نیویارک / اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا دھماکہ ہوا ہے، جس کے اثرات نے پاکستانی پیٹرولیم سیکٹر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حکومت نے ہائی آکٹین پر عائد لیوی میں یکمشت بھاری اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سپلائی میں تعطل کے خدشات نے قیمتوں کو مہمیز دے دی ہے۔ برطانوی برینٹ کروڈ قیمت 112.86 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ امریکی کروڈ (WTI) عالمی منڈی میں 99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی انرجی مارکیٹ کو غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی قیمتوں میں اس تلاطم کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے ہائی آکٹین پر لیوی کی شرح میں بڑا ردوبدل کیا ہے۔ ہائی آکٹین پر فی لیٹر لیوی بڑھا کر 200 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل ہائی آکٹین پر لیوی کی شرح 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر تھی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ اور ملکی ریونیو اہداف کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ہائی آکٹین پر لیوی میں اس قدر بڑے اضافے سے نہ صرف لگژری گاڑیوں کا استعمال مہنگا ہو جائے گا بلکہ اس کا اثر بالواسطہ طور پر دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو عام پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
عالمی توانائی بحران: خام تیل 112 ڈالر سے متجاوز، پاکستان میں ہائی آکٹین پر لیوی میں قریباً 100 فیصد اضافہ
01:58 PM, 23 Mar, 2026