میں نے اکثر سرکاری افسروں کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو دیکھا ہے جن اضلاع میں ا±ن کی تعیناتی ہوتی ہے وہاں وہ ”جم خانے“ بناتے ہیں ، بناتے وہ خیر سے اپنے لئے ہیں مگر اپنے جیسی اشرافیہ کو بھی وہاں اپنی سرگرمیاں یا رنگ رلیاں وغیرہ منانے کی اجازت عنایت فرما دیتے ہیں ، ان جم خانوں میں رہائشی کمرے بھی ہوتے ہیں ، کچھ جم خانوں کے ان کمروں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ جم خانوں کی”خصوصیت“ ہے ، ایک خصوصیت یہ بھی ہے وہاں چھاپہ پڑنے کا خطرہ نہیں ہوتا یعنی یہ ہر حوالے سے ایک ”محفوظ مقام“ تصور کیا جاتا ہے ، اس پس منظر میں بڑے بڑے فائیو سٹارہوٹلوں کے کمروں کی وہ اہمیت نہیں رہی جو ہمارے کچھ جم خانوں کے کمروں کی ہے ، جم خانے اب”رم جم خانے“ہیں ، رم جھم گرے ساون ، چھلک چھلک جائے من۔۔ میں حیران ہوں کوٹ ادو کے ڈپٹی کمشنر سید منور حسین بخاری کی اس ادب دوستی پر جس کا ثبوت ا±نہوں نے اپنے ضلع میں ایک پاک ٹی ہاو¿س بنا کر دیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کوٹ ادو میں کوئی جم خانہ ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں ہے منور حسین بخاری کی جگہ کوئی اور ڈپٹی کمشنر ہوتا وہ پاک ٹی ہاو¿س کے بجائے جم خانہ مطلب ”رم جم خانہ“بناتا ، ممکن ہے ہماری نوجوان نسل کو پاک ٹی ہاو¿س کے بارے میں معلوم نہ ہو یہ کس بلا کا نام ہے ؟ ایک زمانے میں یہ واقعی بلا کا ایک مقام تھا ، نیلا گنبد انارکلی لاہور میں واقع ملک کے نامور شاعروں ادیبوں دانشوروں صحافیوں اور اہل علم کا یہ اصلی گھر تھا ، ا±ن کا زیادہ وقت یہاں گزرتا اور کچھ وقت گزارنے کے لیے وہ کبھی کبھی اپنے گھر چلے جایا کرتے تھے ، فیض احمد فیض احمد ندیم قاسمی ، منیر نیازی ، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، عبداللہ حسین ، انتظار حسین ، مستنصر حسین تارڑ ، احمد فراز ، بشری رحمان ، امجد اسلام امجد ، عطاالحق قاسمی ، کشور ناہید ، اعتزاز احسن ، ملک معراج خالد ، حنیف رامے اور ایسی سینکڑوں اعلیٰ علمی ادبی اور سیاسی شخصیات پاک ٹی ہاو¿س کی رونق ہوتی تھیں ، یہاں مشاعرے ہوتے تھے ، عملی و ادبی مذاکرے ہوتے تھے ، تنقیدی اجلاس ہوتے تھے جن میں شاعر اور ادیب اور دانشور اپنی تخلیقات پیش کرتے اور شرکاءا±ن پر اپنی رائے کا اظہار فرماتے ، یہ ادب ، تدبر اور برداشت کا زمانہ تھا اور پاک ٹی ہاو¿س اس کے لئے ایک”تربیت گاہ“ تھی ، پھر آہستہ آہستہ معاشرہ بدتمیز ہوتا چلا گیا اور پاک ٹی ہاو¿س جیسے اعلیٰ اداروں کی رونقیں ماند پڑنے لگیں ، کچھ برس پہلے اسے بحال تو کیا گیا لیکن اس کی وہ شناخت بحال نہ ہو سکی جو بڑے بڑے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے جڑی ہوئی تھی اور اس وجہ سے عالمی سطح پر اس کی ایک پہچان تھی ، بحالی کے بعد قریب و جوار میں واقع کچھ تعلیمی اداروں کے طلبہ کا یہ ایک”ڈیٹ پوائنٹ“ بن گیا ، اب کافی عرصے سے اس کی موجودہ حالت سے میں بے خبر ہوں مگر مجھے دکھ ہے ایک زمانے میں نیلا گنبد لاہور میں ٹائروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کا کوئی پتہ پوچھتا لوگ کہتے وہ پاک ٹی ہاو¿س کے قریب ہے ، اب پاک ٹی ہاو¿س کا اول تو پتہ کوئی پوچھتا ہی نہیں ، اگر کوئی پوچھ لے ا±سے بتایا جاتا ہے وہ ٹائروں کی مارکیٹ میں ہے ، معاشرہ بے ادب ہو گیاہے ، اسے ادب کی طرف واپس لانے کی جو کاوش ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو سید منور حسین بخاری نے کی ہے اس پر”بے ادب سرکار“ تو پتہ نہیں ا±نہیں سراہتی ہے یا نہیں ، اس ملک کے شاعر ادیب اور دانشور ساری زندگی ا±ن کے ممنون رہیں گے اور ا±ن کے اس تاریخی کارنامے کو یاد رکھیں گے کہ کس طرح مدتوں سے بیکار پڑی سرکاری زمین کو ا±نہوں نے آباد کر کے کوٹ ادو کے شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں کا ایسا مقام بنا دیا جو”اعلیٰ مقام“ ہے ، میں پاکستان خصوصاً پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنروں سے استدعا کروں گا اپنے اپنے اضلاع میں ایسے اعلیٰ مقام وہ بھی بنائیں ، اگر الگ سے نہیں بنا سکتے جم خانوں میں پاک ٹی ہاو¿س کے نام سے ایک گوشہ آباد کر دیں ، میں سمجھتا ہوں ہمارے اس طرح کے مقام اگر بن گئے اور آبادہو گئے ، اور ان کی برکت سے ہماری لائبریریاں بھی اگر آباد ہو گئیں ا±س کے بعد یہ ہو ہی نہیں سکتا ہماری اخلاقی قدریں بحال نہ ہوں ، وزیراعلیٰ مریم نواز کو چاہئے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی کارکردگی جانچنے کا جو معیار انہوں نے مقرر کیاہے ا±س میں ایک شق یا شرط یہ بھی رکھ دیں کس ڈپٹی کمشنر نے اپنے ضلع میں علم و ادب اور ثقافت کی ترویج و ترقی کے لیے کتنا کام کیا ہے ؟ اس کے علاوہ ا±نہیں یہ بھی چاہئے ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو کو بلا کر اس بات پر شاباش دیں ایک ایسا عمل اپنے ضلع میں انہوں نے کیا جو ملک بھر کے ادیبوں شاعروں دانشوروں کے لیے سرشاری اور خوشخبری کا باعث بنا ، ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو اپنے سرکاری امور بھی بہت درد دل سے نبھاتے ہیں ،کوٹ ادو سے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا آتی ہے ، میرے بے شمار سٹوڈنٹس وہاں رہتے ہیں ، وہ مجھے بتاتے ہیں کوئی ایک شخص ایسا نہیں جو اپنے حق کے لیے کبھی ڈپٹی کمشنر کے گھر یا دفتر گیا ہو اور اسے ناکام واپس لوٹنا پڑا ہو، ہماری بیوروکریسی میں ایسے افسران اب آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ، کاش نمک میں آٹے کے برابر ہوتے آج ہمارے انتظامی امور اس قدر تباہی اور بربادی کا شکار نہ ہوئے ہوتے ، سید منور حسین بخاری سے میری پرانی شناسائی نہیںہے ، مگر ا±س روز مجھے بہت اچھے لگے جب اپنے ایک قریبی عزیز کی شادی میں انہوں نے مجھے مدعو کیا ، ا±س شادی میں میرے پاس دو شخص اپنی سجی سنوری بیگمات کے ساتھ آئے ، میں ا±ن کے احترام میں کھڑے ہو گیا ، ا±نہوں نے بتایا”ہم سوشل میڈیا پر آپ کو فالو کرتے ہیں ، آپ کے کالم بھی پڑھتے ہیں ، ہم نے آپ کے ساتھ تصویر بنانی ہے“ ، تصویریں بنوانے کے بعد ایک نے بتایا ”سید منور حسین بخاری جب لاہور میں تعینات تھے وہ ا±ن کے دفتر میں ٹائپسٹ تھا ، دوسرے نے بتایا وہ ا±ن کا اردلی تھا ، میں نے اس شادی میں جن بڑے لوگوں کو دیکھا ا±ن میں اکثر جونیئر کلرک اور اردلی وغیرہ ہی تھے ، جو شخص اپنے ماتحتوں کو اتنی عزت دیتاہو ، عام لوگوں کے ساتھ اس قدر حسن سلوک فرماتا ہو کہ جہاں تعینات رہے لوگ ا±سے اپنا ہیرو قرار دینے لگیں اب کوٹ ادو میں پاک ٹی ہاو¿س قائم کرنے کے بعد ہم لکھاریوں کا بھی وہ ہیرو ہے ، عظیم گلوکار پٹھانے خان زندہ ہوتے اپنے شہر میں ہونے والے عظیم کارنامے”پاک ٹی ہاو¿س“ کے قیام پر سید منور حسین بخاری کے لئے کوئی کلام گا کر ا±نہیں خراج تحسین پیش کرتے ، کوٹ ادو میں قیام پذیر شاعروں کو چاہئے سید منور حسین بخاری کے لئے نظمیں و غزلیں لکھ کر ا±س محبت کا حق ادا کریں جو ا±نہوں نے پاک ٹی ہاو¿س بنا کر ا±ن کے ساتھ ثابت کی ہے۔
ایک منفرد ڈپٹی کمشنر
09:16 AM, 24 May, 2025