میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں بچوں کی تحویل اور پرورش سے متعلق اسلام نے واضح رہنمائی کی ہے جس کی روشنی میں ایسے والدین کے بچے پر سکون ماحول میں زندگی گزار سکتے ہیں۔بچے بے قصور ہوتے ہیں ۔انہیں اچھی زندگی گزارنے کے لئے ماں باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔بچوں کی تحویل اور پرورش کے سلسلے میںدرج ذیل رہنما باتیں متعین ہیں۔
پرورش کا حق:
٭… میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد اگر بچہ گود میں ہے تو اس کی پرورش کا حق ماں کو ہے۔باپ کسی قانون کا سہارا لے کر یا قانون کا ناجائز استعمال کر کے ماں سے بچہ نہیں چھین سکتا۔البتہ باپ بچے کا سارا خرچہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔دوسری صورت میں اگر ماں خود بچے کی پرورش کرنے کی بجائے بچے کو اس کے باپ کے حوالے کر دے تو باپ کو بچہ اپنی تحویل میں لینا پڑے گا‘وہ بچے کو زبردستی ماں کے حوالے نہیں کر سکتا۔٭…ا گر بچے کی ماں موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اسے بچے کی پرورش میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتو بچے کی پرورش کا حق اس کی نانی یا پرنانی ‘ان کے بعد دادی یا پردادی کو ہے۔اگر یہ بھی نہ ہوں تو سگی بہنوں کا حق ہے کہ وہ اپنے بھائی یا بہن کی پرورش کریں۔اگر سگی بہنیں بھی نہ ہوں تو سوتیلی بہنیں پرورش کریں۔ماں شریک بہنوں کا حق باپ شریک بہنوں سے پہلے ہے۔پھر خالہ اور پھوپھی کا حق ہے۔٭… اگر ماں نے بچے کے محرم رشتے دار سے نکاح کیا مثلاً اس کے چچا سے یا ایسا ہی کوئی رشتے دار ہو تو ماں کا حق باقی ہے یاماں کے سوا کوئی اور عورت مثلاً بہن خالہ وغیرہ۔البتہ اگر ماں نے کسی ایسے مرد سے نکاح کیا ہے جو بچے کا محرم رشتے دار نہیں تو اب اس کو بچے کی پرورش کا حق نہیں رہالیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹھوس ثبوت کے ساتھ یہ بچے ماں کی تحویل میں بھی دئیے جا سکتے ہیں۔ ٭…بچے کے غیر محرم سے نکاح کرلینے سے عورت کا حق ختم ہو گیا تھا لیکن اس مرد نے طلاق دی یا اس کا انتقال ہو گیا تو اب پھر اس کا حق لوٹ آئے گا اور بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا جائے گا۔٭…اگر ماں اور باپ اور ان کے رشتے داروں میں سے کوئی ایسا نہ ہو جو تحویل اور حضانت کا مستحق ہو تو ایسی صورت میںبچے کو ایسے شخص کے سپرد کر دیں گے جس پر قاضی اور عدالت کو ہر طرح سے اطمینان ہو گا۔اس مسئلے کے بارے میں اب سپریم کورٹ کے تحت قرار پایا ہے کہ بچی کی فلاح کو مد نظر رکھا جائے گا۔٭…لڑکا جب تک سات سال کا نہ ہو تب تک ماں کو اس کی پرورش کا حق ہے۔سات سال کا ہونے کے بعد باپ اسے زبر دستی لے سکتا ہے۔لڑکی کی پرورش کا حق نو سال تک رہتا ہے۔جب نو سال کی ہو گئی تو باپ لڑکی کو لے سکتا ہے۔اب ماںکو بیٹی کو روکنے کا حق نہیں ہے۔
حق حضانت سے متعلق چند مسائل اور خیار التمیزکا حکم:
عوام الناس کی آگہی کے لیئے پاکستان کے معروف عالم دین اور مفتی سے حق حضانت سے متعلق چند سوالات کئے ۔انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میںرہنمائی فرمائی۔
س:۔کن حالات میں عورت کو بچی کی حضانت سے محروم کیا جا سکتا ہے؟
ج:۔پرورش کرنے والی خاتون والدہ ہویا نانی ‘دادی یا خالہ وغیرہ ان کے لئے آٹھ شرائط ہیں۔1۔آزاد ہو‘ باندی کو پرورش کا حق نہیں۔ 2۔بالغہ ہو‘نابالغ کوبچی کو پرورش کا حق حاصل نہیں۔3۔عقل و شعور رکھتی ہو‘مجنونہ یا پاگل عورت کو پرورش کا حق حاصل نہیں ہو گا۔4۔زیر پرورش بچہ/بچی کی تربیت کے سلسلے میں اس پر اطمینان کیا جا سکتا ہو تا کہ وہ اس کے پاس ہلاک نہ ہو جائے۔مثلاً وہ گانے یا نوحے کو بطور پیشہ اختیار کرتی ہو اور گھر سے باہر نکل جاتی ہو جس سے بچہ/بچی کی ہلاکت کا خوف ہو۔5۔زیر پرورش بچے کی پرورش کرنے پراسے قدرت و اختیار حاصل ہو۔لہٰذا اگر وہ ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے بچے کی ضروریات پوری کرنا ممکن نہ ہو تووہ پرورش کی اہل نہ ہو گی۔6۔وہ مرتدہ نہ ہو یعنی دین اسلام قبول کر کے اسے چھوڑنے والی نہ ہو کیونکہ مرتدہ کی سزا قید ہے اور قیدی عورت بچے کی پرورش نہیں کر سکتی۔7۔اس عورت نے زیر پرورش بچے کے غیر محرم سے شادی نہ کی ہو۔اگر اس عورت نے بچے کے غیر محرم سے نکاح کیا ہو تو اس سے پرورش کا حق ختم ہو جائے گا۔8۔پرورش کرنے والی خاتون بچے کو اس شخص کے گھر میں نہ رکھے جو اسے نا پسند کرتا ہو۔
س:۔بچے اور بچی کی حضانت کی عمر کیا ہے؟
ج:۔والدہ کو سات سال تک بچے اور نو سال تک بچی کی پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے۔مذکورہ عمر کو پہنچنے کے بعد پرورش کا حق والد کو حاصل ہوجاتا ہے۔
س:۔حقیقی باپ کی موجودگی میںماں کے بعد خالہ‘نانی یا دادی حضانت کی حقدار کیوں ہیں؟
ج:۔بچہ سات سال تک اور بچی نوسال تک روز مرہ کی ضروریات مثلاًکھانا پینا اور استنجا وغیرہ میں مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔مرد کے لئے یہ امور سر انجام دینا آسان نہیں۔یہ امور والدہ یا دوسری عورت بخوبی بجا لا سکتی ہے۔لہٰذا اگر بچے کی والدہ نہ ہو یا اس کا حق کسی وجہ سے ختم ہو گیا ہو تو مذکورہ عمر تک بچے کی پرورش کا حق حقیقی والد کو نہیں بلکہ نانی ‘دادی یا خالہ کو حاصل ہو گا ۔
س:۔عورت علیحدگی کے بعددوسری شادی کر لے تو کیا پہلے شوہر کی بیٹی اپنے پاس رکھ سکتی ہے جبکہ بچی کا باپ اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہو؟
ج:۔اگر عورت علیحدگی کے بعد بچی کے غیر محرم سے شادی کرے تو پہلے شوہر کی بیٹی کی پرورش کا حق ختم ہو جائے گا اور یہ حق نانی‘دادی ‘بہنوں‘ خالاؤں یا پھوپھیوں کو حاصل ہو گا لیکن اگر وہ بچی کے محرم سے شادی کرے تو اس کا حق ختم نہیں ہو گا۔پہلے شوہر کی بیٹی کا حق اسے ہی حاصل ہو گا۔
دی گارڈینز اینڈ وارڈ ایکٹ1890ء اور ویسٹ پاکستان فیملی ایکٹ1964ئ:
وومین اسلامک لائرزفورم سے تعلق رکھنے والی ہائی کورٹ کی ایک معروف وکیل سے بچوں کی تحویل اور حضانت سے متعلق فیملی ایکٹ کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ
٭…عدالتوں میں بچوں کی تحویل اور حضانت کے معاملات دی گارڈینز اینڈ وارڈ ایکٹ1890ء کے سیکشن7اور10 اور ویسٹ پاکستان فیملی ایکٹ 1964ء کے تحت دئیے جاتے ہیں۔اگرماں یا باپ بچے کو زبردستی کسی دوسرے کی تحویل سے بھگا کر لے جاتاہے توکرمنل ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ ججCrPC کے سیکشن491کے تحت درخواست دی جاتی ہے۔
٭ …ایکٹ عدالتوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی نابالغ کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرے اور پھر عدالت کسی نابالغ کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔عارضی تحویل سے مراد میٹنگ(مختصر عرصے کی ملاقات) ہے یعنی اگر باپ عدالت میں درخواست دے کہ بچے کی سالگرہ میں اپنے گھر میں کرنا چاہتا ہوں یا عیدالفطر‘عیدالاضحی یاموسم گرما و سرماکی تعطیلات میں بچے کو دو تین دن کے لئے میرے گھر بھیج دیں۔٭… ایکٹ کے سیکشن 12کے تحت ماں اور باپ نابالغ بچے کی تحویل کے لئے درخواست دینے کے حقدار ہیں۔(جاری ہے)
بچوں کی تحویل اور حضانت‘ اہم معاشرتی مسئلہ…(دوسراحصہ)
09:26 AM, 23 May, 2025