سندھ طاس معاہدہ

09:23 AM, 23 May, 2025

بھارت نے جس خود دساختہ نام نہاد پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کا اعلان کیا ہے اس پر تو بھارت کافی عرصے سے گامزن ہے اور اس نے پاکستان کا پانی مختلف طریقوں سے چرانا شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان کو پہلے ہی دریاؤں میں پانی کی کمی کا سامنا جب کہ بھارت نے بگلیہار ڈیم، پاکل دل ڈیم اورا س طرح کے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ اب بھارت نے سوچا کہ پاکستان کو اندرونی دہشت گردی نے پریشان کر رکھا ہے اس لئے اس میں اتنی سکت نہیں ہو گی تو کیوں نہ ایک خود ساختہ واقعہ پیدا کر کے سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دے۔ یہی بھارت کی سب سے بڑی غلطی تھی جب کہ اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے ہم اپنے کھیت تھوڑی بنجر ہونے دے سکتے ہیں اور پھر اس کا اسے جواب مل گیا۔ آج یہ صورتحال ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مٔوقف کو سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے اور بھارت کی جارحانہ روش پر کھلے الفاظ میں تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارت تو یہی چاہتا ہے کہ دریاؤں پر ڈیم بناتا رہے اور پاکستان کے دریاؤں میں بتدریج پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہوتی رہی تو پھر ہمارے سر سبز شاداب لہلہاتے کھیتوں کو بنجر ہونے سے کوئی نہ روک سکے گا۔ 
پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوششیں اس تلخ حقیقت کے باوجود کی جاتی رہیں کہ ہندو قیادت کی جانب سے پاکستان مخالف اقدامات آزادی کے بعد آغاز سے اب تک جاری ہیں۔سب سے پہلے بھارت نے فارمولا تقسیمِ ہند کے مطابق پاکستان کے حصے میں آنے والے کشمیر کے علاقے پر غاصبانہ قبضہ کر کے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا اور ایک ایسا تنازع کھڑا کر دیا جو 77سال گزرنے کے باوجود حل نہ کیا جا سکا ہے۔ اس کے بعد دانستہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ پیدا کیا گیا۔ اس مسئلے کو سندھ طاس معاہدے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن گزشتہ کچھ سال کے دوران اس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بھارت کے ڈیم تعمیر کرنے کے عمل سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور یہ ظاہر ہوا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکا ہے۔ لیکن یہ دوسری بات ہے کہ اب دنیا کے بدلے ہوئے انداز سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان اب وہ پاکستان نہیں جو 10 مئی کے اپنے طاقتور حملے سے پہلے تھا اور بھارت اب وہ بھارت نہیں رہا جو پاکستان کے بھرپور جوابی حملے سے پہلے تھا۔ 
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران جہاں دنیا بھر میں پانی کی انتظام کاری اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وہاں ہمارے ملک میں اس ایشو کو قابلِ غور نہیں سمجھا گیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہاں گزشتہ 50 برس کے دوران کوئی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلے میں غفلت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بھارت ڈیم پر ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کی آبی ناکہ بندی کرنے میں مصروف رہا جب کہ اس دوران ہمارے ہاں کی حکومتوں کی جانب سے اس کو روکنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے اور بھارت ہے کہ ڈیموں پر ڈیم بنا کر چناب، جہلم اور سندھ کا پانی روک کر پاکستانی زراعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ 60سے زیادہ ڈیم یا تو پایہء تکمیل کو پہنچ چکے ہیں یا تکمیل کے مراحل میں ہیں تا کہ پاکستان کو بنجر اور بوند بوند کا محتاج بنا دیا جائے اور یہ پاکستان نہ رہے اس کو ریگستان بنا دیا جائے۔ بھارت کی آبی جارحیت اعلانیہ طور پر اور کھلم کھلا جاری ہے۔ حقیقت میں بھارت کا ان ڈیموں کے ذریعے بغیر کسی جنگ کے پاکستان کو غلام بنانے کا ارادہ تھا۔بھارت کی بد نیتی اس وقت ظاہر ہو گئی تھی جب قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے اپنے علاقوں میں دریائے راوی پر بنے مادھو ہیڈ ورکس اور دریائے ستلج پر بنے فیروز پور ہیڈ ورکس کا پانی روک لیا تھا۔ 
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں چناب اور دوسرے دریاؤں کا پاکستان کو ملنے والا پانی روکنے کے لئے ڈیم تعمیر کئے جن میں کئی برس لگے مگر ہم اس تمام عرصہ میںخوابِ خرگوش میں مبتلا رہے اور سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا اس طرح نوٹس نہیں لے سکے جس طرح اس پر ردِ عمل ظاہر کیا جانا چاہئے تھا۔ اس کی واضح مثال دریائے چناب پر تعمیر ہونے والا بگلہیار ڈیم کے منصوبہ پر بھارت نے 1992ء میں ہی غور شروع کر دیا تھا جبکہ اس کی تعمیر کا آغاز 1999ء سے ہوا۔ پاکستان نے باقاعدہ تعمیر شروع ہونے کے بعد تین سال تک بھی اس ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ 2002ء میں ہوش آیا تو پہلے مذاکرات کے ذریعے ڈیم کے ڈیزائن کو تبدیل کرانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر مذاکرات کی ناکامی پر 2005ء میں پاکستان معاملے کو ورلڈ بینک میں لے گیا لیکن وہاں بھی اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ بھی بھارتی عزائم سے بچا ہوا نہیں ہے۔ کارگل کے مقام پر دریائے سندھ پر بھارت نے چوری چھپے 35کلو میٹر طویل آبی سرنگ بنا کر دریائے سندھ کے35فیصد پانی کو اپنے دریاؤں میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو کہ ڈھٹائی کے ساتھ چوری کی ایک شرمناک مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھارت دریائے سندھ پر بجلی کے پیداواری منصوبوں کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان ڈیموں کے پاکستانی دریاؤں پر تعمیر ہونے کے بعد پاکستان کا کیا حال ہو گا۔اس مسئلہ پر ابھی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ 
تیزی سے ابتر ہوتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ پانی کی یہ قلت دور کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے ایک تو دستیاب پانی کے باسہولت استعمال کو یقینی بنایا جائے اور دوسرا اپنے حصے کا پانی حاصل کرنے کے لئے بھارت سے ٹھوس بنیادوں پر بات چیت کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے دریاؤں پر متعدد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر کے ملک میں آبی ذخائر قائم کرنے چاہئے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اگر پانی کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل قریب میں یہ مسئلہ بہت زیادہ شدت اختیار کر جائے گا اور پھر اس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہئے کہ اس بحران کو بڑھانے میں ہم نے خود بھی کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے بڑے آبی ذخیرے ساٹھ کی دہائی میں مکمل ہوئے تھے اور اس کے بعد کے عرصہ میں قائم ہونے والی حکومتوں نے کوئی آبی ذخیرہ تعمیر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اس بڑھتی ہوئی ضرورت کا واویلا ہر دور میں کیا جاتا رہا لیکن اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیاجس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

مزیدخبریں