جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا پاکستان مخالف ایجنڈا مستر

09:08 AM, 23 Jun, 2026


کشمیریوں کی پاکستان سے محبت ایک سنہری باب ہے جس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ پاکستان نے کشمیریوں کی جدوجہد کی ہمیشہ لاج رکھی یہی وجہ ہے کہ ہر کشمیری پاکستان سے محبت کا پرچار کرتا ہے۔ کچھ عرصے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا کھل کر سامنے آگیا ہے۔ مٹھی بھر عناصر عوامی حمایت کا ڈھونگ رچا کر ہر حدیں پار کر گئے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ملک دشمن قوتوں کی آلہ کار بنی یہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فسادات کو بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان سے محبت کو چیلنج کیا جا سکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عام کشمیری بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ آخر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کس راستے پر چل نکلی ہے ؟ ان کے نام نہاد لیڈروں کا ایجنڈا ہے کیا ؟ توڑ پھوڑ جلاو¿ گھیراو¿کس پالیسی کے تحت ہو رہا ہے ؟ املاک کو نقصان پہنچانا کہاں کا دستور ہے ؟ ریاست مخالف نعرے کس کے ایما پرلگ رہے ہیں؟جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کیلئے شروع ہونے والی تحریک اسکی سرکردہ قیادت کے باغیانہ اور مسئلہ کشمیر کی روح سے متصادم بیانات کی وجہ سے سیاسی سے زیادہ باغی گروہ بن چکی ہے۔ چند روز پہلے کور کمیٹی کے خواجہ مہران ارشد نے ایک انتہائی اشتعال انگیز بیان میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران اور جوانوں کو بغاوت پر اکسا کر وہ سرخ لکیر عبور کی جو کسی بھی کشمیری کیلئے نہ صرف تکلیف دہ بلکہ انکی عشروں سے جاری جدوجہد حق خود ارادیت کیلئے بھی زہر قاتل ہے۔ حکومت آزاد کشمیر نے اس 
ریاست مخالف ہرزہ سرائی کا نوٹس لیتے ہوئے خواجہ مہران کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جس پرعمل درآمد تاحال باقی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ صرف خواجہ مہران ہی نہیں۔۔ جنہوں ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کیلئے یہ حد عبور کی بلکہ شوکت نواز میر ، سردار امان اور عمر نذیر جیسے لیڈران اس طرح کے مذموم بیانات کے کئی دفعہ مرتکب ہوئے۔ انتشار اور تشدد کی ایسی روش کی وجہ سے نام نہاد عوامی حقوق کی چمپئن یہ کمیٹی کالعدم قرار پائی۔ یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ عوامی حقوق کے دل فریب نعروں کی بدولت عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام میں پذیرائی بھی حاصل کی۔ اِسی عوامی پذیرائی کی آڑ میں کمیٹی کے سرغنہ چار لیڈران نے اس کھیل کی ابتدا کی جو انکا اصل مقصد تھا یعنی عوامی حقوق کے ایجنڈے کو جواز بنا کر ایک غیر محسوس طریقے سے پاکستان مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی باریک واردات ڈالی گئی۔شاید ان عناصر کو نہیں معلوم تھا کہ پاکستان کا کشمیر سے رشتہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ اور عظیم حریت رہنما سید علی گیلانی کے ”ہم پاکستانی ہیں ۔ پاکستان ہمارا ہے“ جیسے نعروں کی اساس پر قائم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جوں جوں انکے اصل عزائم آشکار ہوتے گئے انکی تقلید کرنے والے محب وطن عوام میں انکے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اب عوامی نمائندگی سے محروم ہو کر محض چند ایسے عناصر کا گڑھ بن چکی ہے جو اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ملک دشمنی میں کوئی بھی حد پار کر سکتے ہیں۔ان عناصر کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ کشمیر کے ہر دوسرے گھر سے ایک فوجی بستا ہے۔ جس فوج کے خلاف وہ بغاوت کا کہہ رہے ہیں، اس میں سب سے زیادہ تعداد خود غیرت مند اور بہادر کشمیری جوانوں کی ہے۔انیس سو سنتالیس سے پروان چڑھی کشمیریوں اور پاکستان کی لازوال محبت کو چند کرائے کے مقررین اپنی زہر آلود تقریروں سے مٹا نہیں سکتے۔ ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف کوئی بھی غیر آئینی یا غیر اخلاقی زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایکشن کمیٹی کی غلط حکمت عملی اور ہٹ دھرمی نے راولاکوٹ کے معصوم مظاہرین کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے، جبکہ رہنماو¿ں کی تذلیل کی وجہ سے اب کوئی بھی غیر جانبدار سیاسی یا عوامی شخصیت ان کے لیے ثالثی کرنے کو تیار نہیں۔طویل دھرنوں اور ہڑتالوں نے کشمیر کے تاجروں اور کاروباری طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ معاشی پہیہ جام ہونے کی وجہ سے اب کاروباری طبقہ اس روز روز کے تماشے سے شدید تنگ آ چکا ہے۔ جسٹس (ر) منظور حسین گیلانی جیسے ان کے حمایتی بھی انکی پاکستان اور پاک فوج کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کو یکسر مسترد کر رہے ہیں۔ کور کمیٹی کے اہم رکن راجہ امجد ایڈووکیٹ کی اس تنظیم سے لاتعلقی صرف شروعات ہیں۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کئی اور سرکردہ رہنما بھی کمیٹی کے پاکستان خلاف ایجنڈے سے زچ ہو کر جلد راہیں جدا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام ایکشن کمیٹی کے ان چار سرغنوں کے اصل چہرے پہچانے اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کر کے جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی تجاویز پر بات چیت کریں۔

مزیدخبریں