پنجاب حکومت کے چند کار پردازان کو داد دینی چاہئے ان کی وژنری اپروچ کو سراہا جانا چاہئے جنہوں نے حالات و واقعات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب میں سنٹر آف ایکسی لینس آن کائونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (COE-CVE) قائم کر دیا ہے ۔اس سنٹر کے تحت اعتدال و آشتی کا فروغ جبکہ منفی رویوں کی سرکوبی جیسے مستحسن اقدامات کی منصوبہ بندی کرکے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ یہ وہ منفرد اقدام ہے جس کے اثرات و نتائج کا براہ راست فائدہ عوام الناس اور معاشرے کو برابر ہو رہا ہے ۔ یہ امر نتیجہ خیزی میں اپنی مثال آپ ہے کہ نوجوان نسل اس وقت جن مسائل کا گہرے طریقے سے شکار ہو رہی ہے اورموجودہ دور میں دنیا کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں شدت پسندی، انتہاپسندی اور عدم برداشت سرفہرست ہیں۔ یہ رجحانات نہ صرف معاشرتی امن و استحکام کو متاثر کررہے ہیں بلکہ ہماری قومی ترقی، مذہبی ہم آہنگی، انسانی حقوق اور سماجی یکجہتی کے لیے بھی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان طویل عرصے سے دیدہ و نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یہ ذخم کھا رہا ہے ، اگر ہم اپنی قومی تاریخ کی بات کریں تو گزشتہ عشرہ اس حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ گزشتہ دہائی میں ہم نے اپنی نوجوان نسل کے ذہنوں کی حفاظت نہیں کی اور وہ غیر محسوس طریقے سے تباہ کن سیاسی بیانیے کی تشکیل کا شکار ہو کر بد تمیزی اور عدم برداشت کی رو میں بہتے چلے گئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بات عدم برداشت سے آگے بڑھ کر شدت پسندی و انتہا پسندی سے ہوتی ہوئی اپنے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والے فریق ثانی پر حملہ آور ہونے تک چلی گئی۔ یہ آگ اس تیزی سے پھیلی کہ ہمارا پورے کا پورا معاشرہ اس کا شکار ہو گیا ۔تاہم ریاستی اداروں، تعلیمی مراکز، مذہبی قائدین اور سول سوسائٹی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے۔ اس تناظر میں پنجاب حکومت، محکمہ داخلہ پنجاب اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے اشتراک سے شدت پسندی کے خاتمہ اور مکالمہ کی ضرورت و اہمیت کو جانچنے جیسے اہم موضوع کو لیکرپہلی بین الا قوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔یہ کانفرنس محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسے قومی بیانیے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے جو امن، برداشت، رواداری، اعتدال اور مکالمے پر مبنی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین، دانشوروں، اساتذہ، مذہبی رہنما¶ں، محققین اور پالیسی سازوں کی شرکت نے اس کانفرنس کو حقیقی معنوں میں بین الاقوامی حیثیت عطا کی۔ مختلف مذاہب، ثقافتوں اور فکری مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شدت پسندی کا مقابلہ صرف کسی ایک طبقے یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ فریضہ ہے۔شدت پسندی دراصل ایک فکری اور سماجی بیماری ہے جو اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے میں برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے احترام کی روایت کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب افراد یا گروہ اپنے نقطہ نظر کو ہی حرفِ آخر سمجھنے لگیں اور دوسروں کی آراءکو قبول کرنے سے انکار کر دیں تو معاشرہ انتہاپسندی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں مکالمہ ایک م¶ثر علاج کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مکالمہ انسانوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرتا ہے، غلط فہمیوں کو دور کرتا ہے اور باہمی اعتماد پیدا کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات بھی مکالمے اور اعتدال کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن کریم میں بارہا حکمت، موعظتِ حسنہ اور احسن انداز میں گفتگو کی تعلیم دی گئی ہے۔ رسول اکرم کی سیرتِ طیبہ مکالمے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ میثاقِ مدینہ اس حوالے سے دنیا کی پہلی تحریری سماجی دستاویز قرار دی جاسکتی ہے جس نے مختلف مذاہب، قبائل اور طبقات کو ایک ریاستی نظم کے تحت متحد کیا۔ یہی وہ اصول ہیں جو آج بھی شدت پسندی کے خاتمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی قوم کا پوٹینشل بڑی سے بڑی مشکل سے نکلنا جانتا ہے اور کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔اسی لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں و جامعات نے ہمیشہ علمی تحقیق و عملی سرگرمیوں کے ذریعے مثبت اقدار کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی ادارے کی نہج اور اس کے کلیدی مقصد کا اندازہ اس کی سرگرمیوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔اس کانفرنس میں شرکت کر کے معلوم ہوا کہ منہاج یونیورسٹی میں اس موضوع پر ایک باقاعدہ پیس اینڈ کاﺅنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جو شبانہ روز نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار کر رہا ہے۔ مذکورہ کانفرنس کے انعقاد میں منہاج یونیورسٹی کے اس ڈیپارٹمنٹ کے علاہ محکمہ داخلہ پنجاب کا کردار خصوصی طور پر قابلِ ستائش ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے حالیہ دنوںمیں امن و امان کے قیام، سماجی استحکام اور انسدادِ انتہاپسندی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔مختلف جامعات، دانشوروں، مذہبی سکالرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے مکالمے کی فضا پیدا کرنا اس ادارے کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری داخلہ پنجاب احمد جاوید قاضی کے علاوہ احمد خاور شہزاد اور ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی مستعد کاوشیں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں ۔ یہ امراپنی جگہ خوش آئند ہے کہ پنجاب حکومت نے شدت پسندی کے مسئلے کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک فکری، تعلیمی اور سماجی چیلنج کے طور پر لیا۔پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مثبت رہنمائی اور صحت مند مکالمے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت، محکمہ داخلہ پنجاب، پنجاب سنٹر آف ایکسی لینس آن کا¶نٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم، منہاج یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ، اساتذہ، منتظمین اور تمام قومی و بین الاقوامی شرکاءخراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کی کاوشوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں امن، رواداری اور اعتدال پسندی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور م¶ثر اقدامات جاری ہیں۔ ایسے علمی اور فکری اجتماعات نہ صرف قومی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک روشن، مہذب اور پرامن تشخص بھی اجاگر کرتے ہیںجس کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔
شدت پسندی کا خاتمہ بذریعہ
09:11 AM, 23 Jun, 2026