سماجی زندگی میں گھریلو اخلاقیات کی اہمیت

09:56 AM, 23 Mar, 2025

ہر تباہ حال تہذیب جہالت اور وحشت کے قد آور درخت کا پھل ہوتی ہے جو اس کے تنے سے بہت دور جا کر گرتی ہے۔سماج میں جب نیکی اور پاک دامنی۔۔۔ برائی ، دولت اور جرم کے سامنے سر تسلیم خم کر لے تو یقین کر لیجئے کہ وہ معاشرہ اخلاقی گراوٹ اور معاشی استحصال میں بہت آگے بڑھ گیا ہے ، جس کا اختتام ایک ایسی بند گلی پر ہے جہاں سبھی گھر تباہی کے آسیب میں جکڑے ہوئے ہیں اور روشنی ملنے کا امکان عبث ہے۔آج کا پاکستانی معاشرہ بچوں اور خواتین کے حوالے سے جس اخلاقی تنزلی کا شکار ہے وہ کوئی تازہ قصہ نہیں اور نہ ہی چند برسوں میں یہ گراوٹ ہمارا مقدر بنی ہے کہ چند سال کی بچی اور بچہ حتیٰ کہ قبر میں مدفن عورت ہوس کا نشانہ بنائی جا رہی ہے۔ یہ سب شاید پہلے سے ہو رہا تھا تاہم لوگ اب خاموشی توڑ رہے ہیں ، اس کی وجہ سماجی ترقی یا قوانین نہیں ہیں بلکہ اس کی اہم ترین وجہ آگہی کا پھیلاؤ ہے جو صرف میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ممکن ہو سکی۔ عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے خطاب کرتے سنا: ’’یہ کون سا دن ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ، آپ نے فرمایا: ’’تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت و تقدس ہے، خبردار! جرم کرنے والے کا وبال خود اسی پر ہے، خبردار! باپ کے قصور کا مواخذہ بیٹے سے اور بیٹے کے قصور کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا۔
اتنے واضح پیغام کے باجود بگاڑ کہاں سے آ رہا ہے ؟؟؟۔ ہماری ہواؤں ، فضاؤں یہاں تک کہ اشیائے خورونوش میں کیا شامل ہے جو ہمیں منفیت کے دائرے میں لیکر گم ہو رہا ہے؟ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کا تدارک کرنا ضروری ہو گیا ہے۔اگر شروع سے دیکھا جائے تو بچوں کی کردار سازی میں اولین درس گاہ گھر ہے ،گھریلو ماحول جس میں وہ ابتدائی سانس لیتے ہیں وہی انہیں عمر بھر کے لیے آکسیجن فراہم کرتی ہے۔ یہ ہوائیں جتنی ہموار اور صاف ستھری ہوں گی بچے اتنی ہی خوبصورت شخصیت کے مالک ہوں گے ، فضائیں جتنی آلودہ ہوں گی شخصیت اتنی ہی بدبودار ہو گی چاہیے تعلیم کی کتنی ہی ملمع کاری کیوں نہ کر دی جائے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد کس طرح اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ کوئی ان سے آگے نہ نکل جائے۔ ترقی نہ کر لے۔ دوسرے کی کامیابی ان کے اندر حسد اور جلن کے جذبات پیدا کر دیتی ہے پھر وہ سازشیں بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی صورت حال کھلی جنگ میں بھی ڈھل جاتی ہے اور اچھائی کے سبھی پہلو ہوا میں اڑا دیئے جاتے ہیں ، جبکہ دونوں اپنے اپنے مقدر کا کھا رہے ہیں پھر دوسرے کے حصے پر اپنا حق سمجھنا چہ معنی۔ 
محاورہ ہے کہ دیگ کا ایک دانہ ہی دیگ کے اندر کی پوری کہانی بتا دیتا ہے اسی طرح ایک شخص کا سماجی کردار اس کے پورے خاندان کی سوچ و فکر کا تعین کر دیتا ہے اور حسب نسب پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسا گھریلو ماحول جس میں اچھی روایات کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس میں پرورش پانے والے بچے بڑے ہو کر کم از کم استحصالی سوچ سے محفوظ ہوتے ہیں مگر استحصالی نظام کی چکی میں پس ضرور جاتے ہیں۔سہنے اور برداشت کی تربیت فرد گھر سے سیکھ کر معاشرے میں نکلتا ہے۔ دوسروں کے لئے اپنے جیسا سوچنے کا درس پیدا کرنے والے دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سماج آپ کو وہی لوٹاتا ہے جو آپ اسے دیتے ہیں ماسوائے اگر آپ 
کی کوئی آزمائش نہ آئی ہو۔ گھر کا ماحول انسانیت سیکھاتا ہے اس کے بعد باری آتی ہے تعلیمی اداروں کی جہاں ذہنی تربیت استاد کرتا ہے۔ اگر گھر میں بچے کو بہتر ماحول یا تربیت نہیں ملے گی، کردار سازی نہیں ہو گی تو ایسے بچے اچھے شہری اور انسان نہیں بن سکیں گے۔ کیونکہ خود غرضی کی تربیت انہیں گھر سے ملی ہوتی ہے جہاں جو اچھا لگا اسے حاصل کر لو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر شخص ان جیسا نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سچ سامنے آنے پر دوسرے کا ردعمل کیا ہوگا۔ تعلق یا رشتے کا مستقبل کیا ہو گا؟مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے تھے تو ہمیں ایک بات سمجھائی جاتی تھی کہ بچوں سچ بولنا ہے کیونکہ اس کا نقصان کوئی نہیں۔ آپ جو ہو جیسے ہو ویسے دوسروں سے ملو۔ لوگ آپ سے فاصلہ رکھتے ہیں یا تعلق یہ ان پر چھوڑ دیں۔ آپ کا دامن جھوٹ اور فریب کی آلودگی سے پاک ہونا چاہیے۔ پھر جو آپ کا ہے آپ کے لیے ہے آپ کو مل کر رہے گا اور اگر غلط سامنے آئے گا تو آپ خود ہی پیچھے ہٹ جاؤ گے۔
 یعنی بات پھر گھوم پھر کر تعلیم سے زیادہ تربیت پر آ جاتی ہے جس کا مرکز گھر اور اس کا ماحول ہے۔ مگر آج کے والدین معاشی ڈور میں لگ کر اپنے بچوں کو بھول گئے اور جب بچے کی تربیت ماں کی بجائے کوئی ملازم یا ملازمہ کے ہاتھوں ہو گی جن کا کام ڈائپر تبدیل کرنا ہوتا ہے تو پھر ان کی ذہنی نشوونما کیسے ہو گا ہم سمجھ سکتے ہیں۔ بعض مڈل کلاس خاندان اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت محتاط ہوتے ہیں وجہ وہ جانتے ہیں کہ بگڑ گئے تو کسی کا کچھ نہیں جانا سارے خسارے ان کے حصے میں آنے ہیں۔ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے بچے کو معاشی اور عملی زندگی میں جس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے وہ اس میں تبھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جب ان میں صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت ہو گی اور بلاشبہ یہ شعور آپ کو پہلے گھر والے دیں گے ،معاشرہ دے گا، استاد دے گا اور سب سے اہم آپ خود بھی اپنے آپ کو یہ شعور دیں کہ گالی کھانی ہے یا دعا لینی ہے۔ یعنی گھریلو اخلاقیات اور ماحول فرد کی سماجی حیثیت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

مزیدخبریں