دھمکی نما بیانات کے مقابلے میں ایرانی راہنماو¿ں کے بیانات زیادہ سخت اور ایک طرح کی وارننگ سے بھر پور نظر آتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان ، ایرانی پارلیمنٹ کے صدر اور مرکزی مذاکرات کا رباقر قالیباف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیانات اگر کسی حد تک نرم سمجھے جا سکتے ہیں تو ایرانی حکومت کے ترجمانوں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ز کے بیانات بلا شبہ امریکی بیانات کے مقابلے میں اینٹ کا جواب پتھر کے زمرے میں آتے ہیں۔ دو دِن قبل ایران کی طرف سے واضح لفظوں میں کہا گیا کہ نئی امریکی جارحیت کو پوری قوت سے کچل دیا جائے گا۔ ایرانی فوج کی طرف سے کہا گیا کہ ٹریگر دبانے کے لیے تیار ہیں، دوبارہ جارحیت ہوئی تو نئے محاظ کھول دیئے جائیں گے۔
امریکی اور ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کے ایک دوسرے کے بارے میں دھمکی آمیز بیانات اور اور ایک دوسرے کو زیر کرنے اور نقصانات پہنچانے کے دعوے یقینا تشویش اور پریشانی کا باعث ہیں۔ اللہ کرے پاکستان کی طرف سے ان کے درمیان ثالثی کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں اور اسرائیل سمیت امریکہ اور ایران کسی معائدہ پر پہنچ جائیں ورنہ بات آگے بڑھتی ہے تو پھر امریکہ اور ایران کے جو نقصانات ہونے ہیں وہ توہوں گے ہی لیکن اس سے بڑھ کر خلیجی ریاستوں کے ایسے نقصانات ہوں گے اور وہاں تیل کی تنصیبات کی اتنی تباہی ہو گی کہ اس کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔
مذاکرات کی بحالی اور دھمکیاں پہلو بہ پہلو....!
09:05 AM, 23 May, 2026