جنگ اور معاشی حکمت عملی

09:17 AM, 23 May, 2025

پاکستان اور بھارت جنگ کے معیشت پر کیا اثرات ہوں گے اور مؤثر حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے آج کا اہم سوال ہے موجودہ معاشی ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی معیشت 3.7 ٹریلین ڈالر پر کھڑی ہے اور اس کا 25-2024 کا فوجی بجٹ 75 ارب ڈالر ہے۔ ماہرین کے مطابق فوری فوجی تنازع سے بھارت کو 20 سے 50 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان فوجیوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کی صورت میں ہو گا۔ بھارتی مجموعی قومی پیداوار کی شرح بھی ایک سے تین فیصد تک گرسکتی ہے جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو اس کی معیشت کا حجم 375 ارب ڈالر ہے اور اسکا فوجی بجٹ 7 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی 2.6 فیصد سالانہ پر ہے جنگ سے پاکستان کا نقصان 10 سے 15 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔ بھارت میں معروف سیاحتی مقامات پر سیاحت بری طرح گرسکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں صنعتوں اور فصلوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد بھارتی سرکار نے اپنا دفاعی بجٹ مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے (بھارتی) کا اضافہ ہے جو پانچ ارب 85 کروڑ ڈالر بنتے ہیں۔ اس کا اعلان آنے والے ضمنی بجٹ میں متوقع ہے، کسی فوج کیلئے صرف ہتھیاروں کی خریداری ہی اہمیت نہیں رکھتی اس کی تربیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر فوج کی معیاری تربیت نہ کی جائے تو صرف ہتھیاروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ بھارتی سرکار نے شکست کے اثرات کم کرنے کیلئے دفاعی بجٹ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر جنگی سازو سامان کے حساب سے موازنہ کیا جائے تو بھارت کے پاس پہلے ہی پاکستان سے زیادہ جدید جہاز ڈیفنس سسٹم اور دس گنا زیادہ دفاعی بجٹ ہے اس کے باوجود اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 7 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے جبکہ بھارت کا دفاعی بجٹ 86 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ صرف رافیل پروگرام پر تقریباً 16 ارب ڈالر خرچ کئے گئے۔ پاکستان نیوی کا بجٹ تقریباً 900 ملین ڈالر ہے جبکہ انڈین نیوی کے صرف آئی این ایس وکرانت کا بجٹ تقریباً تین ارب 10 کروڑ ڈالر ہے۔ پاکستان تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر نئے ہتھیاروں کی خرید پر خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت تقریباً 22 ارب ڈالر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرتا ہے۔ اگر ایئر فورس کا موازنہ کریں تو مالی اعتبار سے اس میں بھی بہت فرق ہے۔ پاکستان نے 36 J10C تقریباً 40 ملین ڈالر فی جہاز کے حساب سے خریدے تھے جبکہ بھارت نے 36 رافیل طیارے تقریباً 280 ملین ڈالر فی جہاز کے حساب سے خریدے ہیں۔ پاکستان سے شکست کے بعد عوامی اور سٹرٹیجک سطح پر یہ رائے تقویت اختیار کر رہی ہے کہ پاکستان میں دفاعی سامان خریداری کا معیار اور چیک اینڈ بیلنس بھارت سے بہتر ہے۔
پاکستان ایک سپاہی پر تقریباً 11ہزار 363 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت ایک سپاہی پر تقریباً 57 ہزار 333 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اس طرح بھارت ایک فوجی پر پاکستان کی نسبت تقریباً پانچ گنا زیادہ بجٹ خرچ کرتا ہے۔ پاکستان کا سالانہ ملٹری پنشن بجٹ تقریباً دو ارب ڈالر ہے جبکہ بھارت کا ڈیفنس پنشن بجٹ تقریباً 17 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے پاس تقریباً چودہ سو ٹینک ہیں جبکہ بھارت نے صرف ایک مخصوص کوالٹی کے 17 سو ٹینک آرڈر کیے ہیں۔ 2012ء سے آج تک بھارت ڈیفنس بجٹ تقریباً 748 ارب ڈالر بڑھا چکا ہے دنیا کے جدید ترین طیارے اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کر چکا ہے لیکن اتنے بڑے بجٹ سے صرف 87 گھنٹوں کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ اس سے یہ تاثر تقویت اختیار کر جاتا ہے کہ بھارت دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ کر کے بھی جنگ نہیں جیت سکتا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دفاعی طاقت بڑھانے میں بجٹ اہمیت نہیں رکھتا۔
مالی سال 2026ء میں دفاعی بجٹ میں 18 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان چین سے ففتھ جنریشن طیارے لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید گیارہ شرائط عائد کر دی ہیں۔ آئی ایم ایف کو مطمئن رکھنا اور دفاعی بجٹ میں اضافے کو بھی ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی مشکل فیصلے بروقت کئے گئے جن کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ آج J10C کی دنیا میں دھوم ہے۔ پاکستان نے جب چین سے ان طیاروں کا معاہدہ کیا تھا تو معاشی حالات کمزور تھے۔ نہ چاہتے ہوئے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کیا گیا۔ جنوری 2022ء میں سٹیٹ بینک سے متعلق قانون اسمبلی میں تبدیل کیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام بحال ہوا اور فروری 2022ء میں ایک ارب ڈالر کی قسط ملی۔ قسط ملنے کے چار ہفتوں کے بعد چھ جے 10 سی طیارے پاکستان پہنچ گئے۔ اگست 2022ء میں آئی ایم ایف کے اجلاس میں مزید 1.1 ارب ڈالر پاکستان کو دیئے گئے۔ جس کے چند دن بعد J10C  کے مزید چھ طیارے خریدے گئے۔ پاکستانی معیشت اس وقت بہتری کی جانب گامزن ہے ڈیفالٹ کا خطرہ بھی نہیں ہے بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کر کے جنگ تو رکوا لی ہے لیکن وہ کس وقت پاکستان پر دوبارہ حملہ کر دے اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ معیشت ہو یا جنگ دونوں میں بروقت فیصلوں اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ پچھلے پچاس سال میں 87 گھنٹوں میں لڑی گئی مہنگی ترین جنگ تھی جس میں ایک گھنٹے میں تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہوا۔ 87 گھنٹوں کا مطلب ہے 87 ارب ڈالر اس جنگ کی نذر ہو گئے جس میں تقریباً 80 فیصد خرچ بھارت کا ہوا۔ بھارت کا یومیہ نقصان تقریباً 16 ارب ڈالر ہوا اور پاکستان کا یومیہ نقصان تقریباً 4ارب ڈالر ہوا۔ چار دنوں میں تقریباً 15 ارب ڈالر نقصان ہوا۔ یہ رقم پاکستان کے کْل ڈالر ذخائر کے برابر ہے۔ اگر یہ جنگ 30 دن تک جاری رہتی تو بھارت کا تقریباً 550 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا تھا اور پاکستان کا نقصان تقریباً 125 ارب ڈالر سے زیادہ۔ یہ رقم پاکستان کے غیر ملکی قرض کے برابر ہے۔ پاکستان کا کْل قرض تقریباً 135 ارب ڈالر ہے۔

مزیدخبریں