فیلڈ مارشل یعنی ؟؟؟

09:22 AM, 23 May, 2025

ہمیں سب سے پہلے بحیثیت پاکستانی اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔ ہمیں ریاست زیادہ عزیز ہے یا کوئی سیاسی پارٹی ؟؟؟ ہم ملک سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا کسی فرد سے؟؟ کیا ہم وطن کی خاطر اختلاف کو ترک کر سکتے ہیں؟؟ یا پھر اختلاف کی خاطر وطن کو ترک کر دینا دانشمندی ہو گی؟ملک کی پالیسی سازی اور اہم فیصلے ہماری پسند نہ پسند پر ہی موقوف ہونے چاہئیں یا اس ضمن میں پہلے ملک کا فائدہ اور ملک کی بہتری کو دیکھنا ضروری ہو گا اور پھر انفرادی رائے یا مفاد کو فوقیت دی جانی چاہیے یا اجتماعی مفاد اور ترقی کو مد نظر رکھنا ضروری ہے؟؟ ایسے بہت سے سوالات کے جوابات ہم جانتے ہیں۔ یقیناً ہم ان تمام صورتوں میں اپنی ریاست، اپنے وطن کے حق میں جواب دیں گے۔ لیکن اگر ہم بعض لوگوں کے رویوں پر غور کریں تو صورتحال اس سے مختلف معلوم ہوتی ہے۔ چلیے میں آپ کے سامنے اس سے بھی سادہ سوال رکھتا ہوں مجھے اپنے ریاستی اداروں کی تعریف کرنی چاہیے یا دشمن ملک کے ریاستی اداروں کی؟؟ اپنے ریاستی اداروں اور محکموں پر نکتہ چینی کرنی چاہیے یا دشمن ملک کے اداروں اور محکموں پر؟؟ یقیناً ان سب سوالات کے جوابات سادہ طور پر اپنے اداروں کی حمایت میں سامنے آئیں گے۔ لیکن پھر بعض لوگوں کے رویے اس کے بر عکس ملیں گے۔ 
ہم اس کنفیوژن سے باہر نکلے بنا قوم اور ملک کے تصور کو نہیں سمجھ سکتے۔ ہمیں طے کرنا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں سب سے زیادہ اپنا وطن عزیز ہے اور ہم اپنے اداروں سے کم از کم اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا حب الوطنی ہم سے تقاضا کرتی ہے۔  میں اس موقع پر یہ سوالات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جب حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ ملکی تاریخ میں وہ دوسری شخصیت ہیں جن کو یہ اعزاز ملا ہے۔ اسی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اعزاز حاصل کرنا کس قدر مشکل کام ہے ورنہ عاصم منیر صاحب ہماری پوری تاریخ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے صرف دوسرے شخص نہ ہوتے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں انھیں پاکستانی فوج کی کمان سونپی گئی۔ کوئی ملک کے دیوالیہ ہونے کی دہائی دے رہا تھا تو کوئی خانہ جنگی کی طرف اشارے کر رہا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا نے سری لنکا جیسی خوفناک مثالوں سے خوف و ہراس پھیلانا شروع کر دیا تھا۔ بعض ملک دشمن عناصر لوگوں کو خونی بغاوت پر اکسانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس عزم اور حوصلے کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب ملک کسی شخصیت کو فیلڈ مارشل کے رتبے سے نوازتا ہے، تو وہ محض ایک فوجی اعزاز نہیں ہوتا، بلکہ ایک پوری قوم کی طرف سے اس غیرمعمولی قیادت اور لازوال خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا فیلڈ مارشل کے عہدے تک پہنچنا نہ صرف ان کی ذاتی محنت، اصول پسندی اور حب الوطنی کا ثبوت ہے، بلکہ پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک سنہری باب کا اضافہ بھی ہے۔
جنرل عاصم منیر کا عسکری سفر ہمیشہ شفاف کردار، پیشہ ورانہ دیانتداری اور غیر متزلزل قیادت کا آئینہ دار رہا ہے۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے اہم ترین انٹیلیجنس اداروں کی قیادت سے لے کر پاک فوج کی کمان سنبھالنے تک، انھوں نے ہر مرحلے پر ایسی حکمت عملی اختیار کی جس نے نہ صرف اندرونی استحکام کو تقویت دی، بلکہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں بھی پاکستان کو مضبوط اور باوقار موقف عطا کیا۔
 ان کی قیادت کی سب سے نمایاں مثال حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران دیکھی گئی، جب دشمن نے جارحیت کا راستہ اپنانے کی کوشش کی۔ اس نازک مرحلے پر جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ حکمت عملی، خاموش لیکن مؤثر سفارتی حربوں اور بھرپور عسکری تیاری نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ ان کی زیرِ قیادت پاکستانی افواج نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کو یہ واضح پیغام بھی دیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
یہ جنگ، جو اگر مکمل تصادم میں تبدیل ہو جاتی تو خطے کو بدترین بحران میں دھکیل سکتی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تدبیر اور بروقت فیصلوں کی بدولت محدود رہی اور یہ پورا خطہ ایک بڑی جنگ سے دور رہا۔ عالمی برادری نے بھی ان کی قیادت کو سراہا، اور اندرونِ ملک قوم نے ایک بار پھر اپنی فوج پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ اب جب وہ فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، تو یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں، بلکہ اس نظریے کی فتح ہے کہ دیانت، بصیرت اور بے غرض خدمت ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے نہ صرف دشمنوں کو شکست دی، بلکہ دوستوں کے دل بھی جیتے۔ ان کا فیلڈ مارشل بننا نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ فرض کی راہ میں ثابت قدمی، اخلاقی استقامت، اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینا کس قدر نتیجہ خیز ہوتا ہے۔
یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت آج پاکستان کے لیے ایک استعارہ بن چکی ہے۔ استحکام، عزتِ نفس اور غیر متزلزل قیادت کا استعارہ۔ قوم ان پر فخر کرتی ہے، اور ان کی رہنمائی میں ایک پرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب مزید حقیقت کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ آخر میں ثروت حسین کا شعر ملاحظہ ہو۔
اس جنگجو نے نام بتایا نہیں مگر
چہرے کی تاب و تب سے سکندر لگا مْجھے 

مزیدخبریں