موبائل، سوشل میڈیا اور جین زی....

09:16 AM, 24 May, 2025

 چپ سائیں چوپال میں براجمان تھے، ان کے ہاتھ میں آج اخبار کی بجائے موبائل فون تھا۔ اس بات پر سب حیران تھے۔ نتھو ، پھتو کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ سائیں جی سے پوچھیں کہ ماجرا کیا ہے؟۔۔ اسی اثنا میں چاچا رفیق نے چوپال میں قدم رکھا تو سب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ چاچا رفیق دلچسپ شخصیت کے مالک تھے اور نتھو، پھتو تو ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ وہ ہر دلعزیز ہیں۔۔ خیر ان کی شخصیت کے بارے میں پھر کبھی سہی۔۔۔ چاچا رفیق کی توجہ نتھو اور پھتو نے نظروں ہی نظروں میں سائیں جی کی طرف دلائی۔۔۔ چاچا رفیق نے کھنگورا مار ااور کہا ۔۔سائیں جی آج خیر تو ہے؟۔۔۔ آپ کے ہاتھ میں اخبار کی جگہ موبائل ہے۔۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور اس کے بعد موبائل سائیڈ پر رکھ کہا کہ بھئی دوستو! بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔ یہ وہ ڈیجیٹل بلا ہے، جو ہر عمر کے شخص کو چمٹی ہوئی ہے۔۔ لیکن بچے تو” جین زی“ ہیں۔۔۔ چپ سائیں کی اختراع پر سب حیران ہوئے اور کہا کہ ۔۔ سائیں جی یہ” جین زی“ کس بلا کا نام ہے؟۔۔۔ اس پر چپ سائیں کھل کر ہنسنے لگے۔۔ توقف کے بعد بولے ۔۔ بھئی دوستو۔۔یہ وہ اختراع ہے جو آج کی نسل کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے۔۔۔ سب بہت حیران ہوئے۔۔۔ چاچا شیخو بولے۔۔۔ہائیں۔۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا!۔۔۔ سائیں جی!۔۔۔ ہمارے ہاں تو آج بھی بچوں کو بچہ ہی سمجھا اور کہاجاتا ہے۔۔ یہ جین زی کیا کوئی خلائی مخلوق ہے؟۔۔چپ سائیں مسکرائے اور بولے۔۔۔جین زی(Gen Z) ایک نسل کو کہا جاتا ہے جو تقریباً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ جین زی کوڈیجیٹل نیٹوز بھی کہاجاتا ہے۔ یہ نسل ''ملینئیلز'' (Millennials یا Gen Y) کے بعد آتی ہے۔۔بھئی دوستو بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔۔ اس پر سب کی حیرانی اور بڑھ گئی۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔۔ اس کے بعد آنے والی نسل کو ''جنریشن الفا'' (Generation Alpha) کہا جاتا ہے۔اس پر سب کی نظریں سوال کرنے لگیں تاہم چپ سائیں بولے۔۔۔بھئی دوستو بات ہورہی تھی۔۔جین زی کی تو یہ لوگ انٹرنیٹ، موبائل فونز، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہی بڑے ہوئے ہیں۔ انہیں ٹیکنالوجی کا استعمال بچپن سے آتا ہے۔ جین زی نوجوان عام طور پر انسٹا گرام ، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ آن لائن ہوتا ہے۔ یہ نسل زیادہ کھلے ذہن کی حامل سمجھی جاتی ہے، لیکن ماحولیات اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر حساس ہوتی ہے۔
 جین زی میں بہت سے افراد روایتی راستوں سے ہٹ کر کیریئر بنانا چاہتے ہیں، جیسے یوٹیوبرز، فری لانسرز، یا آن لائن کاروباری لوگ۔ یہ نسل دماغی صحت کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے اور اس پر کھل کر بات کرتی ہے۔چپ سائیں نے بات آگے بڑھائی۔۔
جین زی کی تعلیم روایتی کلاس روم تک محدود نہیں۔ یہ نسل آن لائن کورسز، ویڈیوز، اور ایپلی کیشنز کے ذریعے خود سیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ''سیلف لرننگ'' اور ''آن ڈیمانڈ نالج'' کا تصور ان میں عام ہے۔یہ نسل سماجی اور اخلاقی مسائل کے بارے میں زیادہ باخبر اور حساس ہے۔ چاہے وہ ماحولیاتی تحفظ ہو، صنفی مساوات، یا نسل پرستی،جین زی ان معاملات پر اپنی آواز بلند کرتی ہے۔
صاحبو! یہ نسل انصاف، برابری، اور سماجی فلاح پر یقین رکھتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے یہ نسل خود کو عالمی مسائل سے جوڑتی ہے اور ایکٹیوزم میں حصہ لیتی ہے۔جین زی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ جہاں ماضی کی نسلوں میں اس موضوع پر گفتگو ناپسند کی جاتی تھی، وہیں آج کے نوجوان اس پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ان میں ڈپریشن، اور سٹریس جیسے مسائل پر آگاہی ہوتی ہے۔تھراپی اور خود نگہداشت کو معیوب سمجھنے کے بجائے مفید تصور کرتے ہیں۔
دوستو!جین زی روایتی 9 سے 5 کی نوکری کو زیادہ پسند نہیں کرتی۔ یہ نسل خودمختاری، کام کے اوقات میں آسانی اور آن لائن آمدنی کے ذرائع کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ نسل چونکہ بہت زیادہ ذہین ہوتی ہے اس وجہ سے فری لانسنگ، یوٹیوب چینل، سوشل میڈیا انفلوئنسر بننا، یا آن لائن بزنس کرنا ان کی دلچسپی کے شعبے ہیں۔یہ نسل صرف آمدنی نہیں بلکہ کام کا مقصد تلاش کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی جین زی کی جھلک نمایاں ہے۔ شہروں میں بسنے والے نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر سرگرم ہے، جدید تعلیم کے ذرائع استعمال کر رہی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار آزادی سے کر رہی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔جین زی ایک باصلاحیت اور جدید سوچ رکھنے والی نسل ہے، مگر انہیں رہنمائی، توازن، اور مثبت مواقع کی ضرورت ہے۔ والدین، اساتذہ، اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ ان کی سوچ اور انداز کو سمجھیں، نہ کہ صرف تنقید کریں۔ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی تربیت دیں۔ ذہنی صحت، اخلاقی تعلیم اور معاشرتی اقدار کی تعلیم کو فروغ دیں۔
دوستو!سچ ہے کہ سوشل میڈیا اب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں وہ اپنی دلچسپی کے مطابق مختلف مہارتیں سیکھ سکتے ہیں ، وہ بھی بغیر کسی رسمی کلاس یا اخراجات کے۔ یہ رجحان نہ صرف انفرادی ترقی کا باعث بن رہا ہے بلکہ نوجوانوں کو خودمختار اور باصلاحیت بنانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔۔۔اکثر سوشل میڈیا کو محض وقت کا ضیاع، ذہنی انتشار اور منفی اثرات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ والدین اور اساتذہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ نوجوان سارا وقت موبائل پر ’فضول سکرولنگ‘ میں گزار دیتے ہیں۔ ان کے خدشات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، لیکن یہ تصویر کا مکمل رخ نہیں ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، وہ اس پلیٹ فارم کو سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر نوجوان محض سکرولنگ کرتے ہوئے کسی نئی مہارت یا خیال سے متعارف ہو جاتے ہیں۔چاچا رفیق، نتھو، پھتو اور دیگر دوستو! مجھے میرے پوتے نے یہ فون دیتے ہوئے کہاکہ دادا اب آپ بھی ہماری نسل میں شامل ہوجائیں اور آن لائن لوگوں سے بات کیا کریں۔۔۔ سب چپ سائیں کی بات پر ہنسنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ سائیںجی بھی زیر لب مسکرائے اور کہا۔۔۔ حق ہو۔۔۔ دوستو! باقی رہے نام اللہ کا!۔۔

مزیدخبریں