کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تحسین و تہنیت نہ بھی کی جائے تو وہ آپ اپنا تعارف اور پہچان بن جاتی ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ اپنا لوہا خود منوا لیتی ہیں ۔ہم معمولی استثنیٰ کیساتھ تنقیدی اور تنگ نظر معاشرے کے باسی کہلاتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں رواجاً عام طور پر کسی اچھے اور قابل تعریف کام کا ذکر کرنا خوشامدکے زمرے میں آجاتا ہے یا دبے لفظوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ مثبت اور معتدل خیالات کے حامل بہت سے احباب کیساتھ تبادلہ خیالات کے بعد آج کے بولتے الفاظ کے ذریعے ستھرا پنجاب جو کہ دراصل اپنی نوعیت کے اعتبار سے وکھرا پنجاب بنتا جا رہا ہے کے بارے کچھ ذاتی اور عینی مشاہدات سانجھے کرنے کا خواہاں ہوں ۔ اگرصوبائی دارالحکومت لاہور کی بات کریں تو بلا خوف تردید ایک غیر سیاسی چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لاہور شہر کے جس بھی علاقے یا زون میں رہتے ہیں اگر آپ بتوفیق الٰہی صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ اگر اپنے علاقے کی مسجد میں نماز فجر ادا کرنے جاتے ہیں تو یقیناً آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو گا کہ علی الصبح لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے باوردی اہلکار صفائی ستھرائی میں جُتے ہوتے ہیں۔ جھاڑوکش مزدور اور انکے ساتھ پوری ٹیم جو ہمارا دن بھر کا پھیلایا کچرا سمیٹنے اور ساتھ ہی ساتھ اسے ٹھکانے لگانے کا عمل مستعدی سے انجام دے رہے ہوتے ہیں انہیں کوئی شاباش دینے والا یا انکی کارکردگی کو سراہنے والا بھی اس وقت موجود نہیں ہوتا ۔ غالباً پنجاب بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہے کہ گلی محلوں سے لیکر بڑی مارکیٹوں اور بازاروں تک ہر جگہ ایک ڈسپلن نظر آرہا ہوتا ہے ۔ چھوٹی بڑی گاڑیاں اور نئے متعارف کروائے گئے لوڈر رکشے صفائی ستھرائی کے اس عمل میں ایک نیا اضافہ ہے جس نے کارگزاری اور موثریت کو بڑھا دیا ہے۔ ایک عام شہری کے طور پر میرا بھی یہی خیال تھا کہ لاہور ہے ، وزیراعلیٰ اور اعلیٰ بیورو کریسی سے لیکر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بابرصاحب دین تک سب سر پر ہوتے ہیں ، اس لئے کوتاہی خال خال ہی ہوتی ہو گی مگر درحقیقت ان سطور کو لکھنے کا محرک ایک دن میرا جنوبی پنجاب جا ناہوا ۔ غالباً پنجاب کے سب سے پسماندہ ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن اور شہر فتح پور سے مزید گیارہ کلو میٹر دور جہاں مرکزی شاہراہ اور راستہ بھی کوئی نہیں جاتا اس دور افتادہ گائوں میں بھی اسی طرح صفائی کا عملہ با جماعت موجود تھا جس طرح یہاں بڑے شہروں میں دیکھا جا تا ہے۔ حیرانگی اور مسرت کے ملے جلے جذبات و خیالات کیساتھ میں نے مقامی لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہاں بھی ستھرا پنجاب مہم چل رہی ہے اور اسی کے تحت ہر روز صبح صبح گلیوں کی صفائی ، پانی کا چھڑکائو اور جھاڑیوںکی کانٹ چھانٹ حتیٰ کہ قبرستانوں کی صفائی بھی کی جاتی ہے ۔ ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی مہم سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب لوگ شعوری طور پر ہر اس بندے اور مافیا کی مخالفت کرنے لگے ہیں جو ناجائز تجاوزات کا تحفظ کرنے کی بات کرتا ہے ۔ گلیاں بازار اور شاہراہیں کشادگی کے ساتھ مزید خوبصورت ہو گئی ہیں ۔ ایک بات جو بنیادی طور پر قابل غور ہے کہ یہ تمام امور پہلے کبھی چند روزہ مہم کے طور سرانجام دیئے جاتے تھے جبکہ موجودہ حکومت پنجاب نے اسے باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔اس ضمن میں بلدیات اور شہری و دیہی سہولتوں سے متعلقہ وزارت اور خود وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ تحسین طلب ہے ۔کوئی بھی کام اس وقت تک نوعیت کے اعتبار سے مثالی اور اعلیٰ ترین نہیں ہو سکتا جب تک نگرانی کا عمل کڑا نہ ہو۔ لہٰذافیلڈ میں محنت کرنے والے خاکروب سے لیکر نگرانی و انتظامی حوالے سے ذمہ داری نبھانے والے ہر فرد اور ادارے کی یکساں لگن ہی ستھرے پنجاب کی وکھرے انداز سے کامیابی کی ضامن ٹھہری ہے ۔ ابھی چند دن بعد ملک بھر میں عیدالاضحی کے موقع پر گلی گلی آلائشوں اور دیگر فضلات کو ٹھکانے لگانے کا کٹھن مرحلہ درپیش ہو گا تاہم پیشگی انتظامات بتا رہے ہیں کہ اس بار نتائج مثالی ہونگے ۔ یہاں مجھے جملہ معترضہ کے طور پر اپنے قارئین سے ایک گزارش بھی کرنی ہے کہ اپنے گھر ، گلی ، محلے اور سڑک کی صفائی ان خاکروبوں اور جھاڑوکشوں کی تنہا ذمہ داری نہیں ۔ اگر ذرا سا غور کریں تو معمولی تعاون اور احساس ذمہ داری سے ہم اپنی گلیوں کو خود گلشن بنا سکتے ہیں ۔ مجھے یاد پڑتا ہے گذشتہ سال ہمارے ایک بزرگ جو خود بھی اعلیٰ سرکاری عہدے سے ریٹائرڈ ہیں اور سارا وقت اصلاحی و تبلیغی مساعی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے گھر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ایک اہلکار بڑے سائز کا پلاسٹک بیگ دینے آیا تو انہوں نے بڑی حیرانی سے استفسار کیا کہ یہ بیگز سب گھروں میں تقسیم کئے گئے ہیں ؟ اور کیا یہ مفت تقسیم کئے جا رہے ہیں ؟ جس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ جی ہاں ہر گھر کی دہلیز تک یہ بیگ حکومت کی جانب سے پہنچایا گیا ہے ۔ بزرگوں کا ایک جملہ جو فی البدیہ مگریادگار تھا ، کہنے لگے حکومت اور انتظامیہ جتنا کر سکتی ہے کر دیا کہ جانوروں کی باقیات اور آلائشوں کیلئے بیگ بھی گھر پہنچا دیا اور اسے اٹھانے بھی آئیں گے ۔ اب جو ناہنجار گند پھیلائے ، بلدیہ والوں کو چاہئے اسے ہی اس بیگ میں ڈال کر اٹھا لے جائیں ۔ اس مختصر حوالے کے ذریعے صرف یہ باور کروانا مقصود ہے کہ یہ دھرتی ، یہ زمین ، یہ گلشن ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل جل کر ہی اسے مہکانا ہے ۔ یہ کسی ایک سیاسی و حکومتی شخصیت نہیں بلکہ پنجاب کے ہر شہری کا خواب ہونا چاہئے کہ میری تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے میرا پنجاب ستھرا ، نکھرا اور وکھرا نظرا ٓسکتا ہے ۔
ستھرا پنجاب ۔۔ وکھرا پنجاب
09:27 AM, 23 May, 2025