ہم جب بڑے ہو رہے تھے تو کان میں یہی ڈالا گیا کہ پوری دنیا کی کمان صرف وہ ملکوں کے پاس ہے ایک امریکہ دوسرا روس پاکستان امریکی بلاک میں ہے اور بھارت روسی بلاک میں یہ ہمارا پہلا پہلا سیاست سے تعارف تھا اس کے بعد جوں جوں شعور کی آنکھ کھلتی چلی گئی یہ حقیقت بھی کھلتی چلی گئی جس خطہ ارض میں ہم پیدا ہو گئے ہیں۔ ہماری معاشی اور اقتصادی تقدیر بدلنا ناممکن ہے۔ بعدازاں چند کالم نگاروں نے بھی ہماری نسل میں جتنا احساس کمتری بحیثیت قوم بھر سکتے تھے بھرا....
پاکستان کچھ نہیں بنا سکتا۔ انڈیا شائیننگ انڈیا ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ.... خیر گزشتہ جنگیں تو ہماری کم سنی میں گزر گئیں مگر جو جنگ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کا تو ایک ہی مطلب بنتا ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور اس کے خلاف چند مخصوص سیاست دان پراپیگنڈہ کر کے دیتے ہیں۔ ماضی کے دانشوروں نے تو ہماری زندگیاں امریکہ کے ایک بٹن دبا کر ختم کر دینے سے مشروط کر رکھی تھیں اور آج کا حال دیکھیں امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف ”چوں“ بھی کیا تو کم جونگ ان نے ”تڑی“ لگا دی کہ ہمارے بلیسٹک میزائلوں کا بٹن ہماری میز پر رہتا ہے اس کے بعد مجال ہے جو امریکہ نے آواز بھی نکالی ہو میزائلوں کے مارک کرنے کی رفتار ہی امریکہ کے لئے کافی ہے۔
وہ جنگ جو امریکہ میدان جنگ میں ہار چکا ہے۔ تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے کاندھے پر چڑھ کر مذاکرات کی ٹیبل پر جیتنا چاہتا ہے یہ بھی طے ہے کہ وینزویلا کے حکمران کو زندہ اُٹھا لینے اور ایرانی سپریم لیڈر کو شہید کر دینے کے بعد بھی ا مریکہ کا Terror دہشت قائم نہیں ہوا۔ امریکی جہازوں کا جو حشر ہوا ہے آبنائے ہرمز میں 3 ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ناکہ بندی کئے ہوئے امریکی بحری بیڑے میں جو آگ بھڑکی ہے اس نے امریکی حکمرانوں کو بھی ”چانن“ کر دیا ہے۔ کہ ”جنگ کھیڈ نئیں ہوندی یہودیاں دی“ یہودیوں کا ذکر ہی چل پڑا تو یہ عقدہ بھی کھلنا چاہے کہ امریکہ کی اسرائیل کے لئے ازلی حمایت میں اس درجہ تیزی اور شدت کیوں آئی تو اس کا سیدھا سا جواب جیرڈکشنر ہے جو خالص یہودی اور ٹرمپ کا داماد ہے۔ یعنی داماد صرف پاکستانی سیاست ہی میں اہم نہیں امریکی سیاست میں بھی اس کا خاص مقام ہے۔
ٹرمپ کی بیٹی ایوانیکا یعنی جیرڈکشنر کی بیوی نے بھی 2009ءمیں یہودیت قبول کر کے بچوں کو بھی یہودی تعلیمات کے زیراثر پالا ہے۔ نیتن یاہو کا جو حد سے بڑا ہوا نخرہ ہے۔ اس کے سٹیٹس میں داماد کا دوست ہونا بھی اہم ہے وہ جب بھی امریکہ آتا ہے تو سٹیٹ گیسٹ بننے یا ہوٹلوں میں رہنے کی بجائے جیرڈکشنر کے گھر رہتا ہے۔ اس نے ٹرمپ سے جو منوانا ہو وہ جیرڈکشنر کے ذریعے کہلواتا ہے پاکستان انتہائی حساس مذاکرات جو ایران امریکہ جنگ کے درمیان ہوئے اس کی سربراہی میں بھی جیرڈکشنر شامل تھا۔ جے ڈی وینس کے سر بھی سہرا بندھتے بندھتے رہ گیا اگلے امریکی انتخابات سے قبل اور نوابل پرائز کی آس میں ٹرمپ کبھی یہ افورڈ نہیں کرتے کہ جے ڈی وینس تمام تر عزت افزائی سمیٹ کر جنگ بندی کا سہرا اپنے سر سجا لے۔ خیر اس ضمنی موضوع کے علاوہ ٹرمپ نے ایران کو بار بار دھمکیاں دے کر اپنی شہرت کو بھی ”بٹہ“ لگایا اور امریکہ کی دہشت بھی ختم کی۔ پنجابی میں کسی بہت ہی عقل مند نے یہ محاورہ بنایا ہو گا.... کہ ”کھوتا کھواِچ“ (گدھا کنوئیں میں ترجمے کا کبھی مزہ نہیں آتا)۔ یعنی نا ہی یورینیم ”چُک“ کے لے جا سکے نا ہی ہرمز کی اپنی ناکہ بندی سے فائدہ اٹھا سکے جو ”مائینز“ بچھانے کا خوف ایران ڈال چکا اس نے جہازوں سے ویسے ہی ہوا نکال رکھی تھی۔ کاروبار ”ہلہ شیری“ سے چلتے ہیں ”خوف“ سے ڈوب جاتے ہیں۔
تیسری بڑی پریشانی جو ایرانی تعمیرات کی ہے ابھی تک امریکہ ایک فنڈ بنا کر عربیوں سے پوری کرنا چاہتا ہے۔ یعنی عربی ہی عجمی کا نقصان پورا کریں مگر امریکی اقتدار جو شمالی کوریا، ویتنام، افغانستان اور فائنلی ایران سے بھی خوار ہو کر نکلا ہے تو حسب معمول پاکستان کی مدد کا خواستگار ہے۔ جتنی بڑی مشکل سے پاکستان نے امریکہ کو نکالا ہے اور کوئی نہیں نکال سکتا تھا چین اس کے لئے ایسا خاموش خطرہ بن رہا جس کا ٹریلر ٹرمپ کے دورہ چین کے درمیان چینی رہنما کے حسن سلوک سے صاف عیاں ہے یہ سچ ہے کہ دولت اور طاقت کی باڈی لینگویج ہی الگ ہوتی ہے۔ یوکرائن کے وزیراعظم اور چین کے وزیراعظم میں فرق ہوتا ہے۔ گو کہ وہ بھی ناپسندیدہ عمل تھا ٹرمپ نے جو طرز عمل اختیار کیا تو راجہ پورس اور سکندر والا واقعہ یاد آگیا جب راجہ پورس کو بے بس کر کے سکندر کے دربار میں پیش کیا گیا تو سکندر نے کہا کہ پورس تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے راجہ پورس نے کہا جو بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔ جس نے جواب میں سکندر نے نہ صرف اس کی سلطنت واپس کی بلکہ باعزت چھوڑ دیا مگر ٹرمپ کیا جانے ”ادرک“ کا سواد اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ذلت اور عزت کا معاملہ میرے رب نے خالصتاً اپنے ہاتھ میں رکھا ہے کہ جسے چاہے عزت دے جے چاہے ذلت دے یہ انسان کے بس کا کام نہیں کہ ذات اقدس جانتی ہے۔ حضرت انسان کتنا ظرف رکھتا ہے اور اس کے ہاتھ لوگوں کی پگڑیوں سے کتنے دور ہیں؟
طاقت امریکہ کے ہاتھ سے نکل رہی ہے
09:12 AM, 23 Jun, 2026