تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جب افراد محض افراد نہیں رہتے بلکہ ریاستی بیانیے کی علامت بن جاتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں کبھی سیاست دان مرکزی کردار بن جاتا ہے، کبھی کوئی دانشور اور کبھی کوئی سپہ سالار۔ پاکستان کی معاصر تاریخ میں جنرل عاصم منیر کا نام انہی شخصیات میں شمار ہونے لگا ہے جن کے گرد محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی مباحث بھی تشکیل پا رہے ہیں۔ چند برس قبل تک پاکستانی سیاست کا مرکز ایک شخصی بیانیہ تھا۔ جلسوں، نعروں اور سوشل میڈیا کی گھن گرج میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ریاستی ادارے، سفارتی تعلقات اور قومی سلامتی کے تمام مباحث پس منظر میں چلے گئے ہیں لیکن وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک سمت میں نہیں گھومتا۔ تاریخ کی عدالت میں نعرے نہیں، نتائج گواہی دیتے ہیں۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ آگ اور خون کے ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے، جب ایران اور اسرائیل کی کشمکش نے پورے خطے کو بے یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے، جب عالمی طاقتیں نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں، ایسے میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں جنرل عاصم منیر کا کردار محض فیلڈ مارشل یا آرمی چیف کا نہیں بلکہ ایک ایسے ریاستی نمائندے کا بن کر ابھرا ہے جس کی بات کو عالمی دارالحکومتوں میں توجہ سے سنا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ واشنگٹن سے لے کر ریاض اور بیجنگ تک پاکستان کے بارے میں ہونے والی گفتگو میں اب داخلی سیاسی بحران موضوع نہیں رہا بلکہ پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت دوبارہ مرکزِ نگاہ بن رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں عزت نعروں سے نہیں بلکہ ریاستی استحکام، عسکری صلاحیت اور سفارتی اوزان سے حاصل ہوتی ہے۔ سیاست کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر جذبات کو حقائق پر ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران یہی ہوا۔ عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ ریاست کے تمام مسائل کا سرچشمہ چند ادارے ہیں اور ایک فرد تمام مسائل کا حل ہے مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ریاستیں شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ اداروں کے استحکام سے چلتی ہیں۔ جنرل عاصم منیر کے دور میں پاکستان کو دہشت گردی کے نئے چیلنجز، معاشی دبا¶ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا رہا۔ ان حالات میں اگر پاکستان اپنی ریاستی ساخت کو برقرار رکھنے اور عالمی تنہائی سے بچنے میں کامیاب ہوا ہے تو اس میں عسکری قیادت کا کردار زیرِ بحث آنا ایک فطری امر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا جنرل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی شناخت عمران خان کے سیاسی بیانیے کی موت ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ سیاسیات کے اصولوں سے دینا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی بیانیے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ حقائق کو اپنے حق میں ثابت کر سکا یا نہیں اور اگر ایک بیانیہ مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہے کہ ریاستی ادارے عالمی سطح پر تنہا ہو رہے ہیں لیکن عملاً انہی اداروں کے نمائندے بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرتے نظر آئیں تو اس بیانیے کی صرف ساکھ متاثر نہیں ہوتی ہے بلکہ اُس کی مکمل موت واقع ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ تصور جس کے مطابق ریاستی ادارے مکمل طور پر عوامی اور عالمی حمایت سے محروم ہو چکے تھے اب زمینی حقائق سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی وہ افادیت کھو چکے ہیںجو کھوکھلے نعروں اورگمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے وقتی طورپرقائم ہو گئی تھی۔
سیاسی بیانیے اکثر جذباتی ہوتے ہیں جبکہ ریاستی بیانیے طویل المدت مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کئی بار مقبول ترین سیاسی نعرے وقت کے ساتھ دھندلا گئے جبکہ ریاستی ادارے اپنی جگہ قائم رہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت کے بارے میں میری رائے تو یہ ہے کہ وہ ایک مضبوط سپہ سالار ہیں لیکن حسد کی آگ میں جلنے والے جنہیں ”رحم عالم پناہ“ کی صدائیں لگاتے ہوئے مدت بیت گئی یقینا انہیں سخت گیر منتظم سمجھتے ہوں گے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ان کے دور میں پاکستان کی عسکری قیادت ایک بار پھر عالمی سفارتی مباحث کا حصہ بنی ہے۔ شاید اصل سوال یہ نہیں کہ عاصم منیر کامیاب ہوئے یا عمران خان کا بیانیہ ناکام ہوا۔ اصل سوال تویہ ہے کہ پاکستان نے ان بحرانوں سے کیا سبق سیکھا؟ کیا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ریاست اور سیاست ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں؟ کیا ہم نے یہ جان لیا ہے کہ شخصیات سے زیادہ اہم ادارے ہوتے ہیں؟ اور کیا ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ عالمی سیاست میں عزت صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ قومی طاقت کے مختلف عناصر کو یکجا کرنے سے حاصل ہوتی ہے؟۔
تاریخ نے اپنا آخری فیصلہ نہیں سنا دیا، عمران خان تاریخ کا سیاہ باب تھا جو بند ہو چکا اور عاصم منیر تاریخ کا وہ کردار ہیں جو ہمیشہ پاکستان کو دی جانے والی خدمات کے حوالے سے یاد رکھے جائیں گے۔ اس وقت کے منظرنامے میں ایک بات واضح دکھائی دے رہی ہے کہ پاکستان کے بارے میں عالمی گفتگو کا مرکز دوبارہ ریاستی استحکام، سفارتی اہمیت اور قومی سلامتی بنتا جا رہا ہے۔ شاید یہی وہ حقیقت ہے جو ہمارے عہد کے سیاسی مباحث کو نئی سمت دے رہی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں بالآخر وہی نام زندہ رہتے ہیں جو شور سے نہیں، اثر سے پہچانے جاتے ہیں۔ وقت نے فیصلہ کر دیا کہ جنرل عاصم منیر کا نام اس فہرست میں ہمیشہ سرِفہرست لکھا جائے گا جس نے پاکستان کے وقار کو سربلند کیا کہ وہ پاکستان کی معاصر تاریخ کے اہم ترین کرداروں میں شمار ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں برطانیہ کی پارلیمنٹ، خصوصاً ہا¶س آف لارڈز کے ارکان نے پاکستان کی امن و استحکام کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔ اسی طرح امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بھی گزشتہ چند برس کے دوران ایک نئی سنجیدگی دکھائی دی۔ امریکی انتظامیہ اور مختلف سفارتی فورمز پر پاکستان کے کردار کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ ریاستیں افراد کے بجائے اداروں سے تعلقات استوار کرتی ہیں۔ اس کے باوجود جب کسی فوجی رہنما کا ذکر بین الاقوامی سفارتی حلقوں، پارلیمانی مباحث یا عالمی میڈیا میں مثبت انداز میں ہونے لگے تو اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاریخ آخرکار نعروں سے نہیں، نتائج سے فیصلہ کرتی ہے۔ اگر پاکستان زیادہ محفوظ، زیادہ مستحکم اور زیادہ باوقار ریاست بن کر ابھرتا ہے تو اس کامیابی کا سہرا ان تمام سیاسی، عسکری اور قومی اداروں کے سر جائے گا جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ کار میںرہتے ہوئے وطن ِعزیز کو خدمات فراہم کیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ورلڈ چیئمپین بننا ایک ریاضت طلب کام ہے لیکن ورلڈ چیمپئن رہنا ریاضیت اور حکمت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایک مستقل اور پائیدار ریاست کیلئے امن اور استحکام کی ضرورت ہے جو فیلڈ مارشل کی موجودگی میں وطن عزیز کو ملا اور جس نے بتا دیا کہ تشہیرکارکردگی کا مترادف نہیں ہو سکتی۔
فیلڈ مارشل، تشہیر اورکارکردگی
09:10 AM, 23 Jun, 2026