مذاکرات اور کمیٹی

09:17 AM, 24 May, 2025

خبریں لگتی ہیںکہ بانی پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کی حامی بھر لی ہے اور اس کے بعد کچھ سینئر ترین صحافی کہ جن کا بڑا نام ہے وہ بڑے مخصوص انداز میں عوام کو اندر کی خبریں بتاتے ہیں کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان اندر کھاتے بات چل رہی ہے اور ممکن ہے کہ بانی کی رہائی بھی ہو جائے ۔ یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے اور صرف ریٹنگ لینے کے لئے اس طرح کی غلط خبریں دی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے دور پار کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ۔ ہم نے تو ان خبروں کو اس وقت بھی جھوٹ قرار دیا تھا کہ جب ہم خیال ججز اور میڈیا کی موجودگی میں خان صاحب کی دو تہائی نہیں بلکہ تین چوتھائی مقبولیت کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا اور اس قدر طوفان بد تمیزی بپا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی لیکن ہم نے اپنے قارئین تک اس وقت بھی سچ اور حق کی آواز کو پہنچایا تھا اور اب بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہیں گے ۔ جب تک ہندوستان نے پاکستان پر حملہ نہیں کیا تھا اس وقت تک اور اس کے بعد جب تک پاکستان کی بہادر اور غیور افواج پاکستان جس میں جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بری بحری اور خاص طور پر فضائیہ کا بڑا اہم کردار ہے انھوں نے جنگی تاریخ کی انتہائی مختصر جنگ کے بعد تاریخ ساز فتح حاصل نہیں کر لی اس وقت تک بانی پی ٹی آئی مذاکرات سے انکار کرتے رہے اور اس انکار کی آڑ میں ملک و قوم کے خلاف اور دشمن کے حق میں جو گھناﺅنا کھیل کھیلا جاتا رہا اس کی تفصیل تو آگے چل کر بیان کی جائے گی لیکن اس مسلسل انکار کے بعد حتیٰ کہ سکیورٹی کمیٹی کی بریفنگ میں بھی تحریک انصاف بانی کی ہدایت پر شریک نہیں ہوئی لیکن جیسے ہی پاکستان نے ہندوستان پر فتح مبین حاصل تو اس کے بعد بانی کی طرف سے بیان جاری کر دیا گیا کہ بانی نے مذاکرات کے لئے ہاں کر دی جیسے پوری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بانی سے مذاکرات کے لئے مری جا رہی تھی ۔ تحریک انصاف والوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ حالات تو پہلے بھی تحریک انصاف کے حق میں نہیں تھے لیکن اب تو تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی پاکستان کی سیاست میں بڑی حد تک غیر متعلق ہو چکے ہیں ۔
ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو آخر ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ تحریک انصاف سے مذاکرات کرے یا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے متعلق سوچے لیکن ایک جمہوری معاشرے میں جمہوری تقاضوں کی خاطر بسا اوقات بہت کچھایسا بھی کرنا پڑ جاتا ہے کہ جس کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس کے لئے کسی ایک فریق کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ دونوں فریق مل کر بات چیت کا ماحول بناتے ہیں ۔ حالت جنگ میں کیا حکومت اور کیا حزب اختلاف دونوں مل کر ملک کی جنگ لڑتے ہیں لیکن یہاں تو حالت یہ تھی کہ حکومت نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر لڑنے والی افواج پاکستان کے خلاف ایک محاذ ہندوستان نے بنایا ہوا تھا اور اس سے بڑھ کر تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اور اس کے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی تھی ۔ ہم یہ بات بلا وجہ نہیں کہہ رہے ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی تقریر سن لیں جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے عبد القادر پٹیل نے ان کی اچھی خاصی کلاس لی کہ بجائے اس کے کہ حالت جنگ میں قوم کے مورال کو بلند کیا جائے اس کے بر عکس موصوف اپنی تقریر میں ہندوستان کو معیشت سمیت اپنی تمام کمزوریاں بتا رہے تھے ۔ اس کے علاوہ علیمہ خان صاحبہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد باہر آ کر پریس سے بات کرتی ہیں تو اس کو چھوڑ دیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ حالت جنگ میں کون اس قسم کی باتیں کرتا ہے کہ ہندوستان نے میزائل مارنے ہیں اور ا نھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دینا ۔ کیا یہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کا کردار ہو سکتا ہے ۔2019میں جب پلوامہ واقعہ ہوا تھا تو کیا اس وقت کی حزب اختلاف جو آج حکومت میں ہے کیا اس کا رویہ اس طرح کا تھا یا وہ اپنے گروہی ، سیاسی اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی لہٰذا حکومت اگر تحریک انصاف سے مذاکرات کرتی ہے تو بیشک سو بار کرے لیکن دوران جنگ جس ملک دشمن رویے کا پرچار تحریک انصاف کرتی رہی ہے اور اب بھی کر رہی ہے پہلے قوم سے اس کی معافی مانگے اس کے بعد حکومت مذاکرات کرے ۔ 
اب آخر میںکچھ کمیٹی کے حوالے سے کہ جو بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بیرون ملک جا کر سفارتی محاذ پر پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرے گی ۔ اس پر تحریک انصاف نے بڑی کھپ ڈالی ہے کہ اس میں تحریک انصاف کے ارکان کو شامل کیوں نہیں کیا گیا ۔ گذارش ہے کہ حکومت اس کمیٹی میں بالکل تحریک انصاف کے ارکان کو شامل کرے لیکن اس کے لئے کوئی زیادہ نہیں بس ایک ہی شرط رکھے کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور اس میں کوئی لونڈے لپاڑے نہیں بلکہ اس میں شہباز گل، ڈاکٹر معیز پیرزادہ اور عمران ریاض ایسے بندے شامل ہیں کہ جن کے کہے ہر لفظ کو تحریک انصاف Ownکرتی ہے اور جنھوں نے ہندوستان سے بڑھ کر پاکستان کے موقف کی عین حالت جنگ میں مخالفت کی ہے تو تحریک انصاف کی قیادت اور بانی ان سب کی مذمت بھی کرے اور ان سے لا تعلقی کا اظہار بھی کرے تو اس کے بعد کمیٹی میں شمولیت کے حوالے کچھ سوچا جائے ۔

مزیدخبریں