بھارتی فلم انڈسٹری بھارت میں بسنے والوں کی پسند کے مطابق فلمیں تیار کر لیتی ہے جو باکس آفس پر کامیاب رہتی ہیں لیکن ’’ڈرامہ‘‘ آج بھی ان کے بس کی بات نہیں لگتی، اس کی وجوہات لاتعداد ہیں، بھارت کا تیار کردہ ڈرامہ ’’پہلگام‘‘ بری طرح فلاپ ہوا ہے، کمزور کہانی، بے جان ہدایت کاری تمام کردار کہیں فضاء میں تھے، زمین پر کوئی نظر نہ آیا۔ ہیرو، ہیروئن، ولن غرضیکہ کوئی بھی ہٹ نہ ہو سکا۔ انہیں چاہئے اس حوالے سے پاکستانی رائٹرز کی خدمات حاصل کریں جن کے لکھے ڈرامے جس روز سکرین کی زینت بنیں، گلیاں ویران اور بازار سنسان ہو جاتے ہیں۔ فلاپ ترین ڈرامے پہلگام کے بعد بھارت کی نئی ڈرامائی پیشکش ہے ’’جوتی ملہوترا‘‘ یہ درجنوں ایپی سوڈ پر مشتمل ڈرامہ ہے۔ اس میں کیا، کیا اتار چڑھائو دیکھنے کو ملیں گے اور انجام کیا ہوگا یہ جاننے سے پہلے بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی نیٹ ورک کے سربراہ کلبھوشن کا واقعہ یاد کر لیجئے جسے پاکستان کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی نے اس کے تمام کارندوں کے ساتھ گرفتار کیا، کوئی ایک نہ تھا جو بچ کر نکل سکا۔ دہشت گردوں کا سربراہ کلبھوشن ایک کمشنڈ افسر ہے۔ آج کل بھی پاکستان کی تحویل میں ہے، بھارت اسے بچا لے جانے میں اب کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، جاسوس جب پکڑا جائے تو پھر وہ جس ملک سے تعلق رکھتا ہے وہ اس سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔ رسمی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تاکہ دیگر جاسوسوں کو باور کرایا جا سکے کہ ان کا ملک ان کے پیچھے کھڑا ہے۔
کلبھوشن واقعے کی ’’ون لائن‘‘ اٹھا کر نیا ڈرامہ لکھوایا گیا ہے جس کے پہلے ہی ایپی سوڈ میں درجنوں جھول ہیں۔ یہ بھی بری طرح فلاپ ہو جائے گا۔ سکرپٹ کے مطابق -13مئی کو دلی میں پاکستانی مشن کے ایک افسر پر ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر اسے چوبیس گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد اسی رات ریانہ کے علاقے حصار میں نصف شب کے وقت بھارتی پولیس کی بھاری نفری نے چھاپہ مارا اور ایک لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جوتی ملہوترا ہے، درمیانہ قد، کھلتا ہوا گندمی رنگ، چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک، اظہار خیال پر مجبور، سیاہ گھنے بال اور بھرا بھرا جسم، لاہوریوں کی زبان میں آپ اسے ’’ٹوٹا لڑکی‘‘ کہہ سکتے ہیں، جوتی یو ٹیوبر ہے، ٹریولر ہے، اس کے یو ٹیوب چینل پر پونے چار لاکھ سبسکرائبر اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد فالورز ہیں، وہ اچھے پیسے کما رہی ہے، آگے اور بہت آگے جانا چاہتی ہے جو ہر یو ٹیوبر کی خواہش ہوتی ہے، تین روز تک مقامی پولیس کی حراست میں رہنے کے بعد -16مئی کو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی جس میں الزام لگایا گیا کہ وہ پاکستان کیلئے جاسوسی کر رہی تھی۔ اہم اطلاعات اور دستاویزات پاکستان تک پہنچا رہی تھی۔ بتایا گیا کہ وہ درجن سے زائد ملکوں کا سفر کر چکی ہے وہ گزشتہ برسوں میں تین مرتبہ پاکستان آئی، مختلف شہروں میں گھومی، مختلف ثقافتی تقریبات میں شریک ہوتی رہی جس میں بیساکھی میلہ، پاکستانی دوستوں کے ساتھ مختلف شادیوں میں شرکت اور دیگر فائیو سٹار سیر سپاٹوں میں اتنا مصروف رہی کہ ایک وزٹ میں اس نے چودہ روز پاکستان میں ویزے کی مدت سے زیادہ قیام بھی کیا۔ اس نے ایک مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات اور دیگر مصروفیات کی تصویریں اور ویڈیوز وہ اپنے ٹریول لاگ میں ڈالتی رہی۔ بھارتی پولیس نے اس کے تین موبائل فون اور لیپ ٹاپ اپنے قبضے میں لے کر اس کا فرانزک کرانے کے لئے بھیج دیا ہے جس کی جانچ کی جا رہی ہے، اس کے چار بینک اکائونٹس کی چھان بین ہو چکی ہے جس میں کسی طرف سے کوئی بڑی رقم نہیں آئی۔ اس پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک افسر کے ساتھ رابطوں میں کچھ زیادہ ہی رہتی تھی جو ویزا سیکشن میں فرائض انجام دے رہا تھا دونوں کی متعدد تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں کوئی ایک بھی قابل اعتراض قرار نہیں جا سکتی، یہ روٹین کی تصویریں ہیں جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بنواتے ہیں اور اس میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس سے رابطوں میں رہنے والے درجنوں افراد کو بھارت کے مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں یامین، شہزاد، سورج سنگھ، نومان سنگھ، شریف، کرتار، تعریف، تنویر اور شہباز نامی اشخاص شامل ہیں جبکہ غزالہ نامی ایک خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کا خاوند فوت ہو چکا ہے وہ پاکستان اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آ چکی ہے۔ بھارتی پولیس ہریانہ اور یوپی کے کچھ رہائشیوں سے تفتیش کر رہی ہے لیکن ابھی تک اسے اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی۔ بھارتی میڈیا سنسنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ آج کل اس کا سودا خوب بک رہا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر دو گھنٹے بعد ایک بریکنگ چلاتا ہے جس میں جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا، بریکنگ کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں۔ جوتی ملہوترا پاکستان میں شادی کر چکی ہے، اس کے خاوند کا تعلق حساس ادارے سے ہے، وہ چار ماہ کی حاملہ ہے، اس کی ڈائری ملی ہے جس میں اہم ترین افراد کے نام، نمبر اور دھماکہ خیز چیزیں شامل ہیں۔ اس کے وٹس ایپ سے پیغامات حاصل کر لئے گئے ہیں پھر وہ پیغامات سکرین پر چلائے جاتے ہیں حالانکہ حصار پولیس نے جوتی ملہوترا کے گھر سے جو چیزیں بھی قبضے میں لی ہیں وہ کسی کی رسائی میں نہیں ہیں۔ بھارتی میڈیا کا اٹھایا ہوا طوفان جاری تھا کہ حصار کے ایس پی شمشان کمار کی پریس کانفرنس آ گئی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ جوتی ملہوترا کے قبضے سے کوئی ایسی چیز کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جو الزامات کی تصدیق کرتا ہو۔ اس کے کسی دہشت گرد یا پاکستان خفیہ ایجنسی سے رابطوں کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ اس پریس کانفرنس کے باوجود بھارتی میڈیا کی بکواس اور پاکستان پر الزام تراشیاں جاری ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب ایسا کچھ نہیں تھا تو پھر اسے گرفتار کیوں کیا گیا؟ جوتی ملہوترا کی پاکستان کے حوالے سے تمام ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے وہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، اہل پاکستان کی خوش اخلاقی، مہمان نوازی اور امن پسندی کی بات کرتی نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہے پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی تاثر میں کوئی حقیقت نہیں ہے یہاں آزادی ہے، ریل پیل ہے، تفریحی مقامات ہیں، رنگین راتیں ہیں اور وہ سب کچھ ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں ہے۔ وہ پاکستانی شہروں اور تفریحی مقامات کی تعریف کرتی نظر آتی ہے، یہ سب کچھ بھارتی حکومت کو کیسے اچھا لگ سکتا ہے۔ وہ تو پیدا ہونے والے بھارتی بچے کو پاکستان کے خلاف نفرت پڑھاتے ہیں جس طرح اسرائیل میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ دوسری اہم وجہ پہلگام کے بعد بھارتی ایئر فورس کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کو شکست ہوئی، پاکستان نے ان کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دیئے جس پر مودی حکومت کے خلاف نفرت آسمان پر جا پہنچی ہے۔ رافیل کی موت کوئی چھوٹا نقصان نہیں ہے۔ بھارت کا ایک وفد دنیا کو اپنی جھوٹی رام کہانی سنانے کے لئے دورے پر ہے اس کو بیچنے کیلئے بھی کچھ سودا درکار تھا پس ان تمام ضروریات کے تحت یہ پراجیکٹ لانچ کیا گیا۔ بھارت دلی میں پاکستانی کمیشن بند کرے گا یہ سب اس کی جنگ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
نیا فلاپ ڈرامہ جوتی ملہوترا
09:23 AM, 23 May, 2025