متیلڈا لوسیل کی کہانی

09:30 AM, 23 Mar, 2026

قارئین کرام! ابتر عالمی حالات اور وطن عزیز کو درپیش موجودہ نازک ترین صورتحال میں سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے میں نے لکھا تھا کہ سوشل میڈیا ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جو بیک وقت تخریب کے ساتھ تعمیر کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ اگر اسے شعور، اعتدال اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ برتا جائے تو یہی سوشل میڈیا اصلاح و آگہی کا سب سے م¶ثر ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔ متیلڈا لوسیل کی ایسی ہی ایک سبق آموز کہانی سوشل میڈیا پر گذشتہ دنوں میری نظر سے گزری تو میرا دل چاہا ہے کہ میں اسے آپ کے ساتھ شیئر کروں۔ ”متیلڈا لوسیل ایک خوبصورت ترین عورت تھی۔ اس کی شادی لوسیل نامی نوجوان سے ہوئی جو تعلیم کے محکمے میں معمولی تنخواہ پر کام کرتا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔ متیلڈا اس زندگی سے انتہائی بیزار تھی وہ ہر وقت سوچتی رہتی ”کیا ہوتا اگر میں امیر گھرانے میں پیدا ہوتی اور میرے پاس خوبصورت لباس اور قیمتی زیورات ہوتے“۔ اس کا شوہر اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ روز کہتا ”متیلڈا! تم بہت خوبصورت ہو خوش رہا کرو“۔ لیکن وہ خوش نہیں تھی، اسے اپنی غریبی پر شرم آتی تھی۔ ایک دن شام کو لوسیل گھر آیا تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ ”متیلڈا! دیکھو کیا آیا ہے“۔ متیلڈا نے لفافہ کھولا۔ اس میں ایک کارڈ تھا جس پر لکھا تھا ”وزیر تعلیم مسٹر اور مسز ریمون کی طرف سے ایک شام کی دعوت“۔ متیلڈا کا چہرہ اُتر گیا۔ ”یہ کیا ہے؟“۔ لوسیل نے کہا ”میں نے بہت مشکل سے یہ دعوت نامہ حاصل کیا ہے اس میں بہت ساری اعلیٰ شخصیات آئیں گی، میں چاہتا تھا کہ تم خوش ہو جا¶“۔ متیلڈا نے آنکھیں بند کر لیں ”میں نہیں جا سکتی“۔ ”کیوں؟“۔ ”میرے پاس کوئی اچھا لباس نہیں ہے، ان امیر عورتوں کے درمیان میں کیا پہن کر جا¶ں گی؟“۔ لوسیل نے کچھ سوچا اور پھر بولا ”کیا چار سو فرانک میں ایک اچھا لباس مل سکتا ہے؟“۔ متیلڈا نے آنکھیں کھولیں چار سو فرانک اس کے شوہر کی پوری بچت تھی۔ ”ہاںشاید مل سکتا ہے“ اس نے آہستہ سے کہا۔ لباس کا بندوبست ہو گیا مگر متیلڈا پھر بھی پریشان تھی۔ ”اب کیا ہوا؟“ لوسیل نے پوچھا۔ ”میرے پاس زیورات نہیں ہیں، میں بغیر زیورات کے کیسی لگوں گی؟“۔ لوسیل نے کہا ”تم قدرتی پھول لگا سکتی ہو وہ تمہیں بہت خوبصورت لگتے ہیں“۔ متیلڈا غصے سے بولی ”تم چاہتے ہو کہ میں غریب عورتوں کی طرح پھول لگا کر جا¶ں؟“۔ لوسیل نے پھر کچھ سوچا ”مسز فورسٹیئر تمہاری دوست کے پاس بہت زیورات ہیں ان سے کوئی زیور ادھار لے آ¶“۔ متیلڈا خوش ہو گئی وہ اگلے دن مسز فورسٹیئر کے پاس گئی۔ مسز فورسٹیئر نے اپنے زیورات کا ڈبہ کھولا متیلڈا کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ ہیرے، یاقوت، نگینے، موتی اس نے ایک ایک کر کے زیور اٹھائے، دیکھے لیکن کسی سے دل نہیں بھرا۔ ”کچھ اور ہے؟“ اس نے پوچھا۔ ”دیکھو، شاید یہ تمہیں پسند آئے“۔ یہ ایک ہار تھا سیاہ مخمل پر جڑا ہوا، بہت خوبصورت، بہت قیمتی لگ رہا تھا۔ متیلڈا کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ”یہ .... یہ مجھے دو گی؟“۔ ”ہاں، کیوں نہیں“۔ متیلڈا نے ہار گلے میں ڈالا۔ آئینے میں دیکھا تو اسے خود پر رشک آ گیا۔ ”بس یہی چاہیے میں یہ لے جاتی ہوں“۔ ”لے جاﺅ“۔ دعوت کی رات متیلڈا سب سے خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کا لباس شاندار تھا، ہار اس کے گلے میں چمک رہا تھا، اس کے بال سنہری اور اس کی آنکھیں جادوگر تھیں۔ وزیر کے محل میں جب وہ داخل ہوئی تو سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ مرد اسے دیکھتے رہ گئے، عورتیں اس سے حسد کرنے لگیں۔ وہ رات بھر ناچتی، ہنستی اور خوشی سے جھومتی رہی۔ وہ بھول گئی کہ وہ غریب ہے اور یہ ہار ادھار کا ہے۔ صبح کے چار بجے وہ گھر واپس آئی۔ لوسیل سو گیا تھا اس نے آخری بار آئینے میں دیکھنا چاہا۔ آئینے میں اس کا عکس تھا خوبصورت، خوش انداز، شاندار۔ پھر اس نے چیخ ماری اس کے گلے میں ہار نہیں تھا۔ لوسیل اچھل کر اٹھا۔ ”کیا ہوا؟“۔ ”میں نے مسز فورسٹیئر کا ہار کھو دیا“۔ لوسیل کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ انہوں نے پورا گھر چھان مارا ہار کہیں نہیں ملا۔ وہ رات بھر گلیوں میں گھومتا رہا، محل واپس گیا، راستے کا کونا کونا دیکھ لیا مگر ہارنہیں ملا۔ صبح گھر آیا تو متیلڈا رو رہی تھی ”اب کیا ہو گا؟ وہ کہے گی کہ میں نے چرا لیا“۔ لوسیل نے کہا ”ایک ہی راستہ ہے ہم نیا ہار خرید کر دے دیں گے“۔ ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟“۔ لوسیل نے کہا ”میں کل دکانوں پر پہلے یہ معلوم کروں کہ ایسا ہار کہاں ملے گا اور کتنے کا ملے گا“۔ اگلے روز وہ ایک دکان پر گئے۔ دکاندار نے ایک ہار نکالا۔ ”یہ چھتیس ہزار فرانک کا ہے“۔ لوسیل کا دل بیٹھ گیا۔ چھتیس ہزار! اس کی پوری زندگی کی کمائی نہیں تھی لیکن وہ ہار بالکل ویسا ہی تھا۔ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ لوسیل نے کہا ”ہم لے لیں گے“۔ وہ اپنے دوستوں سے ملا، بینک گیا، سود خوروں سے ملا۔ اس نے قرضے لیے اور آخرکار چھتیس ہزار جمع ہو گئے۔ اس نے وہ ہار خریدا اور مسز فورسٹیئر کو دے دیا۔ مسز فورسٹیئر نے ہار کو قریب سے دیکھا بھی نہیں اور اسے ڈبے میں بند کرکے الماری میں رکھ دیا۔ اب چھتیس ہزار فرانک قرضہ تھا وعدے اور ضمانتیں تھیں۔ لوسیل دن رات دو جگہ کام کرنے لگا۔ متیلڈا نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے لگی۔ خود بازار جاتی، کپڑے دھوتی اورفرش صاف کرتی۔ اس کے ہاتھ کھردرے ہو گئے، اس کے بال بے رونق ہو گئے، اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑ گئے۔ وہ قرض اتار رہی تھی مہینے پر مہینہ، سال پر سال دس سال لگ گئے۔ دس سال میں انہوں نے سب قرض اتار دیا۔ ایک دن متیلڈا بازار جا رہی تھی۔ اس کی عمر اب چالیس کے قریب تھی وہ بوڑھی اور تھکی ہوئی لگتی تھی۔ اچانک اس کی نظر ایک عورت پر پڑی۔ وہ عورت جوان خوبصورت اور مہنگے کپڑوں میں تھی۔ متیلڈا اسے پہچان گئی۔ وہ مسز فورسٹیئر تھی وہ اس کے پاس گئی۔ مسز فورسٹیئر نے اسے دیکھا مگر پہچان نہیں سکی۔ متیلڈا نے کہا ”میں امتیلڈا لوسیل ہوں“۔ مسز فورسٹیئر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ”اوخداوندا یہ تم ہو؟ کیا ہو گیا تمہیں؟“۔ متیلڈا مسکرائی۔ ”میں نے دس سال قرض اتارا ہے تمہارے ہار کے لیے“۔ ”میرے ہار کے لیے؟“۔ ”ہاں میں نے اس رات تمہارا چھتیس ہزار فرانک کا قیمتی ہار کھو دیا تھا پھر ہم نے تمہیں نیا خرید کر دے دیا“۔ مسز فورسٹیئر نے متیلڈا کا ہاتھ پکڑا۔ ”متیلڈا! میرا ہار اصلی ہیرے کا نہیں تھا۔ اس کی قیمت صرف پانچ سو فرانک تھی“۔ متیلڈا کھڑی رہ گئی اس کے چہرے سے سارا رنگ اتر گیا۔ اس کی جوانی، اس کی خوبصورتی، اس کی زندگی سب اس نقلی ہار پر قربان ہو گئے۔ اس کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ وہ صرف دیکھتی رہی مسز فورسٹیئر کو، اس کی جوانی کو اس کی خوبصورتی کو اور اپنے کھردرے ہاتھوں کو۔“

مزیدخبریں