بالآخر فیڈریشن آف چیمبرز پاکستان اور ملک بھر کے چیمبر کے شدید احتجاج کے بعد فروری 2025 میں ٹریڈ آرگنائزیشن (ترمیم) ایکٹ 2025لایا گیا تھا۔ حکومت نے بھی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاجروں کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے مطالبات مان لئے۔ یاد رہے یہ آرڈیننس 2023میں آیا تھا۔ فروری 2025میں اس بل میں یہ ترمیم کی گئی کہ چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے انتخابات 2025میں کرائے جائیں گے۔ اس بل کے آتے ہی تمام تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ خاص کر لاہور چیمبر کی موجودہ باڈی نے پنجاب بھر کے بڑے چیمبر کو لاہور بلا کر مشترکہ لائحہ عمل اپناتے ہوئے اس بل کو رد کر دیا۔ چیمبرز کے احتجاج کے علاوہ دیکھا جائے تو بل کی منسوخی کا اصل کریڈٹ فیڈریشن آف چیمبر پاکستان اور ان کے ساتھ پیاف کے چیئرمین میاں انجم نثار کو جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے کامرس کے وزیر اور سیکرٹری کامرس کے علاوہ DGTOکے ساتھ ملاقاتوں میں بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے ملک بھر کی تاجر برادری کے خدشات اور مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ ان تمام ملاقاتوں کا مقصد نہ صرف 2023 کے ترمیم آرڈیننس کو منسوخ کرانا تھا بلکہ مستقبل قریب میں آئندہ جو بھی آرڈیننس لائے جائیں گے ان میں تاجروں کو بھی بھرپور نمائندگی دی جائے گی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
حکومت نے ان ملاقاتوں اور لاہور چیمبر سمیت ملک بھر کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر ایک شق جس کے تحت انتخابات 2025میں ہونا تھے اس کو منسوخ کرتے ہوئے 14مئی کو قومی اسمبلی میں دوسرے ترمیمی ایکٹ کو منظور کر لیا۔ لہٰذا اب تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے انتخابات ستمبر 2026میں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے لے کر چلوں ایک نظر دوسرے ترمیم ایکٹ پر ڈالتے چلیں۔
چونکہ یہ مناسب سمجھا گیا ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ، 2013 (دفعہ II کا 2013) میں حسب ذیل اور آئندہ بیان کردہ مقاصد کے تحت مزید ترمیم کی جائے لہٰذا حسب ذیل ایکٹ بنایا جاتا ہے:
1۔ مختصر عنوان اور آغاز:
(1) اس ایکٹ کا نام ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) بل، 2025 ہوگا۔
(2) یہ ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) ایکٹ، 2025 (دفعہ IV کا 2025) کے آغاز سے ہمیشہ مؤثر تصور کیا جائیگا۔
2۔ دفعہ 11
ایکٹ II کا 2013 میں ترمیم:ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ، 2013 (دفعہ II کا 2013) کی دفعہ 11 میں، ذیلی دفعہ (1A) کو خارج کر دیا جائیگا۔
اغراض و مقاصد کا بیان:
1۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے انتخابات 2024 میں ہوئے، جن کی مدت 31 دسمبر 2025 تک ہے، تاہم آئندہ انتخابات دسمبر 2025 میں متوقع ہیں۔FPCCI کے ایک اہم مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کرتے ہوئے ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) ایکٹ، 2022 کے ذریعے عہدیداران کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کر دی گئی تھی تاکہ FPCCI اور دیگر تجارتی تنظیموں کی کارکردگی میں تسلسل رہے۔
2۔ تاہم، ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) ایکٹ، 2025 (دفعہ IV کا 2025) کے نفاذ کے بعد ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت دفعہ 11 کی ذیلی دفعہ (1) کے مطابق دو سال کی مدت صرف اْن منتخب عہدیداروں پر لاگو ہوگی جو اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد منتخب ہوئے ہوں۔ اس کے علاوہ، ایکٹ میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ تمام تجارتی تنظیموں کے انتخابات نئے سرے سے اس ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد کیے جائیں گے۔یہ شرط فیڈریشن، چیمبرز اور ایسوسی ایشنز جیسے اداروں کے معمول کے امور میں خلل ڈالنے کا سبب بن رہی ہے۔
3۔ تمام تجارتی تنظیموں کی بہتری اور تسلسل کے پیش نظر ضروری ہے کہ انتخابات ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) ایکٹ، 2022 کے تحت کرائے جائیں تاکہ اداروں کی مسلسل اور ہموار کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے لہٰذا، ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ، 2013 کی دفعہ 11 میں شامل ذیلی دفعہ (1A)، جو ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) ایکٹ، 2025 (دفعہ IV کا 2025) کے ذریعے شامل کی گئی تھی، کو اس ایکٹ کے نفاذ کی تاریخ سے خارج کرنا ناگزیر ہے۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ٹریڈ سیاست کے تین بڑے لیڈران کے درمیان بڑی ملاقات کا تذکرہ کیا تھا۔ ملاقات کی حد تک تو خبر درست ہے مگر بعد میں اس ملاقات بارے جو خبریں اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں مجھے پیاف کے رہنما محمد علی میاں یاد آ رہے ہیں ان کا ہمیشہ سے میڈیا کے ساتھ یہ گلہ رہا کہ خبر کی تصدیق کرنے کے بعد اس کو سامنے لائیں کیونکہ آپ کی دی ایک غلط خبر سے لاہور چیمبر کے پورے ماحول پر برے اثرات ڈالتی ہے۔ محمد علی میاں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے گزارش ہے کہ غلط خبر اور افواہ سازی کے ٹرینڈ کو ختم کرنا ضروری ہے مگر یہاں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ میڈیا کے سورس بھی ٹریڈ سیاست کے اندر موجود ہیں جو اپنی چوہدراہٹ میں میڈیا کو غلط خبریں فراہم کرتے ہیں۔ میں یہاں نام لئے بغیر ایک لیڈر کی بات کرتا چلوں جن کا تعلق لاہور چیمبر کے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دونوں بڑے لیڈروں کے درمیان معاہدہ تحریر کیا جا چکا ہے اور ایک دو روز میں ایک پریس کانفرنس میں معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ جبکہ میرے ذرائع کے مطابق اس خبر سے حقیقت کا دور دور تک واسطہ نہیں۔ خبر یہ ہے کہ ابھی دونوں اطراف سے ایک کمیٹی کی تشکیل کا عمل طے پانا ہے جو اس معاہدے کے ایس او پیز تیار کرے گی۔ اس کے لئے ایک وقت درکار ہے البتہ پاکستان بھر کی تاجر برادری اس ملاقات کو آنے والی ٹریڈ سیاست میں جہاں مثبت قرار دے رہی ہے۔ وہاں دوسری طرف یہ ملاقات مفاداتی اور گندی سیاست کے خاتمے کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ہمیں ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار کے اس موقف کی بھی تائید کرنا ہوگی کہ ٹریڈ سیاست کو بچانے کے لئے سب کو ایک میز پر تاجروں کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور یہ تب ہوگا جب تمام بڑی لیڈرشپ اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایک آواز بنیں گے۔
اور آخری بات…
بل پاس ہونے سے ہوا یہ کہ اب آنے والے ایک سال چند ماہ تک افواہ سازی کی فیکٹریاں اور من گھڑت خبروں کی چھوٹی دکانیں بند ہو جائیں گی اور ٹریڈ باڈی کے ماحول کو بہتر کرنے میں بڑی مدد ملے گی گو سال رواں ستمبر کا مہینہ بڑی تبدیلیوں کا موسم ہے اور پھر بقول احمد ندیم قاسمی کے …
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے، اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے
اتنا مانوس ہوں سناٹے سے، کوئی بولے تو برا لگتا ہے
تاجروں کی جیت
09:26 AM, 23 May, 2025