بلوچستان من گھڑت بیانیے سے ترقی و خوشحالی کی حقیقت تک

09:31 AM, 23 Mar, 2026

بلوچستان کے حوالے سے ایک طویل عرصے تک ایک مخصوص اور من گھڑت بیانیہ تشکیل دیا جاتا رہا جس میں محرومیوں، ناانصافیوں اور پسماندگی کا ذکر کر کے بلوچ عوام کو ریاست کے خلاف گمراہ کیا جاتا رہا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں۔ اس بیانیے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا، یہاں کے وسائل سے فائدہ اٹھایا گیا مگر عوام کو ان کا حق نہیں دیا گیا، اور صوبے کو ترقی کے دھارے سے الگ رکھا گیا۔ اس تاثر کو بار بار دہرا کر ایک ایسی فضا قائم کی گئی جس میں بداعتمادی، شکوک و شبہات اور فاصلے پیدا ہوں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور ثقافتی تنوع کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ساحلی پٹی عالمی تجارت کےلئے انتہائی موزوں ہے، جبکہ اس کی سرحدیں اسے علاقائی روابط کا ایک اہم مرکز بناتی ہیں۔ ان تمام عوامل کے باوجود اگر کسی دور میں ترقی کی رفتار سست رہی تو اس کے مختلف اسباب ہیں، جن میں ظالمانہ سرداری نظام اور ذاتی مفادات شامل تھے، مگر اسے دانستہ محرومی کا نام دینا درست نہیں۔ گذشتہ برسوں میں ریاست کی طرف سے اس تاثر کو ختم کرنے کےلئے جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہے۔ آج بلوچستان میں ترقی کا سفر کئی بڑے منصوبوں کی صورت میں نظر آتا ہے جنہوں نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس سلسلے کا ایک اہم سنگ میل ہے جس کے ذریعے بلوچستان کو بین الاقوامی تجارت کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔ سی پیک کے تحت سڑکوں کا جال بچھایا گیا، مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا گیا اور ایسے انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی گئی جس نے دور دراز علاقوں کو مرکزی دھارے سے جوڑ دیا۔ اس سے نہ صرف لوگوں کی آمد و رفت آسان ہوئی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ گوادر پورٹ بلوچستان کی ترقی کا ایک اور روشن باب ہے جو آج ایک ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلئے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ذریعے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارت کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے، فری زونز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی نے اس شہر کو ایک جدید بندرگاہی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مقامی افراد کےلئے روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ بلوچستان کی معدنی دولت کو بروئے کار لانے کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس منصوبے کے تحت سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر کو نکالنے اور استعمال میں لانے کا عمل جاری ہے اور یہ ملک کی معیشت کو مضبوط کر رہا ہے۔ بلوچستان میں معاشی وسماجی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، انفراسٹرکچر کی بہتری آئی اور علاقے میں ترقی ہوئی۔ چاغی میں ہنر ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ، سکولوں اور نوکنڈی جیسے پسماندہ علاقے میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ انڈس ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گرین انیشی ایٹو پاکستان اور خصوصی سرمایہ کاری کونسل (SIFC) کے تحت زراعت اور دیگر شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں زراعت کے وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ پانی کے بہتر استعمال، جدید کاشتکاری کے طریقوں اور زرعی منصوبوں کے ذریعے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کسانوں کی زندگیوں میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری نے بھی صوبے کی معیشت کو مستحکم بنایا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی بلوچستان میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ امن و امان کے قیام کےلئے کیے گئے اقدامات نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو بحال کیا بلکہ سرمایہ کاروں کےلئے بھی ایک سازگار ماحول فراہم کیا۔ جب کسی علاقے میں امن قائم ہوتا ہے تو ترقی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور بلوچستان میں یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس تمام ترقی کے باوجود منفی بیانیے کو فروغ دینے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، مگر حقائق اسکے برعکس ہیں۔ آج بلوچستان میں سڑکیں بن رہی ہیں، بندرگاہیں فعال ہو رہی ہیں، معدنی وسائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے، زراعت ترقی کر رہی ہے اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری آ رہی ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں ترقی اور خوشحالی اس کی پہچان بن رہی ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ یہ صوبہ اب صرف وسائل کا مرکز نہیں بلکہ ایک فعال معاشی حب اور تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والی ترقی نہ صرف مقامی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ترقی مزید تیز ہو گی اور بلوچستان پاکستان کی معیشت میں ایک مرکزی کردار ادا کرے گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلوچستان کے حوالے سے جو منفی بیانیہ ایک طویل عرصے تک پیش کیا جاتا رہا، وہ اب اپنی افادیت کھو چکا ہے، بلوچ عوام جان چکے ہیں کہ ان کو فتنہ الہندوستان کی پراکسی تنظیموں نے اپنے مفادات کےلئے استعمال کیا، ان کے بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کے ہتھیار تھمائے گئے اور دہشتگردی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان آج ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ایک نئی داستان رقم کر رہا ہے اور یہ سفر مسلسل جاری ہے۔

مزیدخبریں