چینی خلائی سٹیشن پر نئی جرثومے کی دریافت، ماہرین کی تشویش میں اضافہ

09:30 PM, 23 May, 2025

بیجنگ :چین کے تیانگونگ خلائی سٹیشن پر ایک نئی قسم کے بیکٹیریا کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جو خلا کے سخت ترین حالات میں تیزی سے ارتقا پذیر ہو رہا ہے۔ یہ بیکٹیریا Niallia tiangongensis خلا میں بھی زندگی کی حیران کن صلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس پر سائنس دانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ جرثومہ 2023 میں شینزو 15 مشن کے دوران جمع کیا گیا تھا۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف شدید تابکاری، صفر کششِ ثقل اور خلا کی ویکیوم جیسی انتہاؤں کا مقابلہ کر رہا ہے، بلکہ خود کو حفاظتی تہوں (biofilms) میں لپیٹ کر جراثیم کش ادویات سے بھی بچا لیتا ہے۔ابھی تک اس بیکٹیریا سے خلانوردوں کو کوئی براہ راست نقصان نہیں پہنچا، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مستقبل میں خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مسلسل ارتقا کی صلاحیت کے باعث یہ نہ صرف انسانی صحت بلکہ خلائی جہازوں کے سازوسامان کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
 ڈاکٹر چن لییو، ماہر حیاتیات، CNSA کا کہنا ہے کہ یہ جرثومہ ایسی جگہ پروان چڑھ رہا ہے جہاں زمینی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت Niallia tiangongensis کا جینیاتی تجزیہ جاری ہے تاکہ اس کے ارتقائی رجحانات کو سمجھا جا سکے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ خلا کی الگ تھلگ اور انتہاپسند فضا میں یہ اور دیگر جرثومے ایسی شکلیں اختیار کر سکتے ہیں جو زمین پر کبھی ممکن نہ تھیں۔ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ خلائی مشنوں میں سخت حیاتیاتی نگرانی اور صفائی کے نئے اصول اپنائے جائیں، تاکہ مستقبل میں ایسی کسی ممکنہ "خلائی وبا" سے بچا جا سکے۔
یہ دریافت خلا میں انسان کے بڑھتے قدموں کے ساتھ نئے حیاتیاتی خطرات کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔ اگر یہ جرثومے ارتقا کے سفر میں ہم سے آگے نکل گئے، تو مستقبل کے مشن نہ صرف فنی یا ایندھن کے مسائل سے دوچار ہوں گے، بلکہ غیر مرئی حیاتی دشمنوں سے بھی نمٹنا پڑے گا۔

مزیدخبریں